آپ کو یاد ہوگا کہ پرنسس نو سال کی ایک بچی ہے جو چوتھی جماعت میں پڑھتی ہے۔ اْس کا اَصل نام تو کچھ اَور ہے لیکن میں اْسے پرنسس کہتا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ اْس کی ماں اَور اْس کے بھائی پرنسس کو بات بات پر ٹوکتے ہیں۔ یہ مت کرو۔ اَیسا کرنا ٹھیک نہیں۔ تمھیں یہ نہیں کرنا چاہیے وغیرہ۔ اِس سے پرنسس بہت پریشان رہتی ہے۔ میں اْس کی ماں سے کہتا ہوں کہ پرنسس کو مت ٹوکو۔ وہ میری پرنسس ہے۔ وہ جو چاہے کرے۔ اْسے کرنے دو۔ لیکن میری بات کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا۔
پرنسس پر ہی کیا موقوف ہے ، ہمارے یہاں زیادہ تر بچیوں کیساتھ یہی ہے۔ بچیوں کے معاملے میں ہمارے خیالات، نظریات اَور سوچ لڑکوں سے بالکل مختلف ہیں۔ معاملہ تعلیم کا ہو، نوکری کا ہو، شادی کا ہو، سہیلیوں کیساتھ مارکیٹ جاکر شاپنگ کرنے کا ہو، کسی جگہ جاکر کھاناکھانے کا ہو ہمارے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں۔ ہمارا سب سے پہلا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ ہم منع کردیں۔ اگرلڑکی کو کسی اَیسے سکول میں داخل کرانے کی بات ہو جہاں لڑکے بھی پڑھتے ہیں تو ہم کہیں گے کہ یہ کام غلط ہے۔ لڑکی کو لڑکیوں کے اسکول میں ہی داخل کرایا جانا چاہیے۔ اگر لڑکے کو کسی اَیسے اسکول میں داخل کرانے کی بات ہو جہاں لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں تو ہم زیادہ ردوقد نہیں کریں گے اَور لڑکے کو داخل کرادیں گے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے خیال میں ہماری لڑکی کو ایجوکیشن میں پڑھ کر خراب ہوجائے گی۔ لڑکا اگر خراب ہوجاتا ہے تو اْس کا ہمیں زیادہ غم نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں ہماری عزت لڑکی کے کردارسے بندھی ہے، لڑکے کے نہیں۔ اِسی طرح اگر لڑکی کو کسی دْوسرے شہر میں کسی اچھے تعلیمی اِدارے میں داخل کرانے کی بات آئے تو میراتجربہ یہ کہتا ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے، ڈگری یافتہ لوگ بالکل جاہل بن جاتے ہیں۔ اْن کاکہناہوتا ہے دْوسرے شہر کے اچھے تعلیمی اِدارے سے بہتر ہمارے اپنے شہر کا کمتر تعلیمی اِدارہ ہے۔ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اْن کے خیا ل میں لڑکی نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کون سی نوکری کرنی ہے۔ اْس نے شادی کے بعد بچے پالنے ہیں،شوہر کی خدمت گزاری کرنی ہے اَور گھر سنبھالنا ہے۔ چنانچہ اگروہ کم تر تعلیمی اِدارے میں بھی تعلیم حاصل کرلے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لڑکے نے تو کمائی کرنی ہے۔ گھرکاخرچ اْٹھانا ہے۔ لہٰذا اْس کا اچھی تعلیم حاصل کرنا بنتا ہے۔ پھر یہ کہ لڑکا دْوسرے شہر جاکر خراب ہوبھی گیا تو ہمارا کچھ نہیں جائے گا۔ ہماری ناک نہیں کٹے گی۔ لڑکے کے کمرے سے بے شک شراب کی بوتلیں نکلیں، وہ طوائفوں کے ڈیروں پر جائے، بیک وقت کئی کئی لڑکیوں سے عشق لڑائے ہم یہ سب برداشت کرلیتے ہیں۔ لیکن یہ بات میں اِس سے پہلے کے ایک مضمون میں لکھ چکا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں اَب لڑکیاں یا خواتین مجبوری میں نوکری کررہی ہیں۔ ہمارے یہاں طلاق کا رجحان خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ نکھٹو، کم کمانے والے، نشئی مردوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وہ مرد جو بیویوں کو مارتے پیٹتے ہیں، وہ سسرالی جنہوں نے بہوئوں کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے بہت زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ خاتون کو کمانے کے لیے یا گھر سے کچھ دیر کے لیے بھاگنے کے لیے نوکری کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ شہر میں گھوم پھر کر دیکھ لیں، نوکری پیشہ خواتین کی تعداد، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقات میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ہمارے یہاں لڑکیوں کے سلسلے میں بہت زیادہ تنگ نظری اَور قدامت پرستی پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، بہت پڑھے لکھے لوگ بھی اِس بیماری سے پاک نہیں ہیں۔ لیکن دْوسری جانب معاشی اَور معاشرتی مسائل کا اَنبار ہے۔ لہٰذا اَب یہ کہنا کہ لڑکی کو زیادہ اچھی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اْسے نوکری کی ضرورت نہیں یا اْسے نوکری نہیں کرنی چاہیے، اَب حقیقت سے آنکھیں چرا کر اندھیروں میں گھومنے کے مترادف ہوگیا ہے۔ پھر جب لڑکی پر مصیبت آتی ہے، تو اْس کے پاس کوئی ہنر،کوئی تعلیم نہیں ہوتی۔ میں کئی ڈاکٹر اَور انجینئر خواتین کو جانتا ہوں جنہوں نے شادی کے بعد سب کچھ چھوڑ دیا۔ پھر جب اچانک حالات نے پلٹا کھایا تو اْن کیلئے کہیں کوئی ملازمت نہیں تھی۔ یہ سمجھنا کہ ڈاکٹر یا انجینئر خاتون جب چاہے اْسے ملازمت مل سکتی ہے احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ملازمت کے سلسلے میں بھی یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ لڑکی بے شک ڈاکٹر بن جائے لیکن اْسے چاہیے کہ اگرنوکری کرنی ہی پڑے تو وہ سکول میں نوکری کرلے۔ یہ نہ صرف اْس بچی کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ ملک کے ساتھ بھی ظلم ہے کہ ہم نے ایک ایسے ملک میں جہاں تیرہ سو افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے ایک تعلیم یافتہ ڈاکٹر کو ضائع کردیا۔ مزید یہ کہ یہ اْن بچوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے جنہیں وہ ڈاکٹر یا انجینئر پڑھائے گی۔ اگر کسی نے پڑھانے کا پیشہ ہی اِختیارکرنا ہے تو اْسے ایجوکیشن کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ تعلیم دینا ایک الگ ہنر ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ اِس کی الگ سے تعلیم دی جاتی ہے۔
ہم اپنے بیٹے کو بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے کے لیے بھی فوراً تیار ہوجائیں گے اگر ہمارے پاس پیسے ہیں تو۔ لیکن اپنی بیٹی کو لاہور سے اسلام آباد بھیجنا پڑجائے تو ہمارے طوطے اْڑ جاتے ہیں۔ ہم نت نئے قسم کے اعتراضات اْٹھاتے ہیں۔ یہ اکیلی اِسلام آباد کیسے جائے گی؟ بس کے اڈے سے یونی ورسٹی کیسے جائے گی؟ یونی ورسٹی سے بسوں کے اڈے تک کیسے جائے گی؟ اِس مسئلے کو ہم اِتنا بڑھاتے ہیں کہ ہم بیٹی کی اعلیٰ اَور اچھی تعلیم میں ہی رْکاوٹ کھڑی کردیتے ہیں۔ بس کے اڈے سے یونی ورسٹی جانے کا مسئلہ ہر گز اِتنا بڑا نہیں ہے کہ اْس کے لیے ہم اعلیٰ اَور اچھی تعلیم اَوریوں بیٹی کا مستقبل ہی داؤ پرلگادیں۔ دْوسری جانب میں دیکھتا ہوں کہ بارِش ہو یا طوفان مڈل کلاس گھرانوں کی لڑکیاں موٹر سائیکل خود چلاکر کام پر جارہی ہوتی ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اْن کی کوئی اَیسی مجبوری ہے جو اْنھیں نوکری کرنے کے لیے گھر سے باہر نکالتی ہے۔ یہ مجبوریاں دِن بہ دِن معاشرے میں بڑھتی جارہی ہیں۔ ہم لوگوں نے اِن کی طرف سے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ لیکن اَب یہ گھومتے گھامتے ہمارے چاروں طرف پھیل گئی ہیں۔
دْنیا بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ ہم کسی جزیرے میں بند ہوکر، ساری دْنیا سے آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھ سکتے۔ اِن تبدیلیوں نے ہمارے گھرکا رْخ بھی کرنا ہے۔ اگر ہم اْن کے لیے تیار نہ ہوئے تو بڑی مشکل میں آجائیں گے۔ اَور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم پر وہ مشکلات آرہی ہیں۔ میں نے سنا کہ ایک صاحب کی ماتحت خاتون سے ایک دِن کام ٹھیک طرح سے نہیں ہوپارہا تھا۔ اْن صاحب کے پوچھنے پر خاتون نے بتایا کہ اْن کے بچے کو بخار ہے اَور وہ گھرپر ہے۔ اْس کی وجہ سے وہ خاتون پریشان تھیں۔ اْن صاحب نے اْن خاتون کو ڈانٹنا شروع کردیا کہ تم سے کس نے کہا ہے کہ تم نوکری کرو۔ خواتین کو گھرمیں بیٹھ کر بچوں کی سیوا کرنی چاہیے۔ خواتین کا کوئی کام نہیں ہے کہ وہ نوکری کریں۔ حالانکہ اْن صاحب کو یہ چاہیے تھا کہ وہ اْس وقت اْس خاتون کو گھر بھیج دیتے اَور یہ کوشش شروع کرتے کہ دفترمیں ایک ڈے کیئر سنٹر کھل جائے جہاں مائیں اَپنے چھوٹے بچوں کو رکھ کر آرام سے نوکری کرسکیں۔ اَیسے سنٹر اَب بہت سی جگہوں پر کھل گئے ہیں اَور اْن کے بے شمار فائدے ہیں۔
اِسی لیے میں پرنسس کی ماں سے کہتاہوں کہ میری پرنسس جو چاہے کرے۔ اْسے کرنے دو۔ تمہارا کام اْس کے راستے کی رکاوٹوں کو دْور کرنا ہے، رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں۔ اْسے پر لگاؤ تاکہ وہ اْڑ سکے۔