واشنگٹن: امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے یوکرین جنگ کے دوران روس سے سستے تیل کی خریداری کر کے عالمی منڈی میں مہنگے داموں فروخت کی، جس سے بھارت کے امیر ترین خاندانوں اور بڑے صنعتی گروپس نے 16 ارب ڈالر سے زائد کا غیر قانونی منافع کمایا ہے۔ بیسنٹ نے اس عمل کو موقع پرستی اور منافع خوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال امریکہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی روس سے تیل کی درآمدات نے یوکرین جنگ سے قبل صرف 1 فیصد کی حصہ داری سے بڑھ کر اب 42 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بیسنٹ نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین کی روسی تیل کی درآمدات میں معمولی اضافہ ہوا ہے، جو پہلے سے موجود تعلقات کا حصہ تھا، اس لیے چین کا رویہ موقع پرستانہ نہیں۔
تیل کے ماہر میٹ سمتھ کے مطابق بھارت روس سے رعایتی قیمت پر خام تیل خرید کر اسے ریفائن کرتا ہے، اور پھر یورپ جیسے ممالک کو بیچتا ہے جنہوں نے روس پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
روس کے یوکرین پر حملے کے بعد بھارت کی روس سے تیل کی درآمدات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، جو جنگ سے قبل بہت کم تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس سے بھارت پر مجموعی محصولات کی شرح 50 فیصد ہو گئی ہے۔ امریکی تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی تو مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
ان تنازعات کے باعث امریکہ اور بھارت کے تجارتی مذاکرات معطل ہو گئے ہیں اور امریکی تجارتی وفد کا بھارت کا دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔یہ کشیدگی امریکہ اور بھارت کے تجارتی تعلقات کے علاوہ عالمی توانائی مارکیٹ اور جغرافیائی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔