اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایماندار ٹیکس دہندگان کو سہولتیں دی جائیں گی، لیکن ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروباروں کو کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس نظام میں شفافیت اور ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "70 برس کے بگاڑ کو درست کرنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ ملک بھر میں سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے "نیشنل ٹارگٹنگ سسٹم" متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کے تحت مصنوعات کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو ای ٹیگ اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے ٹریک کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ "ای بلٹی" کا نظام بھی متعارف کروایا جا رہا ہے، جو ایف بی آر کے ڈیجیٹل سسٹم کے ساتھ منسلک ہوگا۔ بڑے شہروں اور شاہراہوں پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب سے نہ صرف اسمگلنگ اور ٹیکس چوری پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ شہریوں کو بار بار چیکنگ کی زحمت سے بھی نجات ملے گی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر درآمدات و برآمدات کی نگرانی کے لیے کسٹم ٹارگٹنگ سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے، جو مقامی اور بین الاقوامی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی نشاندہی کرے گا۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ چینی، تمباکو، مشروبات، سیمنٹ، اسٹیل، ہیچری اور پولٹری فیڈ جیسے اہم صنعتی شعبوں میں بھی نگرانی کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے، تاکہ پیداواری عمل سے لے کر مارکیٹ تک ہر مرحلہ قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔
وزیراعظم نے تمام اصلاحاتی اقدامات کو جلد اور مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور افرادی قوت کی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔