Wed, September 16, 2026

سپریم کورٹ کی عدالتی نظام میں اے آئی کے استعمال سے متعلق گائیڈ لائنز بنانے کی سفارش

سپریم کورٹ کی عدالتی نظام میں اے آئی کے استعمال سے متعلق گائیڈ لائنز بنانے کی سفارش

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے عدالتی نظام میں استعمال سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے 18 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا گیا، جس میں اے آئی کے مثبت استعمال کو سراہا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک جیسے اے آئی ٹولز عدالتی ریسرچ اور ڈرافٹ تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ججز بھی اپنے فیصلوں میں اے آئی کے استعمال کا اعتراف کر چکے ہیں۔ تاہم فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اے آئی صرف ایک مددگار ٹول ہے، جج کے اصل فیصلے کا متبادل نہیں بن سکتا۔ انسان کا فیصلہ ہی اصل اہمیت رکھتا ہے اور اسے مکمل خودمختار رہنا چاہیے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے تجویز دی کہ عدالتی اصلاحاتی کمیٹی اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن کو مل کر ایسی گائیڈ لائنز بنانی چاہئیں جن میں یہ طے ہو کہ عدالتی نظام میں اے آئی کا استعمال کہاں اور کس حد تک ہوگا۔

ٹیگز: