Wed, September 16, 2026

طاقتور پاکستان اور سسکتا ہوا پاکستانی

طاقتور پاکستان اور سسکتا ہوا پاکستانی

مہنگائی کے اس بے رحم طوفان نے غریب کی بستیوں کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ اب ہر گھر سے صرف سسکیوں اور فاقوں کی سسکتی ہوئی آوازیں سنائی دیتی ہیں پیٹرول کی قیمت میں ہونے والا ہر اضافہ عام آدمی کے دل پر ایک نئے خنجر کی طرح وار کرتا ہے جس نے زندگی کے پہیے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ایک کالم نگار کی حیثیت سے جب میں سفید پوش باپ کے لرزتے ہاتھ اور بھوک سے نڈھال بچے کی مرجھائی ہوئی آنکھیں دیکھتا ہوں تو میرا قلم خون کے آنسو رونے لگتا ہے دل خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے جب یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نیپال سری لنکا بنگلہ دیش ویتنام اور فلپائن جیسے ایشیائی ممالک بھی ہماری طرح اپنی ضرورت کا تمام تیل باہر سے ہی امپورٹ کرتے ہیں مگر وہاں کی حکومتوں نے اپنے عوام کو اس طرح بے سہارا اور لاوارث نہیں چھوڑا وہاں قیمتیں اب بھی پاکستان کے مقابلے میں اتنی کم ہیں کہ غریب کا چولہا جل رہا ہے اور سانس کی ڈوری برقرار ہے مگر میرے وطن میں تو غریب کا کچومر ہی نکل گیا ہے اور حاکم وقت سنگدلی کی چادر اوڑھے سوئے ہوئے ہیں تصور کیجئے اس منظر کا جہاں ایک مزدور شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے اور اس کے معصوم بچے دہلیز پر امید کا دیا جلائے بیٹھے ہوتے ہیں مگر باپ کی جیب میں پیٹرول کی آگ کی وجہ سے روٹی کے چند نوالے بھی نہیں ہوتے یہ دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کہ ہم کس بے حسی کے دور میں جی رہے ہیں جہاں غریب فاقوں کی سولی پر لٹک چکا ہے اور انصاف صرف کتابوں کی زینت بن کر رہ گیا ہے۔
اگر مہنگائی کا یہ خونی اژدہا اسی طرح غریب کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑتا رہا تو آنے والے دنوں میں عام آدمی زندگی اور موت کی اس لکیر پر کھڑا ہوگا جہاں بقا کی کوئی امید باقی نہیں بچتی آنے والا بجٹ غریب عوام کے کچے مکانوں پر ٹیکسوں کی ایسی بجلیاں گرانے کو تیار ہے جو ان کے چولہوں کی آخری چنگاری بھی گل کر دے گا حکومت کی اندھی اور غلط ترجیحات نے ملک کے صنعتی پہیے کو اس طرح جام کر دیا ہے کہ ہر طرف تالے لٹک رہے ہیں اور روزگار کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں اس وحشت ناک بے روزگاری نے سفید پوش باپ کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ اپنے بچوں کو سسکتا دیکھ کر اندر سے مر رہا ہے جب کارخانے اجڑتے ہیں تو بستیاں ویران ہوتی ہیں اور جب بھوک حد سے بڑھ جائے تو غیرت اور قانون کے جنازے اٹھ جاتے ہیں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ بھوک انسانوں کو بھیڑیوں میں بدل دے گی اور پورے معاشرے کو جرائم اور خوفناک کرائم کے اس اندھے کنویں میں دھکیل دے گی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا ایک کالم نگار کا دل اس بھیانک مستقبل کے تصور سے ہی لرز اٹھتا ہے اور آنکھیں لہو روتی ہیں۔
حکمرانوںنے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے اور ایف بی آر جیسے ناکام محکمے کی چوری چھپانے کے لیے پیٹرول کی قیمتوں کو وہ جلاد بنا دیا ہے جو ہر پندرہ دن بعد معصوم عوام کا خون نچوڑنے آ جاتا ہے ہدف پورا نہ ہونے کا سارا ملبہ اس غریب پر ڈال دیا گیا جو پہلے ہی اپنی سفید پوشی کا کفن لپیٹے جی رہا ہے اگر اس دیس میں کوئی عوام دوست اور باضمیر حکومت ہوتی تو وہ غریب کا گلا گھونٹنے کے بجائے ان نااہل افسران اور ایف بی آر کے عہدے داران کے گلے میں قانون کا رسہ ڈالتی جنہوں نے ٹیکس چوروں کو تحفظ دیا آئی ایم ایف سے بھیک میں مانگا گیا ایک ایک ڈالر غریب کے نام پر لیا جاتا ہے مگر وہ پیسہ عوام کی فلاح کے کسی پروجیکٹ پر لگنے کے بجائے اشرافیہ کے پروٹوکول بیوروکریٹس کی شاہانہ عیاشیوں اور حکمرانوں کے محلات کی نذر ہو جاتا ہے اب بھی وقت ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور پیٹرول کی قیمتیں کم کر کے مرتے ہوئے انسانوں کو سانس لینے کی مہلت دیں ایک کالم نگار کی حیثیت سے جب میں اس بے حسی کو دیکھتا ہوں تو روح تڑپ اٹھتی ہے اور آنکھیں اس وقت نم ہو جاتی ہیں جب غریب کا بچہ بھوکا سوتا ہے اور حاکم وقت کے کتے بھی ہنس کا گوشت کھاتے ہیں۔
مہنگائی کے اس بے رحم طوفان نے پاکستان کے دس اہم ترین شعبوں بشمول زراعت، صنعت، تعلیم ،صحت، تجارت ،ٹرانسپورٹ، تعمیرات، رئیل سٹیٹ، ٹیکسٹائل اور آئی ٹی سیکٹر کو مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جب کسی ملک میں زندگی کے تمام شعبے اس طرح مفلوج ہو جائیں تو وہاں معاشرتی انارکی خانہ جنگی بڑے پیمانے پر ہجرت اخلاقی پستی اور قانون کی بالادستی کا خاتمہ جیسے ہولناک خطرات سر اٹھا لیتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری طور پر عیاشیاں بند کرے اور زراعت و شمسی توانائی کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر ایسے گرین پروجیکٹس کا آغاز کرے جو نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکیں غریب عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو سستا کیا جائے اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اب حکمرانوں کے بند دروازوں پر دستک دیتے ہوئے صرف اتنا کہنا چاہتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے منصفو یاد رکھو کہ تاریخ کبھی ان حکمرانوں کو معاف نہیں کرتی جو اپنی رعایا کو بھوکا مرتا چھوڑ دیں اس سے پہلے کہ بھوک کی یہ خاموش چنگاری ایک ایسے بھیانک انقلاب کی آگ میں بدل جائے جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دے ہوش کے ناخن لیجئے اور اس دیس کے مرتے ہوئے انسانوں کو بچا لیجئے کیونکہ جب غریب کی آہ عرش کو ہلاتی ہے تو پھر بڑے بڑے تخت اور تاج ہوا میں تنکوں کی طرح اڑ جایا کرتے ہیں۔

ٹیگز: