Wed, September 16, 2026

بانی کو مس گائیڈ کون کرتا ہے 

بانی کو مس گائیڈ کون کرتا ہے 

علی امین گنڈا پور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے لوگ جیل میں جا کر انھیں Misguide کرتے ہیں اور جس احتجاج میں سو بندے نہیں ہوتے اس کے متعلق کہتے ہیں کہ لاکھوں افراد تھے اور بتاتے ہیں کہ بس انقلاب آیا ہی چاہتا ۔ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں جا کر کون مس گائیڈ کرتا ہے اس پر بات کرنے سے پہلے دو امور پر مختصر گذارشات عرض کرنا ضروری ہے ۔ ایک تو محسن نقوی صاحب کی پریس کانفرنس پر چند جملے ۔ انھوں نے کہا تھا کہ جیل میں عمران خان کے طبی معائنہ سے پہلے انھوں نے تحریک انصاف سے کہا تھا کہ وہ اپنے ڈاکٹر کا نام بتائیں جنھیں خان صاحب کے طبی معائنہ کرنے والے پینل میں شامل کرنا ہے لیکن تین گھنٹے کے انتظار کے بعد بھی جب کوئی نہیں آیا تو پھر ڈاکٹر جیل میں عمران خان کے میڈیکل چیک اپ کے لئے چلے گئے ۔ محسن نقوی صاحب کے اس بیان پر بڑی لے دے ہوئی اور کہا گیا کہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے لیکن اب علیمہ خان نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے انھیں کہا تھا کہ ڈاکٹروں کا نام دیں لیکن میں نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم ڈاکٹر کا نام دیں ۔ ان کے اس اعترافی بیان کے بعد جو لوگ محسن نقوی کے بیان کو جھوٹ کہہ رہے تھے انھیں کم از کم ایک بار تو ضرور اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے ۔ دوسرا صدر مملکت آصف علی زرداری نے جنوبی پنجاب کے دورے میں مختلف مقامات پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی جیل میں شاہانہ خوراک اور سات بیرکس میں رہائش کے باوجود چھوٹی چھوٹی تکالیف پر واویلا کرنے پر تنقید کی تھی ۔ یقینا یہ بات تحریک انصاف کے کارکنوں کو بری لگی ہو گی اور ان کو اس کا جواب سیاسی انداز میں ہی دینا چاہئے تھا لیکن وہ شعور عمرانی ہی کیا کہ جس میں سیاسی انداز میں گفتگو کی جائے انھوں نے اپنی روش کے عین مطابق جو کہا اس کالم میں اس کا ذکر مناسب نہیں لیکن پھر بختاور بھٹو زرداری نے اس کا بڑا ہی مناسب جواب دے کر ان کا گھر پورا کر دیا ہے ۔ دل بہت کر رہا ہے کہ پوری تفصیل کے ساتھ اس سارے معاملہ پر بات کریں لیکن شکر ہے کہ ہماری ذہنی تربیت ایسی نہیں ہوئی کہ ہم غلاظت کو پھیلانے کا ذریعہ بنیں ۔
اب بات کرتے ہیں اپنے اصل موضوع کی کہ بانی کو جیل میں جا کر پارٹی کے لوگ مس گائیڈ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ درست فیصلے نہیں کر پاتے ۔ ہماری رائے میں اس طرح کی تمام باتیں بانی کو Face Savingدینے کے لئے کی جاتی ہیں لیکن زمینی حقاق اس قدر واضح ہیں کہ اس طرح کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں اور رہیں گی ۔ لیکن پھر بھی بحث سے بچنے کے لئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ یہ بات درست ہے تو پھر ہمیں ماضی قریب میں جانا پڑے گا ۔ اپریل 2022میں عدم اعتماد کے ذریعے خان صاحب وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوئے اور مئی2022یعنی صرف ایک ماہ بعد ہی انھیں نئے الیکشن کی آفر کی جاتی ہے اور خان صاحب اس کو مان بھی لیتے ہیں لیکن پھر خان صاحب کے کان میں کوئی پھونک مارتا ہے کہ جناب اس طرح تو عوام میں ڈیل کا تاثر جائے گا تو عمران خان پشاور سے ڈی چوک اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کر دیتے ہیں تاکہ دنیا کے سامنے یہ پیغام جائے کہ عمران خان کی زبردست عوامی مقبولیت سے خوف زدہ ہو کر حکومت نے مجبوری کے عالم میں الیکشن کا اعلان کیا ہے ۔ اب ساری عقل صرف خان صاحب کے پاس ہی نہیں ہے بلکہ کچھ عقل دوسروں کے پاس بھی ہے انھوں نے خان صاحب کے جب یہ تیور دیکھے تو حکومت نے انتخابات کرانے سے ہی انکار کر دیا ۔ یہ خان صاحب کو انتخابات کے حوالے سے پہلی آفر تھی ۔ انتخابات کی دوسری آفر آرمی چیف کی تقرری کے وقت ایک بار پھر کی گئی لیکن اس وقت خان صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ انتخابات کرا دیں لیکن نئے آرمی چیف کی تقرری انتخابات کے بعد میں بطور وزیر اعظم خود کروں گا ۔ حکومت نے کہا کہ خان صاحب آپ اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش ۔ اس کے بعد ستمبر 2023میں میں انتخابات کی آفر ہوئی لیکن اس وقت خان صاحب نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس بننے سے پہلے عمر عطا بندیال کے دور میں انتخابات کرائیں تو قابل قبول ہوں گے ۔ غور کریں کہ خان صاحب نے ہر موقع پر بیساکھیوں کے بغیر انتخابات سے انکار کر دیا تھا اور اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ کسی اور کو پتا ہو یا نہ ہو لیکن عمران خان کو اپنی نام نہاد مقبولیت کا بخوبی اندازہ تھا اور انھیں اس بات کا بھی بخوبی علم تھا کہ بغیر ایمپائر کو ساتھ ملائے انھیں کامیابی نہیں مل سکتی ۔
یہ بات یاد رکھیں کہ مذکورہ بالا تینوں مواقع پر خان صاحب کو انتخابات کی آفرز کی گئی تھیں کسی قسم کی ڈیل نہیں کی گئی تھی ۔ اس سارے عرصہ میں خان صاحب جیل میں نہیں تھے بلکہ جیل سے باہر موجود تھے اور کوئی انھیں غلط خبریں نہیں دے رہا تھا بلکہ تمام حقائق سے با خبر رہتے ہوئے انھوںنے خود فیصلے کئے تھے ۔ اب جیل میں اگر انھیں کوئی مس گائیڈ کرتا ہے تو خان صاحب کے پاس ایک عدد ٹی وی ہے اور اس کے علاوہ انھیں روزانہ دو اخبارات بھی ملتے ہیں کہ جو کسی بھی بندے کو باہر کے حالات سے با خبر رکھنے کے لئے کافی ہوتے ہیں لہٰذا انھیں کوئی مس گائیڈ نہیں کر رہا بلکہ ان کا خبط عظمت انھیں مس گائیڈ کرنے کے لئے کافی ہے ۔ 

ٹیگز: