Wed, September 16, 2026

بلوچستان! دہشت گرد کسی معافی کے مستحق نہیں

بلوچستان! دہشت گرد کسی معافی کے مستحق نہیں

بلوچستان میںکالعدم تنظیموں کے پاس اپنی مسلح دہشتگردی (جس کو وہ آزادی کی جد و جہد کا نام دیتے ہیں) کو انجام دینے کا کوئی جواز نہیں، ماسوائے ’’محرومیوں‘‘ کے ایک من گھڑت اور جھوٹے بیانیے کے جو سالہا سال سے گھڑ کر بلوچ عوام بالخصوص تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر کے ریاست کیخلاف بغاوت پر اُکسایا جا رہا ہے۔ پہلی بات یہ کہ بلوچستان کوئی مقبوضہ علاقہ نہیں کہ جہاں پر جہاد یا آزادی کی جنگ لڑی جا رہی ہو، بلوچستان پاکستان کا ایک اہم صوبہ، اس کی تقدیر اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ آج پندرہ سو دہشتگرد بھارت اور دیگر دشمن ممالک کی حمایت اور فنڈنگ سے اس پر قابض ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کو علم ہے کہ ان کی اگلی دس نسلیں بھی اس خواب کو حقیقت کا روپ نہیں دے سکتیں، اسی وجہ سے وہ تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں۔ اس کام کیلئے دہشتگرد تنظیمیں، بی وائی سی، ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ اور صبیحہ بلوچ جیسی اپنی پراکسیز کی وساطت سے طلعت عزیز جیسے پڑھے لکھے نوجوانوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ ان کو بیرون ممالک میں پُر آسائش زندگی کے جھوٹے خواب دکھا کر پہاڑوں پر لیجا کر ان کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دئیے جاتے ہیں۔ چند ماہ قبل ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے والے کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے اہم کمانڈر نجیب اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان دہشتگرد تنظیموں کی حقیقت اور اصلیت سے پردہ چاک کیا تھا۔ نجیب اللہ نے بتایا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں کو کس طرح استعمال کرتی ہیں، جھوٹے وعدوں اور گمراہ کن پراپیگنڈا کے ذریعے انہیں شدت پسندی کی طرف مائل کیا جاتا ہے، پہاڑوں پر دو قسم کی ٹریننگ دی جاتی ہے ایک جسمانی اور دوسری ذہنی ٹریننگ دی جاتی ہے جس میں مختلف قسم کی کتابیں پڑھا کر نوجوانوں کا برین واش کیا جاتا ہے۔ پہاڑوں پر موجود نوجوانوں کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں، اور جن، ڈاکٹر اللہ نذر، ہر بیار مری، مہران مری، جاوید مینگل جیسے بلوچستان کے دشمن اور غداروں کے اشاروں پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ سبھی بیرون ممالک میں عیش و عشرت کی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ یہاں پر کبھی بلوچستان کی پسماندگیوں کا رونا رو کر تو کبھی دہشتگردوں کو ’’جبری گمشدہ‘‘ بنا کر ریاست اور ریاستی اداروں کیخلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کر کے عوام کے دلوں میں ریاست کے خلاف نفرت کا بیج بویا جا رہا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، بلوچستان میں سڑکوں کا جال دیکھیں، وہاں تعلیم اور صحت کیلئے سہولیات پر نظر ڈالیں، آپ کو ان مافیاز کے بیانیے میں جھوٹ صاف نظر آئے گا، اصل بات یہ ہے کہ ان دشمن عناصر کو بلوچستان کی ترقی و خوشحالی ہضم نہ ہو رہی ہے۔ جہاں تک ’’مسنگ پرسنز‘‘ کی بات ہے تو بلوچستان بھر میں کوئی ایک فرد بھی ’’جبری گمشدہ‘‘ نہیں۔ پہلی بات کہ اگر لاپتا افراد کہانی میں کوئی حقیقت ہے تو پھر مسنگ پرسن پشتونوں میں کیوں نہیں؟ ہزارہ میں کیوں نہیں؟ دوسری بات اگر یہ حقیقت ہے تو پھر ماہ رنگ لانگو سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے مسنگ پرسنز کے حوالے سے بننے والے کمیشن کے ساتھ تعاون کرنے سے انکاری کیوں ہے؟ اس لیے کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کی سرے سے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ، صبیحہ بلوچ اور ماما قدیر جیسے ملک دشمن ایجنٹ جن افراد کو ’’لاپتا‘‘ قرار دیتے ہیں، وہی لاپتا افراد مختلف دہشتگردوں حملوں میں شامل نکلتے ہیں۔ یہ ایک ڈرامہ ہے جو بیرونی آقائوں کی ایما پر ریاست کو بدنام کرنے اور ڈالروں کے حصول کیلئے رچایا جا رہا ہے۔ اس ڈرامے کا مرکزی کردار ماہ رنگ لانگو ادا کر رہی ہے۔ کالعدم تنظیموں کی بربریت پر زبانوں آبلے پڑھ جاتے ہیں اور جب سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کرتی ہیں، تو چیخوں کی آوازیں آسمان تک سنائی دیتی ہیں۔ جعفر ایکسپرپس پر دہشتگرد حملہ کر کے نہتے مسافروں کو یرغمال بنانے والی کالعدم تنظیم بی ایل اے نے 21 مسافروں اور 4 ایف سی کے جوانوں کو شہید کیا۔ نام نہاد بی وائی سی، ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ کے ہونٹوں پر تالے پڑ گئے مگر اس حملے میں واصل جہنم ہونے والے بی ایل اے کے 33 درندوں، حیوانوں اور خارجیوں کی لاشوں کیلئے سول کوئٹہ پر دھاوا بول دیا۔ ریاست کیخلاف ہر وقت زہر اگلنے والی ماہ رنگ لانگو کے منہ سے کبھی ان کالعد م تنظیموں کی بربریت پر مذمت کا ایک لفظ تک ادا نہ ہو سکا۔ چند روز قبل 29 اپریل کو تربت کے علاقے ڈنک میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کیا، جس میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے تین انتہائی خطرناک دہشتگردوں نبیل احمد، فیروز ساربان اور محمد عمر کو جہنم رسید کیا گیا۔ دہشتگرد نبیل احمد ولد رسول بخش تربت، گوکدان کا رہائشی 2010 سے بی ایل اے کا یونٹ کمانڈر 2022، 2010 اور 2024 میں سکیورٹی پوسٹوں پر ہونے والے حملوں، آئی ای ڈی دھماکوں اور بلوچ شہریوں کے قتل ملوث تھا، سکیورٹی فورسز کو انتہائی مطلوب ہونے کے ساتھ ساتھ CTD کی ریڈبک میں بھی شامل تھا، نبیل احمد کیخلاف گوادر میں تین ایف آئی درج تھیں، اور وہ ماضی میں پانچ سال مچھ، گڈانی اور تربت کی جیلوں میں قید بھی رہا، اطلاعات کے مطابق دہشتگرد سرگرمیوں میں مسلسل ملوث رہنے کے باعث اس کے خاندان نے اس کو عاق کر دیا تھا۔ دہشتگرد فیروز ساربان ولد اللہ بخش تربت، آبسر کے ڈکی بازار کا رہائشی 2022 سے بی ایل اے کا مقامی ایریا کمانڈر اور سکیورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں کو ’’ڈیتھ سکواڈ‘‘ کے نام پر شہید کرنے میں ملوث تھا۔ دہشتگرد محمد عمر زکا ولد علی سنگھور، تربت کا رہائشی 2021 سے کالعدم تنظیم بی ایل اے کا سرگرم رکن اور ضلع کیچ میں باردوی سرنگیں (IED) نصب کرنے میں ملوث تھا۔ انکی کارروائیاں بلوچستان میں عدم استحکام کا سبب بنی ہوئی تھیں۔ ان دہشتگردوں کی ہلاکت کو بجا طور پر ’’خس کم، جہاں پاک‘‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ایسے افراد معاشروں کیلئے کسی ناسور سے کم نہیں ہوتے، جن کی ہلاکت انسانیت کی بقا اور معاشرتی استحکام کیلئے ناگزیر ہوتی ہے۔ اب ان مذکورہ دہشتگردوں کی لاشوں کیلئے جنہیں محکمہ سی ٹی ڈی اور پولیس نے دفنا دیا ہے اور باقاعدہ طور پر ورثا کو آگاہ بھی کیا جا چکا ہے، سٹرکوں کو بند کرنا، قانون شکنی کرنا بھی کھلی دہشتگردی جو کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق دہشتگردوں کی لاشیں کسی کو نہیں دی جا سکتیں۔

ٹیگز: