Wed, September 16, 2026

ترقیاتی منصوبے اور ہڑتال کی کال!

ترقیاتی منصوبے اور ہڑتال کی کال!

وادی کشمیر، جو اپنے حسن اور خاموشی کے لیے جانی جاتی ہے، آج کل ایک ایسے فکری اور سیاسی ہیجان کی زد میں ہے جہاں عوامی حقوق اور ذاتی مفادات کے درمیان لکیریں دھندلا گئی ہیں۔ آزاد کشمیر کے پس منظر میں عوامی مطالبات، مہنگائی کا طوفان، بجلی کے بلوں کا بوجھ، انتظامی اصلاحات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے سلگتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاشی و انتظامی میثاق کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ عوامی اضطراب کو ایک قانونی، مرحلہ وار اور سنجیدہ طریقہ کار کے تحت تسلی بخش حل کی طرف لے جایا جائے۔ 
اس معاہدے کی روشنی میں حکومت نے محض کاغذی تسلیاں دینے کے بجائے عملی پیش رفت کا آغاز کیا۔ عوامی بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے مالی ریلیف فراہم کیا گیا، انتظامی ڈھانچے کی سرجری کی گئی، اور کثیر اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کو منظوری، فزیبلٹی، PC-1، ٹینڈرنگ اور وفاقی فورمز کے قالب میں ڈھالا گیا۔ لیکن حیرتِ گمشدہ کا مقام یہ ہے کہ اس واضح اور ملموس پیش رفت کے باوجود JAACکے قائدین نے 9 جون 2026 کو ایک بار پھر ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ اس احتجاجی پکار نے آزاد کشمیر کے سیاسی و سماجی ماحول میں کئی ایسے سنجیدہ اور تلخ سوالات کو جنم دیا ہے جن سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں رہا۔ جب مطالبات کی تعمیل ہو رہی ہو، جب عوام کی دہلیز پر ریلیف پہنچایا جا چکا ہو اور جب اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے عدم سے وجود کی طرف گامزن ہوں تو پھر مسلسل ہڑتالوں اور تصادم کی اس سیاست کو کیا نام دیا جائے؟ کیا یہ اب بھی عوامی حقوق کی جنگ ہے یا پھر یہ ”ذاتی ایجنڈے“،”سیاسی دکانداری“ اور انتخابی موسم میں حکومت کو دبا¶ میں لانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے؟ 
اگر حکومتی اقدامات کا منصفانہ جائزہ لیا جائے تو حقائق خود بولتے ہیں۔ تلخیوں کو مٹانے کے لیے حکومتی سطح پر 177 ایف آئی آرز واپس لی جا چکی ہیں جبکہ ماضی کے احتجاجی ہنگاموں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے پسماندگان اور زخمیوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے مجموعی طور پر 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بطور معاوضہ ادا کی جا چکی ہے۔ بجلی کے نظام میں ریلیف فراہم کرتے ہوئے 5 KW ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نافذ کر دی گئی ہے، اضافی سرچارجز کا خاتمہ ہو چکا ہے اور غریب عوام کی سہولت کے لیے بجلی کے بقایا جات کو 36 آسان اقساط میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ منگلا ڈیم منصوبے سے جڑے بجلی کے پرانے بقایا جات کو یکسر معاف کر دیا گیا ہے جبکہ صحت کی بنیادی سہولت کو ہر شہری تک پہنچانے کے لیے”صحت کارڈ“ کی سہولت کو کشمیری عوام تک توسیع دے دی گئی ہے۔انتظامی اصلاحات کے شعبے میں جہاں پہلے وسائل کا ضیاع ہوتا تھا اب محکموں کی کل تعداد کو سکیڑ کر 22 تک محدود کر دیا گیا ہے اور کابینہ کا حجم محض 20 وزراءتک کم کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں داخلوں اور سرکاری ملازمتوں میں اقربا پروری کا خاتمہ کر کے ”اوپن میرٹ پالیسی“ نافذ کی گئی ہے تاکہ حق دار کو اس کا حق مل سکے۔دوسری جانب ترقیاتی افق پر بھی ایک نمایاں تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ عوام کی صحت اور سفری سہولیات کے لیے اربوں روپے کے منصوبے تکنیکی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ان میں 5.5 ارب روپے کی لاگت سے MRI اور CT Scan منصوبے، 2.8 ارب روپے کا ہسپتال اپ گریڈیشن پروگرام اور بجلی کے بوسیدہ نظام کو جدید بنانے کے لیے 10 ارب روپے کے منصوبے شامل ہیں۔اس کے علاوہ نیلم ویلی اور کہوٹہ آزاد پتن روڈ جیسے اہم راستوں کے لیے فزیبلٹی سٹڈیز جاری ہیں اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے متعدد واٹر سپلائی سکیمیں بھی پائپ لائن میں ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان رہنما¶ں کو مسائل کے حل ہونے سے زیادہ مسائل کو زندہ رکھنے میں دلچسپی ہے کیونکہ اگر مسئلہ حل ہو گیا تو ان کی ”سیاسی دکان“ کا تالا ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا مگر اس سارے کھیل میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر ہڑتال اور شٹر ڈا¶ن کا زہر قاتل کسی سیاست دان کو نہیں بلکہ عام کشمیری کو پینا پڑتا ہے۔ جب بازار بند ہوتے ہیں تو دیہاڑی دار مزدور کا چولہا ٹھنڈا ہو جاتا ہے، تاجر کا کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے، طالب علم کی قلم و کتاب چھن جاتی ہے اور ہسپتال کے چکر کاٹتا مریض زندگی کی بازی ہارنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس، احتجاجی قیادت بند کمروں میں بیٹھ کر سیاسی شہرت، میڈیا کی توجہ اور ذاتی و انتخابی فائدے سمیٹتی ہے۔ یہ کیسی عوام دوستی اور کیسا دردِ دل ہے جس میں قربانی کا بکرا ہمیشہ غریب عوام کو بنایا جائے اور عیش و عشرت کے چراغ چند چہرے روشن کریں؟ 
یہاں آزاد کشمیر کے غیور اور باشعور عوام کو خود سے چند بنیادی سوالات کرنا ہوں گے کہ جب 32 نکات پر پیش رفت، 177 ایف آئی آرز کی واپسی، معاوضوں کی ادائیگی اور تاریخی مالی ریلیف دیا جا چکا ہے تو شوکت نواز، سردار عمر اور امان اللہ وادی کو دوبارہ جمود کا شکار کرنے پر کیوں بضد ہیں؟ جب ٹیرف ریلیف، سرچارج کا خاتمہ، اقساط کی سہولت، صحت کارڈ، اوپن میرٹ اور کڑی انتظامی اصلاحات نافذ ہو چکی ہیں تو کیا یہ نئی ہڑتال عوام کے مکھڑے پر مسکراہٹ لانے کے لیے ہے یا JAAC کی قیادت کی گرتی ہوئی سیاست کو سہارنے کے لیے؟ کیا احتجاج کرنے سے فزیبلٹی، CDWP اور ٹینڈرنگ کے پیچیدہ قانونی مراحل تیز ہو جائیں گے یا یہ ترقیاتی منصوبے مزید تاخیر اور التوا کا شکار ہو جائیں گے؟ کیا یہ قیادت عوام کو مکمل سچ بتا رہی ہے یا پھر ان کے جذبات کو ایندھن بنا کر اپنے انتخابی دبا¶ کی مہم چلا رہی ہے؟ کیا کسی بھی عام کشمیری نے ان چند خود غرض عناصر کو یہ حق اور اختیار دیا ہے کہ وہ ان کے بچوں کے مستقبل، بیماروں کے علاج اور روزمرہ کے روزگار کو اپنی سیاست کی نذر کر دیں؟ 
آزاد کشمیر کے عوام اب ایک دو راہے پر کھڑے ہیں۔ انہیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا وہ امن، روزگار، خوشحالی، کھلے بازار، فعال تعلیمی ادارے، چلتے ہوئے ہسپتال اور مکمل ہوتے ترقیاتی منصوبے چاہتے ہیں یا پھر ہر چند ماہ بعد ایک نیا شٹر ڈا¶ن، مصنوعی بحران اور چند چہروں کی سیاسی نمائش؟ وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیری عوام اپنے روشن مستقبل کا انتخاب کریں نہ کہ ان لوگوں کا جو ان کے بچوں کے مستقبل کو اپنی سیاست کا ایندھن بنانا چاہتے ہیں۔

ٹیگز: