Wed, September 16, 2026

17 سالہ حکمرانی میں سندھ حکومت نے کراچی کو صرف تباہی دی، فاروق ستار

 17 سالہ حکمرانی میں سندھ حکومت نے کراچی کو صرف تباہی دی، فاروق ستار

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ حکومت 17 سال سے اقتدار میں ہے مگر اس دوران کراچی کو تباہی، بدامنی اور بدانتظامی کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے بہادرآباد مرکز پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن سندھ حکومت ان قومی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بھتہ خوری کی واپسی اور بلڈرز کو ہراساں کیے جانے کے واقعات سندھ حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہوچکی ہے، بھتہ خور ایک بار پھر متحرک ہیں اور تاجروں و بلڈرز کو بیرون ملک سے دھمکیاں اور بھتہ کی پرچیاں موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تو دفاتر پر فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں جس سے کاروباری طبقہ شدید خوف کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ آباد (ABAD) کے چیئرمین کی جانب سے بھتہ خوری سے متعلق انکشافات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ان کے مطابق بھتہ خوروں کے پاس بلڈرز کا مکمل ڈیٹا موجود ہے اور یہ وہی عناصر ہیں جو ماضی میں 2012 کی گینگ وار کے دوران کراچی کو یرغمال بنا چکے ہیں اور آج بیرون ملک بیٹھ کر نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے، لیکن سندھ حکومت اس میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ ایک جانب ایف بی آر کے چھاپے اور دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں کرپشن نے سرمایہ کاری کا ماحول تباہ کر دیا ہے۔

فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور بیرون ملک بیٹھے جرائم پیشہ عناصر کے ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبہ 17 سال میں مکمل نہ ہونا سندھ حکومت کی بدترین نااہلی ہے، اگر ایم کیو ایم کی تجاویز منظور ہو جائیں تو پانچ سال میں کراچی کو ترقی یافتہ شہر بنایا جا سکتا ہے۔

ٹیگز: