ڈاکٹرسیدشبیہ الحسن کی اردو لٹریچر کے لیے خدمات کبھی فراموش نہیںکی جا سکتیں۔ تحقیق، تنقید اور تدوین کے میدان میں شبیہ الحسن نے باکمال خدمات انجام دیں۔ اردو ادب کے فلک پر چمکنے والے اس روشن ستارے کو 18 مئی 2012 کو تعصب میں ڈوبی ہوئی سوچ نے نشانہ بنایا، دہشت گردی کی حامل سوچ نے شبیہ الحسن کے وجود کو تو مٹا دیا مگر وہ شبیہ الحسن کی سوچ کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ ڈاکٹر شبیہ الحسن کو نشانہ بنانا، انہیں شہید کرنا، درحقیقت سوچ کا سوچ سے ٹکرائو تھا۔ ایک ایسی سوچ جو تعصب میں ڈوبی ہو، جس میں شر کا رنگ بہتا ہو وہ کسی ایسی سوچ کو کیوں برداشت کر سکتی ہے جو محبت و چاہت کی بات کرے، جو علمی فکر کی بات کرے، جب علمی میدان میں اس سوچ کو شر زدہ سوچ شکست نہ دے سکی تو پھر یہ حل نکالا کہ علم پھیلانے والے شخص کے سینے میں سیسہ اتار دیا جائے۔ جب جھوٹ سچائی پر غالب نہ آ سکا تو پھر حل یہ نکالا گیا کہ سچ کہنے والے ہی کو ہٹا دیا جائے۔ یہ رویہ آج کا نہیں، انسانی تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو حقائق واضح ہوں گے کہ یہ جھگڑا جس کی بھینٹ شبیہ الحسن چڑھے ہیں، وہ آج کا پیدا کردہ نہیں ہے۔ بس وقت بدلتا گیا اور بزدلوں کا طریقہ کار بدلتا رہا، کبھی کسی انداز میں اہلِ علم پر اہلِ جہل نے وار کیے، کبھی کسی طرز پر وہ ان کے مقابل آ گئے، کبھی اپنی جہالت ثابت کرنے کے لیے سازشوں کے جال بنے تو کبھی کسی سینے میںاپنے ذاتی عناد کی خاطر گولیاں اتار دیں۔ کائنات خیر و شر کا مجموعہ ہے، خیر کار استاد انسان کو رحمن کی طرف لے جاتا ہے جب کہ شر کی راہ انسان کو شیطان کی جانب لے جاتی ہے۔ خیر کی راہ علم و ہنر سے مزین ہے۔ علم وسعت ہے، انسان مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے لگتا ہے، اس کی نظر وسعتوں کی حامل ہو کر حقائق جان کر دوسروں تک پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ شر تعصب ہے، کم نظری اور ذاتی مفادات کا تحفظ ہے۔ ایسے عالم میں کسی بھی ایسی سوچ کو شر کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ کوئی محبت کی بات کرے یا فروغِ علم کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں محبت کے پودے اگائے، کمال کی بات یہ ہے کہ یہ پودے خود رو ہوتے ہیں جو مثبت سوچ کے
ساتھ پروان چڑھتے ہیں اور تناور درخت بن کر اپنا سایہ دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ محبت کے یہ اشجار کہیں بھی نفرت کی دھوپ میں کسی کو جلنے ہی نہیں دیتے۔ اس کے برعکس نفرت پھیلانے کے لیے انسان اپنی سوچ میں ضد اور تعصب کے پودے خود اگاتا ہے پھر ان پودوں کی آبیاری وہ اپنے مفادات کے ذریعے کرتا ہے، وہ ہر شے کو اپنی مٹھی میں لے کر اپنی جھوٹی حاکمیت کو منوانا چاہتا ہے۔ اپنی اس حس کو تازہ اور زندہ رکھنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، حتیٰ کہ کسی کی جان لینا بھی ایسی سوچ کے حامل لوگوں کو عجیب نہیں لگتا۔ ڈاکٹر سید شبیہ الحسن بھی ایسی سوچ میں کھٹکتے تھے، ان کی علمی و ادبی کاوشیں اور کوششیں علم و ادب کے دشمنوں کو نہیں بھائیں جس کا جواب انہوں نے ان کے نرم سینے میں گولیاں اتار کر دیا۔ بحیثیت استاد ڈاکٹر شبیہ الحسن آج کے اس مادی دور میں بھی مادہ پرست نہیں تھے۔ سب سے بڑی بات جو صرف انہی کی ذات میں تھی وہ یہ کہ رات یا دن کے کسی بھی پہر میں جب کوئی طالب علم ان سے راہنمائی کے لیے فون کرتا تو وہ نہ صرف فون ریسیو کرتے بلکہ جب تک طالب علم ان سے سوال کرتا رہتا وہ جواب دیتے رہتے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ انہوں نے یہ کہا ہو کہ میں آپ سے اس وقت بات نہیں کر سکتا یا مجھے وقت لے کر فون کرنا، میں نے کسی بھی استاد میں ایسا وصف نہیں دیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ قدرت ان پر اس قدر مہربان تھی کہ وہ علمی و ادبی میدان میں ایسے ایسے کارنامے انجام دیتے تھے کہ ان کے ہمعصر حیرت میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ ایک استاد ہونے کی حیثیت سے وہ طالب علموں کے سامنے کبھی اپنی بڑائی اس انداز میں ظاہر نہیںکرتے تھے کہ ان کا فون نہ سنیں یا انہیں کہیں کہ بس فلاں وقت میں آ جائیں تو ملاقات ہو گی ورنہ نہیں ہو گی۔ وہ اپنے بعد آنے والوں کا شعر و ادب کے میدان میں بانہیں پھیلا کر استقبال کرنے والوں میں سے تھے۔ تعصب ان کے قریب سے بھی نہیں گزرا تھا۔ ہشاش بشاش اور خوش رہنے والے شبیہ الحسن کا رویہ جونیئرز کے ساتھ جس قدر محبت کا تھا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ وہ ہر شخص کو عزت دیتے تھے، اس لیے کہ وہ محبت کو فروغ دینے میں کوشاں رہتے تھے۔ ایسا شخص جو شب و روز محبت کے دیے جلانے میں مصروف ہو، دوسروں کے مسائل حل کرنے کا خواہش مند ہو، ادبی آبیاری میں اپنا مستعد کردار ادا کرنے میں محو ہو، ایسے شخص کی کسی سے کیا دشمنی ہو گی؟ وہ جو کسی کا زخم دیکھنے سے بھی گھبراتا ہو جب اس کے اپنے سینے پر گولیوں نے گھائو بنائے ہوں گے تو اس حساس سوچ کے حامل شبیہ الحسن کے احساسات کیا ہوں گے؟ آج کے اس ادبی دور میں جہاں ادبی پیر حضرات قابض ہو کر صرف ان کی تعریف میں الفاظ بولتے ہیں جو ان کے ادبی مرید بن جاتے ہیں، شبیہ الحسن ان تعصبات سے مبرا تھے۔ وہ ہر کام کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور اسے یہ احساس دلاتے تھے کہ قدرت نے اسے صلاحیت دی ہے۔ ان کا حوصلہ دینے کا انداز اس قدر شفاف ہوتا تھا کہ کمزور سے کمزور لکھنے والا بھی، تخلیق، تحقیق، تنقید و تدوین میں کمالات دکھانے لگتا تھا۔ ڈاکٹر شبیہ الحسن ذاتی بنیاد پر کبھی کسی سے اختلاف نہ رکھتے تھے۔ نہ ہی انہیں کبھی ادبی پیر بننے کا شوق رہا تھا، نہ ہی ان کے لب و لہجے میں کبھی اس بات کا تکبر تھا کہ انہوں نے اردو ادب میں بہت کام کیا ہے بلکہ ان کے رویے میں عاجزی تھی، انکساری تھی، اس عاجزی اور انکساری ہی کا کمال تھا کہ جو ایک بار شبیہ الحسن سے مل لیتا تھا وہ بار بار ملنے کا خواہش مند رہتا تھا۔ ڈاکٹر شبیہ الحسن نے چالیس سے زائد کتب سپردِ قلم کیں۔ تمام عمر درس و تدریس میں گزار دی۔ 18 مئی 2012 کو اس علم و محبت کو فروغ دینے والے کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا گیا اور امن پسندوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ تعصب زدہ سوچ کتنی خطرناک ہے لیکن دوسروںکی موت کے فیصلے اس انداز میں کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اجسام مرتے ہیں سوچیں زندہ رہتی ہیں۔ خاص کر جو سوچ خیر کی نمائندہ ہو وہ کیسے مٹائی جا سکتی ہے؟ ڈاکٹر سید شبیہ الحسن خیر کے حامل تھے۔ انہیں شر کی سوچ کس طرح مٹا سکتی ہے؟ جھوٹ کس طرح سچ پر غالب آ سکتا ہے؟ جاہل کیسے عالم کی برابری کر سکتا ہے؟ نفرت محبت کو ختم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ ڈاکٹر شبیہ الحسن کا وژن آج بھی زندہ ہے اور وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس لیے کہ محبت مر نہیں سکتی۔ شبیہ الحسن محبت کا پیکر تھے، انہیں مٹانا کسی دہشت گرد کے اختیار میں نہیں ہے۔ ڈاکٹر شبیہ الحسن کہا کرتے تھے۔
مرا وجود ہے تخلیق زندگی کا بھرم
میں کائنات کے پیکر میں ہوں رگوں کی طرح