Wed, September 16, 2026

 آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور پنجاب گیٹ وے آف پاکستان

 آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور پنجاب گیٹ وے آف پاکستان


2000ءکے بعد دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے جدت آئی اور اسی تیزی کے ساتھ دنیا ان دونوں شعبوں کی طرف متوجہ ہوئی۔جن قوموں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی حقیقت کو جتنا جلدی تسلیم کر لیا وہ باقی ممالک سے ان شعبوں میں آگے نکل گئے۔ٹیلیفون، کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ کے آغاز کے دنوں میں کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ اتنی جلدی پوری دنیا میں عام ہو سکتے ہیں اور ان کا استعمال حکومتوں سے لے کر عام دکاندار اور ریڑھی والے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ان چار چیزوں کے بعد آرٹیفیشل انٹیلیجنس جب مارکیٹ میں آئی تو کچھ لوگوں نے اس کو مذاق سمجھا اور کچھ نے اس کو انسان کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا لیکن اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اہمیت کو دنیا تسلیم کر رہی ہے کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بعد آرٹیفیشل انٹیلیجنس اس کا نیکسٹ لیول ہے۔اب یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دنیا کے جدید اور ترقی یافتہ ممالک تیزی کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو ہر سطح پر زیر استعمال لانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔پاکستان میں فی الحال اس کو تسلیم کرنے والا واحد صوبہ پنجاب ہے جس نے اے آئی کی اہمیت کو سمجھا ہے اور اس پر ابھی سے ہی کام شروع کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز باقی سیاسی جماعتوں اور صوبوں کی لیڈرشپ کی نسبت جدید اور ایڈوانس قسم کا مائنڈ سیٹ رکھنے والی وزیراعلیٰ ہیں وہ ٹیکنالوجی اور اے آئی کی اہمیت کو سمجھتی ہیں کیونکہ وہ حقیقت پسندی پر یقین رکھتی ہیں۔اسی لیے انہوں نے پنجاب میں پاکستان کا سب سے پہلا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں روڈ بیپ منظور کیا ہے۔ مریم نواز کی کوشش ہے کہ پنجاب کو جنوبی ایشیا کا 2029 تک اے آئی کا مرکز بنایا جائے اس کے لیے انہوں نے باقاعدہ ایک سپیشل پروجیکٹ ٹیم بھی قائم کر دی ہے جس کی وہ خود سربراہ ہوں گی۔ اس منصوبے کے تحت دنیا کا پہلا اے آئی ڈلیوری یونٹ پنجاب میں قائم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت علی ڈار اس شعبے کو لیڈ کر رہے ہیں۔علی ڈار کے متعلق زیادہ تر لوگ صرف یہی جانتے تھے کہ وہ اسحاق ڈار کے بیٹے ہیں لیکن ان کی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خصوصیات کا اب لوگوں کو ادراک ہو رہا ہے۔ علی ڈار پنجاب میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے جدید طرزکا انقلاب لانے کی مکمل پلاننگ کر چکے ہیں۔انہوں نے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب کو بریفنگ دی کہ اس منصوبے کے تحت آنے والے تین سال میں ایک لاکھ سے زائد نئی نوکریاں پیدا ہوں گی، اس پروگرام کے تحت قومی پیداوار میں پانچ سے دس فیصد اضافہ ہوگا اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ترقی کے ذریعے 10 سے 20 ارب ڈالر تک زر مبادلہ میں بھی اضافہ ممکن بنے گا۔پنجاب حکومت نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا جو روڈ میپ تیار کیا ہے ان میں اے آئی انفرا سٹرکچر،اے آئی انتظامی نظام، شہریوں کے لیے اے آئی خدمات مہارت کی تربیت، اے آئی سے چلنے والی معاشی ترقی اور اے آئی گورننس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چار مشترکہ ٹیمیں بھی قائم کی جائیں گی جو خصوصی منصوبوں، ڈیٹا مینجمنٹ،سٹریٹجک آپریشنز اور سٹریٹجک کمیونیکیشن پر کام کریں گی۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایڈوائزری بورڈ کے قیام کی بھی منظوری دے دی ہے اس بورڈ میں اس شعبے کے ماہرین کو شامل کیا جائے گا۔علی ڈار نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اس پر عمل درآمد کا باقاعدہ شیڈول بھی پیش کر دیا ہے۔علی ڈار نے پورے سال کا ایک پلان پیش بھی کردیا ہے جو ہر مہینے کے حساب سے ہوگا۔اس حوالے سے علی ڈار نے بتایاپنجاب میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس روڈ میپ منشور کا اجرا عید کے فوراً بعد کیا جائے گا۔ اس کے بعد جون کے مہینے میں آرٹیفیشنل ڈلیوری یونٹ کا بین الاقوامی سطح پر آغاز ہوگا، جولائی میں اے آئی گورننس پالیسی متعارف کرائی جائے گی جبکہ اگست میں یوم آزادی کے موقع پر گلوبل ٹیگ پارٹنرشپ اور سٹیزن پورٹل لانچ کیا جائے گا۔ ستمبر میں ہیلتھ بورڈ ایپ کا اجرا اور اکتوبر میں سموک کی نگرانی اور تدارک کے لیے اے آئی کا نظام نافذ کیا جائے گا۔اس کے ساتھ نومبر میں کسان بورڈ اے آئی کا قیام عمل میں لایا جائے گا،زرعی انٹرنر کو کسان اے آئی بوٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا جبکہ پنجاب میں سکول کی سطح پر بھی اے آئی پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ابھی سے ہی 100سکولوں کے نصاب میں اے آئی کو متعارف کر دیا گیا ہے جبکہ 155 مزید سکولوں میں اپریل سے مصنوعی ذہانت کی تعلیم شروع کر دی جائے گی۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ کے مشیر مصنوعی ذہانت علی ڈار نے بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم پلان بنائے گئے ہیں اور ان تمام اہداف کو اگلے تین سال تک حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس شعبے میں ماہانہ بنیادوں پر اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ہر سرکاری ادارے کو جلد از جلد اس پر شفٹ ہونا پڑے گا۔چند سال قبل تک ڈیجیٹلائزیشن کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا انٹرنیٹ کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی تھی لیکن آخر کار لوگوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ سرکاری اداروں کی اے آئی پر منتقلی کے لیے اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ وزیر تعلیم رانا سکندر کے ساتھ بھی میری میٹنگ ہو چکی ہے۔ تعلیمی پروجیکٹ پر بھی کام تیزی کے ساتھ جاری ہے۔اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اے آئی پر آنے والے ڈیٹا پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا ہر شہری کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہوگا۔ علی ڈار نے ایک اور بڑی دلچسپ بات بتائی کہ میرا بیٹا آٹھ سال کی عمر میں گیمز ڈیویلپ کرنا شروع ہو گیا تھا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے پنجاب میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری بھی بآسانی لائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے والے داماک گروپ کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے بھی پنجاب کا دورہ کیا اس وفد کی قیادت داماک گروپ کی سی ای اوا میرا حسین سجوانی اور منیجنگ ڈائریکٹر علی حسین سجوانی نے کی۔داماک گروپ بھی پنجاب میں اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کا خواہاں ہے۔ پنجاب کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثہ جات میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کا گیٹ وے بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب آئی ٹی برامدات میں 65 فیصد شیئر کے ساتھ پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی اور ڈیجیٹل اکانومی ہے۔ پنجاب میں ہر سال 25 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹ ایک مضبوط افرادی قوت کے طور پر مارکیٹ میں آرہے ہیں، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان،گجرانوالہ ٹیکنالوجی ہب بن چکے ہیں۔ علی ڈار نے مزید بتایا کہ پنجاب فری لانسر کی دنیا کی تیسری بڑی مارکیٹ ہے۔ ہم پنجاب میں نوجوانوں کو اے آئی کے سپیشل کورسز کرائیں گے جو انفلوئنسر آج ماہانہ 500 ڈالر کما رہے ہیں اس شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے بعد یہ 10 ہزار ڈالر تک بآسانی کما سکتے ہیں۔ مریم نواز نے علی ڈار کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں انقلاب لانے اور اس کی طرف نوجوان نسل کو متوجہ کرنے کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ علی ڈار سے گفتگو کے بعدذاتی طور پر مجھے اس کا اندازہ ہوا ہے کہ وہ واقع ہی مصنوعی ذہانت کی حقیقت کو سمجھ چکے ہیں اور اس کے ذریعے پنجاب کے نوجوانوں کو باعزت روزگار کمانے اور پنجاب کو جنوبی ایشیا کا ہب بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ علی ڈار اسحاق ڈار کے بیٹے ہیں اور اسحاق ڈار کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کو جو بھی ٹارگٹ دیا جاتا ہے وہ اس کو ہر صورت اچیو کرتے ہیں وہ پاکستان کے وزیر خزانہ تھے تو کامیاب وزیر خزانہ تھے اب وہ پاکستان کے وزیر خارجہ ہیں تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی گواہی انٹرنیشنل میڈیا دے رہا ہے۔ دنیا آج پاکستان کی طرف خود متوجہ ہو رہی ہے۔دنیا کے تمام بڑے فیصلوں میں پاکستان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن آج پاکستان عالمی سطح پر اپنا مرکزی رول ادا کر رہا ہے۔

ٹیگز: