میں نے ایک گزشتہ مضمون میں بتایا تھا کہ پرنسس آٹھ سال کی ایک بچی ہے۔ اْس کا اصلی نام تو کچھ اَور ہے لیکن میں اْسے پرنسس کہتا ہوں۔ بلکہ اَب بہت سے لوگ اْسے میری پرنسس کہتے ہیں۔ اْس بچی نے خود سے ہی میرا دِل جیت لیا ہے۔ میرا پتھرگداخت کرنا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن اْس بچی نے کچھ اَیسا جادو جگایا ہے کہ میں اْس کا گرویدہ ہوگیا ہوں۔میں نے دیکھا ہے کہ لوگ پرنسس کو بہت تنگ کرتے ہیں۔ اْس کی ماں اْسے خواہ مخواہ میں ڈانٹتی رہتی ہے اَور اْس پر سختی کرتی ہے۔ وہ مجھے بار بار جتلاتی ہے کہ آپ کی پرنسس نے آج یہ کیا، وہ کیا۔ اْس کا بھائی بھی اَیسے کام کرتا ہے جس سے وہ چڑ جاتی ہے۔ لیکن میں نے کبھی پرنسس کو کسی سے بدتمیزی کرتے نہیں دیکھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اْس نے کبھی کسی کے لیے اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ اِستعمال کیے ہوں۔ میں نے یہ بھی کبھی نہیں دیکھا کہ وہ چیخ چیخ کر کسی سے لڑ رہی ہو یا کسی کو برا بھلا کہہ رہی ہو۔ جب وہ بہت اْداس ہوجاتی ہے تو روپڑتی ہے۔ اْس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں اَور وہ ایک طرف ہوکر اَپنے دِل کا غبار نکال لیتی ہے۔ اگر کوئی اْسے اْس وقت بھی تنگ کرنے کے لیے ہنسنے لگے تو وہ صرف یہ کہتی ہے کہ اِس میں ہنسنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اِس سے زیادہ وہ کبھی کسی کو کچھ نہیں کہتی۔
اِس کے مقابلے میں میں اَپنے محلے کے بچوں کودیکھتا ہوں تومیں حیران رہ جاتا ہوں کہ اِن بچوں اَور اْس بچی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میرے محلے کے بچے بے تکان گالیاں بکتے ہیں۔ وہ اَپنے دوستوں سے فحش مذاق بھی کرتے ہیں۔ پڑھائی لکھائی سے میرے محلے کے بچوں کا کوئی خاص لینا دینا نہیں ہے۔ اگرچہ زیادہ تر بچے سکول جاتے ہیں لیکن اْنہوں نے پڑھائی لکھائی کے کام کو اَپنے سر پر سوار نہیں ہونے دِیا۔ وہ اْس سے پرے ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ جمعے اَور ہفتے کی راتوں کو تو یہ دو دو بجے تک گلی میں کرکٹ کھیلتے رہتے ہیں۔ یہ گھوں گھوں کرکے موٹر سائیکلیں دوڑاتے ہیں۔ کرکٹ کھیلتے ہوئے یہ اِس قدر گالیاں بکتے ہیں کہ اِنسان کانوں کو ہاتھ لگا لے۔ اِن کی عمریں بھی سات سے بارہ سال کے درمیان میں ہیں۔ ان میں سے کئی الیکٹرونک سگرٹ بھی پیتے ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اِن کے والدین کون سا نشہ کرکے سو رہے ہیں کہ اْنھیں کچھ پتا نہیں کہ اْن کے ہونہار باہر گلی میں کیا گل کھلا رہے ہیں۔ہمیں کچھ اَندازہ نہیں کہ ہمارے ملک کے اِس عمر کے بچے کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ غریب بچے کسی دْکان یا ورکشاپ پر صبح سے شام تک دھکے اَور گالیاں کھاتے ہیں اَور نہایت کم اْجرت پر کام کرتے ہیں۔ اْن بچوں کے ساتھ اْستاد یا دْکان کا مالک جس قسم کا سلوک کرتا ہے، اْسے دیکھ کر کسی کی بھی آنکھوں میں آنسو آجائیں۔ پھر اْن کے ساتھ جنسی زیادتی کے جس قدر واقعات ہمارے ملک میں ہوتے ہیں، اْن پر ہم صرف ماتم ہی کرسکتے ہیں۔ بسوں کے اڈوں پر ہونے والی زیادتیاں تو ہر حد سے پار ہوتی ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ یہ بچے نہ سکول جاتے ہیں، نہ کسی بھی قسم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ غلاموں کی سی زندگی بسر کررہے ہیں۔ والدین نے اِنہیں اِس لیے اِس کام پر لگا دیا ہے کیونکہ وہ غریب ہیں اَور بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتے۔ والدین شاید اپنا پیٹ کاٹ کر اَپنے بچوں کو پڑھوا لیں اگر اْنہیں یہ پتا ہو کہ تعلیم کا کوئی فائدہ ہے۔ ہمارے ملک کے زیادہ تر لوگوں کے نزدِیک تعلیم صرف دولت کمانے کے لیے حاصل کی جانی چاہیے۔ اگر دولت یوں ہی آنا شروع ہوجائے تو پھر تعلیم حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ وہ سوچ ہے جس نے پوری قوم کو ذہنی اپاہج بنا دیا ہے۔ اَب یہ کچھ بہتر سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اِن کے نزدِیک زِندگی میں کامیابی کی کسوٹی صرف اَور صرف دولت ہے۔ اگر دولت مل جائے تو کامیابی ہے ورنہ ناکامی۔
میں دیکھتا ہوں کہ امیروں کے بچے اِس قدر بگڑے ہوئے ہیں جس کا کوئی حساب نہیں۔ چند دِن پہلے اِسلام آباد سے لاہور ٹرین پر آتے ہوئے ہوئے میرے قریب ایک فیملی بیٹھی تھی۔ نوجوان باپ، ماں اَور ایک سات آٹھ سال کا بچہ۔ بچے کو پیاس لگی۔ اْس نے ماں سے پانی کا مطالبہ کیا۔ ماں نے کہا کہ پانی والا اَبھی آئے گا تو وہ اْسے پانی کی بوتل لے دے گی۔ جب وہ پانی والا پندرہ بیس منٹ تک نہیں آیا تو بچے نے ماں سے کہا کہ یہ پانی والا کہاں دفع ہوگیا ہے، کہاں مر گیا ہے۔ میں یہ جملے سن کر سکتے کے عالم میں آگیا۔ سات آٹھ سال کے بچے کی زبان اَور تکبر میرے لیے نہ صرف حیران کن تھا بلکہ مجھے نہایت افسوس بھی ہوا۔ یہی صورتِ حال اْن بچوں کی ہے جو نہایت امیر سکولوں میں پڑھتے ہیں اَور شان دار کاروں میں گھومتے پھرتے ہیں۔ وہ بھی کمال درجے کے بدتمیز اَور متکبر ہیں۔ نہ جانے اْس سکولوں میں کیا سکھایا جاتا ہے؟
ہمارے بچپن میں لوگ محلے کے بڑوں کی عزت کرتے تھے اَور اْن سے ایک طرح سے ڈرتے بھی تھے۔ کوئی بھی بڑا کسی بھی بچے کو اْس کی غلطی پر ڈانٹ سکتا تھا۔ دوپہر کو گلی میں کرکٹ یاگلی ڈنڈا کھیلنے پر شور مچانے پر اْنہیں ڈانٹ ڈپٹ کر گھر بھی بھیج سکتا تھا۔ اَب اِس بات کا کوئی تصور کہیں نہیں پایا جاتا۔ ماڈرن سوسائٹیوں میں محلے کے بڑے نہیں ہوتے۔ سب برابر ہوتے ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ کسی دْوسرے کے بچے کوکسی غلط بات پر ٹوک دے۔ اگر کسی بچے نے کسی کے گھر کا شیشہ اَپنی گیند سے توڑ دِیا ہے تو آپ سوسائٹی کے دفتر میں شکایت لگائیں۔ وہ لوگ خود ہی اْن سے نمٹ لیں گے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اگر کسی بچے کی کسی دوسرے سے کھیل کے دوران تو تو میں میں ہوجائے تو اب معاملہ یہاں تک جاپہنچتا ہے کہ چند بچے ڈنڈے لے کر آتے ہیں اَور اْس بچے کو اِس بری طرح مارتے ہیں کہ اْس کی کئی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں، جبڑے ٹوٹ جاتے ہیں، آنکھ پھوٹ جاتی ہے وغیرہ۔ نہ جانے اِس قدر تشدد ہمارے یہاں کہاں سے آگیا ہے؟ والدین بجائے اَپنے بچوں کو منع کرنے کے، اْلٹا مرنے مارنے پر اْتر آتے ہیں۔ معاملہ پولیس کچہری تک جا پہنچتا ہے۔ دس بارہ سال کے بچوں کے اخلاق کا اَب یہ حال ہوگیا ہے۔
اِن کے مقابلے میں میری پرنسس بے حد بااخلاق اَور تمیز والی بچی ہے۔ اْس کے اَندر آپ کو وہ چالاکی اَور ہوشیاری بھی نظر نہیں آئے گی جو میرے محلے کے بچوں یا امیروں کی اولاد میں نظر آتی ہے۔ وہ ایک نہایت معصوم زندگی بسر کررہی ہے۔ اِس زندگی میں کسی کی برائی نہیں ہے۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہے۔ کسی کو برا بھلا نہیں کہا جاتا۔ کسی کے لیے برے الفاظ اِستعمال نہیں کیے جاتے۔ کسی کو دھوکا دے کر اْس کی کسی چیز پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی جاتی۔ اِس لیے میں تو سب سے یہ کہتا کہ کوئی پرنسس کو تنگ نہ کرے۔