سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر سی ایس ایس کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہے؟ اور TCS میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن TCS پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟ آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟ آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟ آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھ لیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔
اینگرو گروپ، عارف حبیب گروپ، ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کا میاب ادارے پروفیشنل لوگ چلا رہے ہیں، دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز، سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے۔ ایسے پروفیشنلز جو اپنے ممالک کو آسمان تک لیے گئے اور بدقسمتی میں ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجینئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر رعب جماتا ہے۔ جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے۔ اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں امیدوار ہونگے۔ عرب ممالک میں سی ایس ایس جیسا امتحان نہیں ہوتا پر وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں۔ پاکستان کو ترقی کیلئے سرکاری افسر شاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز، سائنسدانوں اور انجینئرنگ پروفیشنلز کی ضرورت ہے۔
ایک بڑی کمپنی کو منیجر کی پوسٹ کیلئے کسی انتہائی قابل شخص کی تلاش تھی تاہم پینٹ کوٹ پہنے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کے درجنوں انٹرویوز کے باوجود کوئی بھی امیدوار یہ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا، اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ کمپنی کا مالک انٹرویوز کے پینل میں خود بھی بیٹھتا تھا اور جب پینل کے دیگر ممبران اپنے سوالات مکمل کر لیتے تو مالک آخر میں ہر امیدوار سے یہ سوال ضرور پوچھتا کہ ایک اچھے منیجر کی سب سے خاص بات کیا ہوتی ہے، اس سوال کے جواب میں کوئی امیدوار کہتا کہ ایک اچھے منیجر کو وقت کا پابند ہونا چاہیے، کسی کا جواب ہوتا اسے پروفیشنل ہونا چاہیے، کوئی کہتا اسے سکلڈ ہونا چاہیے اسی طرح کوئی تجربہ کاری، کوئی ذمہ
داری تو کوئی ایمانداری کو اچھے منیجر کی پہچان بتاتا، تاہم کمپنی مالک ان میں سے ہر جواب پر غیر تسلی بخش انداز میں خاموش ہو جاتا اور امیدوار کو جانے کا کہہ دیتا، پینل کے دیگر ممبران ایک تو انٹرویو کر کر کے تنگ آ چکے تھے دوسرا وہ اس تجسس میں تھے کہ آخر کمپنی مالک کے نزدیک ایک اچھے منیجر کی سب سے خاص بات کیا ہو سکتی ہے، انہوں نے خود بھی اس سوال کا جواب کمپنی مالک سے جاننے کی کوشش کی تاہم مالک نے اپنا مطلوبہ جواب کسی پر ظاہر نہیں کیا، اور پینل کو انٹرویوز جاری رکھنے کو کہا۔
ایک روز ایک سادہ سے کپڑوں میں ملبوس اور عام سے حلیے والا نوجوان انٹرویو دینے آ گیا، اسے دیکھ کر پینل کے ممبران طنزیہ انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں کہ اتنے ماڈسکاڈ اور اپ ٹو ڈیٹ قسم کے لوگ یہ انٹرویو پاس نہیں کر پائے تو یہ دیسی سا انسان کہاں سلیکٹ ہو پائے گا اور اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اسے اس سوال کا جواب معلوم ہو جو باقی امیدواروں کی ناکامی کی وجہ بنا، خیر نوجوان نے پینل کے سوالات کے انتہائی اعتماد سے جواب دئیے، جس کے بعد کمپنی کے مالک نے اپنا سوال پوچھا ’جنٹل مین، یہ بتائیں کہ ایک اچھے منیجر کی سب سے بہترین کوالٹی کیا ہوتی ہے؟ نوجوان نے سوال سن کر کچھ دیر کیلئے سر جھکایا اور پھر کمپنی مالک کی طرف دیکھ کر پورے اعتماد سے مسکرا کرکہا ’سر، اچھا منیجر وہی ہے جو کمپنی کے معاملات کو کمپنی کے مالک سے بھی زیادہ بہتر جانتا اور سمجھتا ہو اور جس کے ہوتے ہوئے مالک برائے نام مالک ہی کہلائے، یہ عجیب و غریب سن کر پینل ممبران چونک گئے، وہ نوجوان کی اس بدتمیزی اور گستاخانہ لہجے پر تلملا اٹھے اور اس پر ’شٹ اپ اور مائنڈ یور لینگویج‘ جیسے کلمات کی بوچھاڑ کر دی، تاہم کمپنی مالک نے ممبران کو خاموش رہنے اور انتظار کرنے کو کہا پھر مسکرا کر نوجوان سے مخاطب ہو کر کہا، ’بالکل ٹھیک جواب دیا آپ نے، لیکن یہ بات آپ نے کس سے سیکھی؟‘ پینل ممبران حیرت سے ایک دوسرے کے منہ تکنے لگے، نوجوان نے بدستور خود اعتمادی کے ساتھ مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’سر اپنے گھر سے اور اپنے والدین سے‘ ۔ ’ہم بہن بھائیوں نے اپنے والد کو اپنے گھر کے سربراہ کا درجہ دیا، ایک منٹ کیلئے مان لیجئے کہ وہ کمپنی مالک تھے، گھر بھر کی کفالت ان کی ذمہ داری تھی، لیکن گھر کو چلانا کس منیجر کا کام تھا، کس کے کپڑے کہاں ٹانکے ہیں، کس کے جوتے کہاں رکھے ہیں، کس کی کتابیں کہاں دھری ہیں، کس کے کھلونے کہاں پڑے ہیں، کپڑے گندے ہو گئے تو کون دھوئے گا، استری کر کے کون دے گا، رات سب کو سلا کر پھر سونا، صبح سب سے پہلے جاگ کر سب کو جگانا، ایک ایک کو کھلا پلا کر تیار کر کے سکول بھیجنا، کپڑے پھٹ جاتے تو پیوند لگانا، بٹن ٹوٹ جاتا تو ٹانکا لگانا، بیمار پڑ جاتے تو پرہیز والا کھانا اور دوائی دینا، یہ سب مینج کرنے والی میری امی تھیں، وہ شاندار منیجر تھیں، کبھی بھول کر ہم ابو سے پوچھ لیتے کہ ہماری فلاں چیز کہاں پڑی ہے تو ڈانٹ کر کہتے ’ارے بھئی مجھے کیا معلوم، اپنی امی سے پوچھو، اور اس سے بھی مزیدار بات یہ کہ خود ابو کا موبائل، پرس، کپڑے، جوتے، موٹر سائیکل کی چابی حتیٰ کہ دفتر کی فائلیں تک امی کے پتے پر ہوتی تھیں، تبھی ہم اکثر ابو کو چھیڑتے ہوئے کہا کرتے تھے، آپ تو بس برائے نام ہی گھر کے مالک ہیں، آپ سے کہیں زیادہ تو امی گھر کو جانتی اور سمجھتی ہیں اور ابو بھی ہنس کر اعتراف کیا کرتے کہ امی کے ہوتے ہوئے انہیں کبھی کسی بھی بات کی فکر نہیں ہوتی اس لیے وہ گھر کر برائے نام مالک ہی ٹھیک ہیں۔ بس سر اس لیے میرے نزدیک ایک اچھے منیجر کی یہی تعریف ہے۔‘
کمپنی مالک نے تحسین آمیز نگاہوں سے نوجوان کو دیکھا اور پھر پینل سے مخاطب ہو کرکہا ’آپ سب نے اس نوجوان کا جواب سن کر اسے ڈانٹ دیا تھا، لیکن اب جبکہ اس نے اپنے جواب کی تشریح کی ہے تو مجھے امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس کے جواب کے پیچھے اس کا مشاہدہ بھی ہے اور عمر بھر کا تجربہ بھی اور ایک ٹھوس نظریہ بھی، مجھے بھی ایسا ہی منیجر چاہیے جس کے ہوتے ہوئے میں برائے نام مالک اور بے فکر شخص بن جاﺅں‘۔ یہ کہہ کر کمپنی مالک نے نوجوان کو منیجر کی پوسٹ کیلئے منتخب ہونے کی مبارک باد دیتے ہوئے مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا اور پینل کے ممبران کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگ گئے۔ اس کہانی کے دو پہلو ہیں ایک تو یہ کہ گھر کا ماحول بہترین درسگاہ ہے اوردوسرا یہ کہ دوسروں کو قائل کرنے کیلئے رٹی رٹائی اور گھسی پٹی کتابی باتوں کا سہارا لینے کے بجائے سادہ الفاظ عملیت پسندی اور فطری مشاہدات پر مبنی سوچ سے کام لیں، آپ زیادہ معتبر ٹھہریں گے اور ترقی کی طرف گامزن رہیں گے۔