ایران نے ایک بات تو ثابت کر دی ہے کہ صہیونی ریاست اسرائیل ناقابل تسخیر نہیں ہے۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، ایک بدمعاش ریاست ہے، جسے برطانیہ نے تخلیق کیا۔ بالفور ڈکلیئریشن کے ذریعے اس کی پیدائش کا بتایا گیا پھر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر 181نمبر قرارداد کے ذریعے اس کی ولادت کرائی گئی۔ وہ دن اور آج کا دن اس ناجائز بچے نے ہر طرف تباہی و بربادی مچا رکھی ہے۔ عرب ہوں یا غیر عرب دشمنی کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے، اسرائیل اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت، اپنا جغرافیہ پھیلاتا چلا جا رہا ہے۔ دشمنی کے لئے گریٹر اسرائیل کے تصور کو عملی شکل دینے میں مصروف ہے۔ بائبل میں بیان کردہ اسرائیل کی سرزمین، یعنی وہ زمین جو یہودہ یعنی اللہ نے انہیں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس زمین پر اسرائیل قائم بھی ہوا تھا۔ سلمان علیہ السلام کے دور حکومت میں بنی اسرائیل پر اللہ کی نعمتوں کی بارشیں ہو رہی تھیں۔ یہ بنی اسرائیل کا دور عظیمت ہے جسے صہیونی حکمران و قائدین واپس لانا چاہتے ہیں۔ تھیوڈور ھرزل نے صہیونی تحریک و تنظیم کے ذریعے یہودیوں کے لئے اسی ریاست کے تخیل کو عملی شکل دینے کی بنیاد ڈالی پھر 1948ءمیں اس ریاست کا ناجائز جنم ہوا۔
اسرائیل کی ساخت میں برطانیہ عظمیٰ اور پرورش میں امریکہ شامل ہیں۔ ویسے تو پورے یورپ نے غلیظ یہودیوں کو اپنے ممالک سے باہر نکالنے اور کہیں ڈمپ کرنے کے لئے ریاست اسرائیل کے قیام کی حمایت کی کیونکہ یہودی جہاں کہیں بھی ہوتے تھے وہیں سازشیں جنم لینے لگتی تھیں، اخلاقی جرائم بڑھنے لگتے تھے۔ معاشرے میں تباہی و بربادی کے سامان پیدا ہونے لگتے تھے۔ یورپ میں انہیں آبادیوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ یہ تاریک اور غلیظ بستیوں میں رہتے تھے ایسا نہیں ہے کہ وہ جگہیں غلیظ ہوتی تھیں بلکہ یہ جہاں رہتے، سکونت پذیر ہوتے وہاں غلاظت پیدا کرتے تھے بہرحال اقوام مغرب نے اپنا گند نکال کر ارض فلسطین میں جمع کر دیا۔ عربوں کے سینے میں ایک خنجر گاڑھ دیا۔ اس وقت سے یہ خطہ لہولہان ہے، تباہی و بربادی کا شکار ہے، یہودیوں کی بدخصلت نے یہاں افتراق و تفریق کے ساتھ ساتھ نفرت کے ایسے بیج بوئے ہیں کہ عرب وحدت پارہ پارہ ہو چکی ہے۔ عرب و عجم ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ بے تحاشا دولت اور قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود کمزور ہیں، اسرائیل کے مقابلے میں سیکڑوں گنا زیادہ افرادی قوت رکھنے کے باوجود اس کے سامنے سرنگوں ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے عربوں کی فکری قوت کو عرب نیشنل ازم کے ذریعے کمزور کیا۔ اخوان عربوں کا فکری اثاثہ تھے۔ ایک قوت تھے جسے عرب حکمرانوں، قوم پرست حکمرانوں کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ ایک مصری صحافی احمد رائف نے مصر کی جیل میں اخوان کے لوگوں کے ساتھ مصری حکمرانوں کے ظلم و تشدد کا آنکھوں دیکھا حال اپنی کتاب ”روداد ابتلائ“ میں لکھا ہے جسے پڑھ کر جھرجھری اور کپکپی طاری ہوتی ہے۔ اخوان ایک اعلیٰ فکری و عملی قسم کی بریڈ تھے جسے فکری طور پر عرب نیشنل ازم کی تحریک کے ذریعے کمزور کرنے کی کاوشیں کی گئیں جب ایسی کاوشیں کامیاب نہ ہو سکیں تو انہیں بالجبر ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ حماس اور دیگر جہادی گروپ اسی تحریک کی باقیات ہیں۔ اخوان مسلح جدوجہد پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن جب انہیں بالقوت ختم کرنے کی کاوشیں کی گئیں تو پھر انہی میں سے کچھ لوگوں نے ہتھیار اٹھا لئے۔ حماس اس سلسلے کی شاید آخری کڑی ہو کیونکہ صہیونیوں نے عربوں کے عسکری بازو شل کر دیئے ہیں۔ مصر ہو یا عراق، شام ہو یا کوئی اور ملک، صہیونیوں نے سب کا ڈنک نکال دیا ہے۔ انہیں اب کسی عرب ریاست یا حکمران سے خطرہ نہیں ہے، سب لم لیٹ ہو چکے ہیں۔ اب اسلامی انقلابی ایران کا بھرکس نکالنے کے منصوبے پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ ایران کا عسکری بازو لبنان، شام، عراق میں پہلے ہی مروڑا جا چکا ہے۔ اب ایران پر براہ راست حملہ آور ہو کر اس کا نیوکلیئر پروگرام پیوند خاک کرنے کی جدوجہد کی جا رہی ہے۔ نتیجہ تو پتہ نہیں کیا نکلے گا لیکن ایران نے سردست اسرائیل کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جب اسرائیل ایران پر حملہ آور ہوا تو اسے کامیابی ملی۔ سالہا سال کی طویل منصوبہ بندی کے ذریعے ایران پر کیا گیا حملہ کامیاب رہا۔ ایرانی دفاعی نظام کا بھرکس نکال دیا گیا۔ ایران کے غدار ایرانیوں، موساد کے بھارتی ایجنٹوں اور موساد نے بڑی موثر پلاننگ اور کوآرڈی نیشن کے ساتھ ایران کا دفاعی نظام ناکارہ بنایا اور اس طرح اسرائیلی فضائی و ڈرون حملہ کامیاب ہوا لیکن پھر جب ایران نے جوابی کارروائی کی تو دنیا حیران رہ گئی کسی کو امید نہیں تھی کہ ایران اس قدر جرا¿ت و ہمت کا مظاہرہ کرے گا۔ اب تک کی جاری جنگ میں ایران بڑی مہارت اور ہمت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ایران کے میزائل، جہنم بن کر اسرائیل پر گر رہے ہیں، بہت سارے ضائع بھی جا رہے ہیں لیکن کچھ کچھ نشانوں پر بھی لگ رہے ہیں اور ایسے لگ رہے ہیں کہ اسرائیل کی چیخیں دنیا بھر میں سنی و دیکھی جا رہی ہیں۔ اسرائیل چلا رہا ہے، کراہ رہا ہے۔ امریکہ کو جنگ میں حتمی کردار ادا کرنے کی پکار دے رہا ہے۔ ویسے تو امریکہ روز اول سے ہی اس جنگ میں
شریک ہے۔ اسرائیل کا حامی و مددگار ہی نہیں بلکہ اس کا پارٹنر ہے۔ اب صرف ایرانی ایٹمی تنصیبات پر 30ہزار کلوگرام وزنی بم گرانے کی بات ہے جو امریکہ کے پاس ہے اور اسے ٹرانسپورٹ کرکے ایران پر گرانے والے طیارے بھی امریکہ کے پاس ہیں۔ اس جنگ کا آخری پتہ ایرانی ایٹمی تنصیبات کی مکمل تباہی، امریکہ ہاتھوں ہی ممکن ہے اس لئے اسرائیل چیخ و پکار مچا رہا ہے کہ ہائے میں مر گیا، جلدی کرو، مجھے بچاﺅ۔ جہاں تک رجیم چینج کا تعلق ہے تو وہ سردست ایران میں ممکن نظر نہیں آ رہی ہے۔ رہبر ایران کی تبدیلی ممکن نہیں ہے ہاں امریکہ آیت اللہ کو شہید کر سکتا ہے لیکن اپنی مرضی کا، آیت اللہ ایرانیوں پر نافذ یا مسلط نہیں کر سکتا ہے۔ اس لئے رجیم چینج تو ممکن نظر نہیں آ رہی ہے۔ ایٹمی تنصیبات پر حتمی بمباری کے ذریعے ایران کی ایٹمی صلاحیت کا خاتمہ ممکن ہے اور امریکہ اس موقع سے فائدہ ضرور اٹھائے گا۔ وہ کسی بہانے کی تلاش میں ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ ایران کوئی غلطی کرے جس کی آڑ میں امریکہ ایران پر پل پڑے۔ ویسے کوئی غلطی خود کرکے ایران کے گلے ڈالی جا سکتی ہے اور پھر ایران پر حملہ آور ہوا جا سکتا ہے۔ امریکہ پہلے بھی ایسا کرتا رہا ہے اور اب بھی ایسا کرنا کوئی بعید نہیں ہے۔ بات صرف وقت کی ہے۔ تھوڑا انتظار کیجئے۔