Wed, September 16, 2026

تصوف اور امنِ عالم

تصوف اور امنِ عالم

ہمارا رب، رب العالمین ہے اور ہمارے رسول رحمت للعالمین ہیں۔ رحمت للعالمین کے نام لیوا کل عالم کے لیے امن اور سلامتی کے پیام بر ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا پیغام اور کلام سلامتی ہے۔ اندر امن ہو گا تو باہر بھی امن ہو گا .... Peace within and peace without، ہم کسی کو وہی کچھ دے سکتے ہیں جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہو گا۔
جیو اور جینے دو .... امن کا بنیادی اصول ہے۔ امن وہ راستہ ہے جو دوسروں کو جینے کا حق دیتا ہے۔ اپنے مخالف کو جینے کا حق قرآن نے یہ کہہ کر دے دیا ہے: ”اے حبیب! تمہارے ذمے صرف پیغام پہنچانا ہے“۔ اور یہ کہ ”تم ان پر داروغہ نہیں بنائے گئے ....“ اور یہ کہ ”ان سے کہہ دو! تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ....“ اور یہ کہ ”دین میں کوئی جبر نہیں“ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے ہم سے دین کی تشریح و تفسیر میں کچھ غلطی ہو گئی ہے۔ امن و سلامتی کا دین، پورے عالم کو امن کی دعوت دینے والا دین بھلا دہشت گردی اور عدم برداشت کے ساتھ کس حساب میں نتھی کر دیا گیا ہے۔ اس باب میں غیروں کا سِتَم اپنی جگہ مُسَلّم، لیکن نادان مُسلِم کی نکتہ آفرینیاں اور شعلہ بیانیاں بھی قابلِ غور ہیں۔ وہ دین جو وضو میں زیادہ پانی بہانے کی اجازت نہیں دیتا، وہ خون بہانے کی دعوت کیسے دے سکتا ہے؟ وہ دین جو حالت جنگ میں بھی مخالف قوم کے کھیت کھلیان، درختوں، راہبوں اور عبادت گاہوں کی سلامتی کا ضامن ہے، وہ اپنی ہی عبادت گاہوں اور خانقاہوں پر بم پھوڑنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟
رسولِ کریم کی زبان مبارک سے مسلمان ہونے کی بنیادی شرط یہ بیان کی گئی ہے کہ ”وہ شخص مسلمان نہیں جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ نہیں“ گویا بے ضرر ہونا مسلمان ہونے کی تمہید ہے۔ یہی بات ابوابِ تصوف میں بیان کی جاتی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں: فقیری شروع ہوتی ہے، بے ضرر ہو جانے سے اور مکمل ہوتی ہے، منفعت بخش ہو جانے پر“۔
ایک معروف حدیثِ جبریلؑ کی رُو سے اسلام، ایمان اور احسان کے تین مراتب طے شدہ ہیں۔ تصوف درجہ احسان ہے .... یہ مقامِ مشاہدہ ہے کہ تو اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے .... کیا اس کی عملی صورت مشاہدہ 
وحدت الوجود نہیں؟ مقامِ احسان پر فائز محسنین ہی کا نام صوفیاءہے۔ محسنین کی طرح شاہدین، مخلصین، صادقین اور عباد الرحمن بھی صوفیاءکے قرآنی نام ہیں۔ سورة فرقان میں عباد الرحمن کی خصوصیات بیان کی گئی ہے، یہ خصوصیات اہلِ تصوف کا نصاب ہے۔ یعنی عباد الرحمن زمین پر اس قدر عاجزی سے چلتے ہیں کہ جب کوئی جاہل ان سے ٹکرا جائے تو وہ اس سے الجھنے کی بجائے کہتے ہیں: تمہیں سلام ہو۔ گویا یہ لوگ ”لکم دینکم ولی دین“ کی عملی صورت بن جاتے ہیں۔ بابِ احسان میں شامل ہونے والے یہ محسنین اپنے طے شدہ فرائض کے علاوہ نوافل میں بھی اس قدر منہمک ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ میں اس بندے کا ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ کام کرتا ہے، میں اس کی زبان بن جاتا ہوں، جس سے وہ بولتا ہے .... گویا بقول رومیؒ: گفتہ او، گفتہ اللہ بود، ہر چند کہ از حلقومِ عبد اللہ بود۔ نوافل سے مراد یہ ہے کہ وہ عالمِ شوق میں وہ کچھ بھی کر گزرتے ہیں جو ان پر فرض نہیں .... یعنی فرض تو اپنے بچوں کی کفالت ہے، لیکن وہ اس سے بڑھ کر بے سہارا بچوں کی کفالت کا ذمہ بھی اٹھا لیتے ہیں، فرض تو یہ ہے کہ سال کے آخر میں جمع شدہ سرمائے کا اڑھائی فیصد مسکینوں کے لیے خر چ کیا جائے، لیکن وہ ”قلِ العفو“ کے کلیے پر چلتے ہیں .... وہ خرچ کر دیتے ہیں جو بھی زاید ہو .... یہی وہ محسنین، جن کی محبت اللہ کے لیے شدید ہے، ایسے ہیں کہ خود کو بھی زائد سمجھتے ہیں، یہ خود بھی اس کی راہ میں خرچ ہونے کے لیے ہمہ حال تیار رہتے ہیں، یہ عام آدمی کو ہر وقت دستیاب رہتے ہیں۔ یہ اپنے ہونے کا خراج نہیں لیتے۔ یہ محسنین ظاہر اور باطن میں خرچ کرتے ہیں، بلکہ یہ خود خرچ ہوتے ہیں، اپنے غصے کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے میں فراخدل واقع ہوتے ہیں۔
”آیات کی تلاوت، تزکیہ نفس، کتاب کی تعلیم اور حکمت“ .... کے متعلق عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ کی نشانیوں کی نشاندہی سائنسدان کا کام ہے، تزکیہ صوفیوں کا شعبہ ہے، کتاب کی تعلیم اہلِ مدرسہ کا نصاب ہے اور حکمت دانشور طبقہ کا میدانِ فکر و سخن ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تزکیے کا ان باقی تمام شعبوں سے وہی تعلق ہے جو روح کا جسم سے ہے۔ سائنسدان کا تزکیہ نہ ہو تو وہ جان بچانے کی بجائے جان لینے والے آلات ایجاد کرے گا، اہلِ مدرسہ کا تزکیہ نہ ہو تو وہ مسجد و مدرسہ کو محبت کی بجائے تعصب سے بھر دیں گے، دانشور طبقہ اگر تزکیہ نفس سے محروم ہو تو رحمانی فکر کی جگہ ابلیسی فکر کی ترویج کرے گا، وہ تعاون للبقاءکی بجائے نزاع للبقاءکے تصورات پیش کرے گا، وہ فلسفہ لایعنیت کو فروغ دے کر فکرِ انسانی کو مقصدیت سے محروم کر دے گا، وہ مقامِ کبریا کی بجائے انسان کی کبریائی کی باتیں کرے گا۔ تزکیہِ نفس نہ ہو تو مجاز حقیقت میں تبدیل نہیں ہوتا۔ تزکیہ نفس نہ ہو تو انسان امن کے نام پر جنگ کرتا ہے اور خدمت کے نام پر تجارت کرتا رہتا ہے۔
عام طور پر سوال کیا جاتا ہے کہ آج کے دور میں تصوف اور دروسِ تصوف کی کیا اہمیت ہے؟ .... حقیقت یہ ہے کہ زمانہ جوں جوں ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، انسان پہلے سے زیادہ طاقت ور ہوتا جا رہا ہے، تصوف کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ چند صدیاں قبل اگر ایک گاڑی بان کسی نشے میں دھت ہوتا تو اس کی لاپروائی سے چند نفوس ہی زخمی ہوا کرتے تھے، آج اگر ایک بلٹ ٹرین کا ڈرائیور یا کسی جہاز کا پائلٹ خود سے غافل ہو جائے تو وہ کس پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان کرے گا۔ پہلے زمانوں میں سلاطین لوگ اپنی سلطنت کی وسعت کے لیے جب کمزور ریاستوں پر یلغار کرتے تو چند ہزار لوگ ہی کھیت رہتے، آج اگر طاقت کے نشے میں دھت کسی ریاست کا سربراہ طبلِ جنگ بجا دیتا ہے تو پورے کرہِ ارض کا امن اور سلامتی خطرے میں آ جاتی ہے۔
صوفی کا مدعا اپنے مخاطب کو ایک اچھا انسان بنانا ہے۔ ایک اچھا انسان ہی اچھا مسلمان ثابت ہوتا ہے۔ ایک اچھا انسان وہی ہے جو بگاڑ perversion کو چھوڑ کر اصل فطرت، یعنی دین فطرت پر واپس آ جاتا ہے .... اور دین فطرت پر آنے والا اسلام کو اپنا دین سمجھتا ہے .... وہ کل انسانیت کے لیے پیغامِ فوز و فلاح کا سفیر بن جاتا ہے۔
اوّل اصلاحِ فکر اور پھر اصلاحِ عمل .... یہی راستہ فطری ہے .... فطری راستہ ہی دیرپا ہوتا ہے۔ سیرتِ نبوی ہمارے لیے ایک لائحہِ عمل ہے۔ فکر کی بالیدگی اور پاکیزگی کے لیے اصلاح شدہ نفوس کی ضرورت ہوتی ہے۔ نفس کا تزکیہ کوئی ذی نفس ہی کر سکتا ہے۔ تصوف کا نصب العین ایسے مزکی نفوس تیار کرنا ہے جو دوسروں کا تزکیہ کر سکے .... تاکہ معاشرے میں اخلاص اور اخلاق، صبر و تحمل رواداری فراواں میسر ہو۔ یہ چار عناصر مقامی سطح پر یکجہتی اور بین الاقوامی سطح پر امن عالم کی ضمانت ہیں۔
( بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں دو روزہ انٹرنیشنل تصوف کانفرنس میں پڑھا گیا۔ 27 فروری 2025ئ)

ٹیگز: