Wed, September 16, 2026

دو شیطانوں پر جان کنی کا عالم

دو شیطانوں پر جان کنی کا عالم

امریکہ اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد سے کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ میدان جنگ سے حیران کن اطلاعات نہ ملیں، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں تل ابیب، ہولون، یروشلم اور ایلات پر چار سو حملے کئے گئے ہیں جن میں ایران نے سیکڑوں ڈرون درجنوں بیلاسٹک میزائل اور اتنی ہی تعداد میں کرسٹل میزائل برسائے ہیں جس کے بعد ان شہروں سے اٹھنے والے دھویں اور ان شہروں میں لگنے والی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ہسپتالوں، پرائیویٹ عمارتوں اور ان کی کارپارکنگ لاشوں اور زخمیوں سے بھر چکی ہیں، لگی آگ کو بجھانے والا اور لاشوں کو دفنانے والا عملہ دستیاب نہیں، گری ہوئی عمارتوں اور اہم دفاتر کی تعداد ہزاروں میں ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے تمام بڑے شہروں میں اشیائے خورونوش اور ادویات کی اتنی ہی کمی ہے جتنی کبھی غزہ پر اسرائیل کی دن رات بمباری کے بعد دیکھنے میں آئی۔ فلسطینی تو بے سروسامانی کی حالت میں تین برس تک لڑتے رہے اور بھرپور مزاحمت کرتے رہے مگر ان کی ہمت جواں رہی۔ اسرائیل کے شہروں میں منظر مختلف ہے عوام اپنی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اسے ہر اس گالی سے نوازتے نظر آتے ہیں جو انہوں نے کبھی پڑھی یا سنی ہے،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی کچھ خبر نہیں وہ کہاں ہے، مصنوعی ذہانت سے تیارکردہ اور ریلیزکردہ ویڈیو کلپ دیکھ کر اسرائیلی عوام میں غصے کی لہر ہے وہ اپنی اعلیٰ ترین قیادت اور فوجی قیادت کے مارے جانے کی اطلاعات رکھتے ہیں ان میں ہر شخص ایک دوسرے سے یہی کہتا ہے شاید ایک گھنٹے بعد ہونے والے ایرانی میزائل حملے میں وہ بھی زندہ نہ رہیں۔
اسرائیل کے سب سے بڑے اور سب سے اہم بن گوریان ایئر پورٹ کے علاوہ تل ابیب میں موجود دو چھوٹے ایئرپورٹ ناکارہ بنا دیئے گئے ہیں، اگر آپ یہاں ہونے والی تباہی کا درست اندازہ کرنا چاہتے ہیں تو اپنے کچن میں موجود آٹا چھاننے والی چھلنی ہاتھ میں لیں اس کے سوراخ شمار کریں پھر انہیں پانچ سے ضرب دیں جو جواب آئے، تل ابیب کے تین ایئرپورٹس کے رن ویز میں اتنے گڑھے پڑ چکے ہیں، گویا وہ عرصہ دراز کے لئے ناکارہ ہو چکے ہیں، ایسی ہی تباہی دیگر انفراسٹرکچر کی ہوئی ہے۔ اسرائیلی بندرگاہ اس کے نیوکلیئر پلانٹ اور بجلی گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے، نصف اسرائیل اندھیرے میں ڈوبا ہے، امریکہ کی طرف سے وہاں ہنگامی طور پر لیتھم بیٹریاں پہنچائی گئی ہیں لیکن نظام سیدھا ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ 
آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کا بحری راستہ اب عام جہازوں کے لئے بند ہو چکا ہے جو بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کرتا ہے سمندر برد کر دیا جاتا ہے، درجنوں بحری جہاز ڈبو دیئے گئے یا قبضے میں لے لئے گئے اب کوئی ادھر بلااجازت آنے کا حوصلہ نہیں رکھتا، چین کی ہدایت پر بعض ممالک نے یوآن میں خریداری شروع کر دی ہے جس کے نتیجے میں آئندہ چند روز میں ڈالر کو ”چُک“ پڑ جائے گی جسے نکالنے کے لئے اسے ”برکس“ کی آپریشن ٹیبل پر لانا ضروری ہو جائے گا پھر وہاں اس کا وہ حشر ہو گا جو غیرترقی یافتہ ممالک میں گاﺅں دیہات میں کسی دائی یا جعلی لیڈی ڈاکٹر کے ہتھے چڑھ جانے والی پورے دنوں کی حاملہ کا ہوتا ہے ، وہ الٹے سیدھے جنتر منتر پڑھنے کے بعد خوش خبری سناتی ہے بچے کی موومنٹ رک چکی تھی لہٰذا بچہ مردہ پیدا ہوا ہے لیکن شکر کریں زچہ کی جان بچ گئی ہے۔ یوآن میں پٹرول خریدنے سے ڈالر کی موومنٹ میں خلل آ رہا ہے پھر ڈالر متحرک نہیں رہے گا لیکن اس معاملے میں ڈالر کی جان کے ساتھ ساتھ ڈالر کی والدہ محترمہ امریکہ کی اقتصادی جان نکل جائے گی، اس کی فوجی طاقت کا گھمنڈ تو ٹوٹ چکا ہے اس کے تکبر اور طاقت کے دو نشان اپنی ہڈی پسلی تڑوا کے گھر کو لوٹ گئے ہیں اس حوالے سے امریکی کہانی مضحکہ خیز ہے ، وہ کہتے ہیں ایئرکرافٹ کریئر جیرالڈ فورڈ کی لانڈری میں آگ لگ گئی جو تین گھنٹے تک نہ بجھائی جا سکی جس سے اسے معمولی نقصان پہنچا ہے۔ دنیا کی بڑی عالمی طاقت کا دنیا کو دہشت زدہ کر دینے والا کریئر جہاں قریباً چھ ہزار فوجی جدید ترین آلات حرب کے ساتھ موجود تھے وہ اس کی لانڈری میں لگی آگ نہ بجھا سکے اس کارکردگی پر انہیں درفٹے منہ ہی کہا جا سکتا ہے، حقائق کے مطابق اسے دو بیلاسٹک میزائل لگے جس نے اس جہاز کے بخیے ادھیڑ دیئے، جھٹکا اور بلاسٹ اس قدر شدید تھا کہ اس کے عرشے پر کھڑے کئی لڑاکا جہاز سمندر میں جا گرے اور ڈیڑھ سو سے زائد امریکی فوجی مارے گئے ایسا ہی حال دوسرے امریکی ایئرکرافٹ کریئر ابراہام لنکن کا ہوا ہے اسے بھی میزائل اور ڈرون لگے ہیں وہ بھی ناکارہ ہو گیا ہے، جدید جنگوں میں سب سے آسان شکار اب ایئرکرافٹ کریئر ہوں گے، ایران نے جہاں فیٹنم 35 کا حلیہ بگاڑ دیا ہے وہاں ایئرکرافٹ کریئر کو بھی ہمیشہ کیلئے کھلے میدان جنگ سے باہر کر دیا ہے، ابراہام لنکن کا ڈیک، انجن اور فوجیوں کی رہائش کا حصہ تباہ ہو گیا اور اس کے قریباً اڑھائی سو فوجی مارے گئے ، دونوں جہازوں پر زخمی ہونے والوں کی تعداد پچیس سو کے قریب ہے، ان جہازوں پر میزائل لگے ہیں شبرات کے پٹاخے نہیں پھوڑے گئے، پٹاخوں کے لئے رکھے گئے بارود کو آگ لگ جائے تو درجن بھر افراد پھڑک جاتے ہیں یہاں تو جنگ ہوئی ہے جس میں میزائل برسے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی آخری چال پاکستان نے ناکام بنا دی، سعودی عرب کی آئل ریفائنری پر حملے کے فوراً بعد پاکستان نے انہیں بتا دیا یہ حملہ ایران نے نہیں اسرائیل نے کیا ہے، اسی طرح ترکیہ پر حملہ کر کے اسے جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی گئی، سازش یہ تھی کہ ترکیہ نیٹو ممبر ہے وہ اپنے دفاع کے لئے آواز بلند کرے گا اور امریکہ کے اشارے پر نیٹو ممالک دوڑے چلے آئیں گے، سعودی عرب، یو اے ای اور ترکیہ ایران پر حملہ آور ہو جائیں گے جبکہ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں سے نیویں نیویں ہو کر نکل جائیں گے پھر امریکہ اور اس کے حواری اس جنگ کے فریقین کو دھڑا دھڑ اسلحہ فروخت کریں گے۔ خدا کا شکر یہ سازش ناکام ہوئی، مسلمان ممالک کو ہوشیار رہنا ہو گا، ابھی کئی سازشیں تیار کی جا رہی ہیں، آنکھیں کھلی رکھنے اور جذبات پر قابو رکھیں، اگر واقعی عقل کام کرنے لگی ہے تو مل کر اسرائیل کو ختم کریں، خود نہیں کر سکتے تو اس کا ساتھ دیں جس نے اسرائیل اور امریکہ کو بیک وقت شہ رگ سے پکڑ لیا ہے وہ ان کی جان نکال دینے کے بالکل قریب ہے، دونوں شیطانوں پر جان کنی کا عالم ہے۔

ٹیگز: