Wed, September 16, 2026

امیدِ سحر کی بات کرو

امیدِ سحر کی بات کرو

بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ زمین سونا اگلتی ہے، آپ بھی بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ پاکستان معدنیاتی وسائل سے مالا مال ہے اور اب جو احسن اقدام پاکستان 8-9 اپریل کو اٹھانے جا رہا ہے اس کے بعد تو زمین در حقیقت سونا اگلے گی۔ ڈیوڈ رکارڈو نے انیسویں صدی میں Comparative advantage نام کا ایک نظریہ پیش کیا۔ جس کے بقول ممالک ایک دوسرے سے ایک مخصوص طرز کی تجارت کر کے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور وہ مخصوص طرز یہ ہے کہ آپ وہی بنا کر بیچیں جو آپ بہترین بنا سکتے ہیں، مان لیں آپ سے اچھا وہ کوئی اور بنا ہی نہیں سکتا اور جو آپ اچھا نہیں بنا سکتے وہ اس سے خرید لیں جس کی اس میں مہارت ہے۔ پوری دنیا اس وقت اس ماڈل کو اپنا چکی ہے، ممالک فورم بناتے ہیں، پھر سمٹ کراتے ہیں، ایک بھرپور میلہ سجتا ہے اور شاندار کاروبار کیا جاتا ہے۔ اس میں آپ کے پاس سب سے بڑی مثال سعودی عرب کی ہے۔ سعودی عرب کے گزشتہ برس کے منرل فورم میں 7.2 بلین ڈالر کی ڈیلز ہوئیں۔ خیر قصہ کچھ یوں ہے کہ ہم نے ایس آئی ایف سی بنائی، جس نے ہمیں بتایا کہ ہم مائننگ کر کے منرل سیکٹر میں انویسٹمنٹ لا سکتے ہیں، پاکستان کے اگر معدنی وسائل کی بات کریں تو پاکستان میں 7,000 میٹرک ٹن کاپر، 50 ملین اونس سونا و چاندی اور اس کے ساتھ سیسہ، نکل، بیریٹ، لوہا، باکسائٹ اور گریفائٹ کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو اسے دنیا کے معدنی وسائل سے مالا مال ترین خطوں میں شامل کرتے ہیں۔ صرف بلوچستان میں 6.5 بلین ٹن کاپر کے ذخائر موجود ہیں، جن میں ریکو ڈِک (5.5 بلین ٹن) اور سینڈک (400 ملین ٹن) شامل ہیں، جبکہ 500 ملین ٹن کرومائیٹ، 14 ملین ٹن بیریٹ اور 3 ملین ٹن چونا پتھر سالانہ پیدا ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سوات کے عالمی معیار کے زمرد کان، 3 بلین ٹن گرینائٹ اور وسیع چونا پتھر کے ذخائر موجود ہیں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر راک گولڈ، پلینسر گولڈ، اینٹمونی اور مولیبڈینم کے ساتھ اعلیٰ معیار کے چونا پتھر کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔ سندھ میں 185 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جہاں سالانہ 4 ملین ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 26 بلین ٹن گرینائٹ اور 5 بڑی سیمنٹ فیکٹریاں وسیع چونا پتھر کے ذخائر استعمال کر رہی ہیں۔ پنجاب میں لامحدود مقدار میں چونا پتھر، راک سالٹ اور لوہا پایا جاتا ہے جبکہ 134 ملین ٹن سلیکا کی موجودگی اس خطے کو معدنی صنعتوں کا مرکز بناتی ہے۔ اور تو اور پاکستان میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان موجود ہے، جس میں 50,000 میٹرک ٹن گلابی نمک کے ذخائر پائے جاتے ہیں، جو اپنی منفرد رنگت اور معدنیاتی خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔
پاکستان دو روزہ عالمی منرل انویسٹمنٹ فورم کرانے جا رہا ہے، جو نہ صرف ملکی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ثابت ہو گا بلکہ ایک معدنیاتی انقلاب لے آئے گا جس سے برآمدات اور شرح نمو میں اضافہ ہو گا۔ بالخصوص بلوچستان میں ترقی کی ایک لہر دوڑ جائے گی۔ دنیا بھر سے انویسٹر کا دو روزہ پروگرام کے لیے پاکستان آنا ایک تو ہمارے ملک کی ساکھ کو بہتر کرے گا تو دوسرا ہماری معیشت کو ترقی کی اس راہ پہ ڈال دے گا کہ زمانہ رشک کرے گا، اس دو روزہ فورم میں چار مختلف اقسام کے پروگرام رکھے گئے ہیں، جن میں پہلا سٹریٹجک کانفرنس ہے جس میں پینل ڈسکشنز ، پریزنٹیشنز اور گول میز تبادلہِ خیال کے ذریعے عالمی انویسٹر کو ہمارے معدنی وسائل کی اہمیت کے بارے آگاہ کیا جائے گا، پھر ایک ٹیکنیکل کانفرنس کرائی جائے گی جس میں جدید سائنسی تعاون کو یقینی بنایا جائے گا، پھر انٹرنیشنل ایگزیبشن کرایا جائے گا، یہ ہمارے معدنیات کی ایک نمائش ہو گی، جس میں عالمی انویسٹر اور کمپنیاں ہمارے ذخائر دیکھ سکیں گی اور سب کے بعد تفریح کے لیے ایوننگ گالا کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں ہمارے ثقافتی پروگرام اور تھیٹر پیش کیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیر بین الاقوامی امور اسحاق ڈار، فنانس منسٹر محمد اورنگزیب، انرجی منسٹر علی پرویز ملک اور ایم ڈی او جی ڈی سی ایل احمد حیات لک سمیت مختلف مائننگ ایکسپرٹ اس فورم پہ دنیا بھر سے آئے مہمانوں کا خیر مقدم کریں گے۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کی جانب سے خواجہ آفتاب احمد شرکت کریں گے اور اگر مہمانوں کی فہرست دیکھی جائے تو بیرک گولڈ کارپوریشن کے مارک برسٹو، ریکو ڈک مائننگ کپمنی سے اساک مارے، سعودی جیو لاجیکل سروے کے انجینئر عبداللہ مفتر ای ٹرینر میڈیا کی ایتھن ٹرینر زی جنگ مائننگ گروپ کے ڈپٹی صدر شین شاؤ ینگ جیسے بڑے نام اس فورم میں شمولیت اختیار کرنے جا رہے ہیں، اور یہاں صرف کاروباری انویسٹر جمع نہیں ہو رہے، ٹیکنوکریٹس بھی چھب دکھلائیں گے غلام اسحاق خان یونیورسٹی کے ڈین سمی فاروق اپنے جیالوجیکل علم کی روشنی میں مائننگ کی جدید تکنیکوں پہ روشنی ڈالیں گے اور جہاں اتنی اہم شخصیات جمع ہوں وہاں میڈیا نہ ہو ایسا ممکن نہیں، بلومبرگ نیوز کے بیورو چیف فصیح منگی آ رہے ہیں، ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی ڈپٹی ڈائریکٹر کیتھی مارش کی آمد ایشیا میں پاکستانی معدنیات کی قدر و قیمت کو اجاگر کرے گی، بعض لوگ یہ خیال کر رہے ہیں کہ شاید سرمایہ کار کہیں ملکی املاک خرید لے جائیں گے تو ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ صرف ہمارے Untapped Resources کو ایکسپلور اور ایکسپلوائٹ کرنے میں معاون ثابت ہوں گے، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی چیئر پرسن گلمینہ بلال کی اس فورم کے پینل میں موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ آنے والے وقتوں میں ہم اپنی آبادی کو لائبلٹی سے نکال کر ہنر مند طبقہ بنا کر روزگار فراہم کر سکیں گے۔ آئیے اب زرہ امیدِ سحر کی بات کرتے ہیں، ہمارا جو آدھے سے زیادہ بلوچستان بیابان کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے جس میں بی ایل اے جیسے بھیڑیے بیروزگار نوجوانوں کو میمنوں کی طرح اچک کر اپنے چنگل میں پھنسا لیتے ہیں وہ ناکام ہوں گے، کیونکہ ہمارے نوجوان کے لیے روزگار کے مواقع خود چل کر ان کے دروازوں پہ آئیں گے، اور ایسا صرف اور صرف اس پاک وطن کی زرخیز مٹی کے باعث ہو گا۔
ترقیاتی منصوبے شروع ہوں گے تو انویسٹر انفراسٹرکچر تعمیر کریں گے، سڑکیں بنیں گی تو ان کے کنارے سی این جی سٹیشن اور پٹرول پمپ لگیں گے، پھر سڑکوں پر آمد و رفت ہو گی تو وہاں ہوٹل بنیں گے، ہوٹلوں کو اسباب فراہم کرنے کو سبزی فروٹ گوشت کی دکانیں سجیں گی، پھر یہاں شاندار رہائش گاہیں بنیں گی اور رہائش پذیر افراد کے لیے برینڈز کھلیں گے، جوتوں کپڑوں کی دکانیں بنیں گی، مالز بنیں گے، ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنیں گی جن میں پارک ہوں گے، جہاں بچے جھولے جھولیں گے، تتلیاں اٹھکیلیاں کریں گی اور امن و آتشی کے پھول کھلیں گے!

ٹیگز: