Wed, September 16, 2026

 علی لاریجانی کی شہادت ایران کے لیے آیت اللہ خامنہ ای سے بھی بڑا نقصان، قاسم سلیمانی کے بعد سب سے کاری ضرب؛برطانوی میڈیا کا انکشاف

 علی لاریجانی کی شہادت ایران کے لیے آیت اللہ خامنہ ای سے بھی بڑا نقصان، قاسم سلیمانی کے بعد سب سے کاری ضرب؛برطانوی میڈیا کا انکشاف

لندن / تہران: برطانوی صحافتی حلقوں میں ایران کے ممتاز سیاستدان اور سابق پارلیمانی اسپیکر علی لاریجانی کی شہادت پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ معروف برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت ایران کے لیے ایک ایسا المیہ ہے جس کا اثر رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی کہیں زیادہ گہرا ہو سکتا ہے۔
اخبار نے علی لاریجانی کو "سیاست کا مردِ میدان" قرار دیتے ہوئے ان کی عالمی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ محض تہران تک محدود نہیں تھے بلکہ روس اور چین کی قیادت کے ساتھ ان کے گہرے ذاتی مراسم تھے، جو ایران کے لیے عالمی سطح پر ایک مضبوط ڈھال کا کام کرتے تھے۔
 رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے علی لاریجانی کو ان کے اسی غیر معمولی عالمی اثر و رسوخ اور سیاسی بصیرت کی وجہ سے نشانہ بنایا، تاکہ ایران کی سفارتی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی جائے۔
رپورٹ میں علی لاریجانی کی شہادت کا موازنہ ایران کے سابق عظیم کمانڈر سے کیا گیا ہے۔    قاسم سلیمانی کے بعد سب سے بڑا خلا: اخبار لکھتا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد یہ ایران کے لیے اب تک کی سب سے بڑی چوٹ ہے۔ جہاں قاسم سلیمانی عسکری محاذ کے شاہ سوار تھے، وہیں علی لاریجانی عالمی سیاست کے شطرنج پر ایران کے سب سے اہم مہرے تصور کیے جاتے تھے۔
برطانوی اخبار کے مطابق، علی لاریجانی کی شہادت سے ایران نے اپنا وہ سب سے معتبر چہرہ کھو دیا ہے جو ماسکو اور بیجنگ کے ایوانوں میں براہِ راست رسائی رکھتا تھا، جس کا اثر خطے کی سیاست پر طویل عرصے تک محسوس کیا جائے گا۔

ٹیگز: