اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سوشل میڈیا اسٹار ثناء یوسف کے لرزہ خیز قتل کا مقدمہ منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے مجرم عمر حیات کو پھانسی کی سزا کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے آج ہی پراسیکیوشن کے دلائل اور حتمی جرح مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے سناتے ہوئے مجرم پر سزائے موت کے ساتھ ساتھ مقتولہ کے لواحقین کو20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے اعلیٰ عدلیہ کے متعدد فیصلوں کی نظیریں پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ملزم کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔پراسیکیوشن ٹیم نے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا "ہم نے عدالت کے سامنے ڈیجیٹل، طبی اور چشم دید گواہان کے ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے۔ ثناء یوسف کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا، اور آج عدالت نے ہماری سزائے موت کی استدعا کو منظور کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قانون سے بڑھ کر کوئی نہیں۔
عدالتی ذرائع کے مطابق، جج کی جانب سے ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے وقت کچہری کے اندر اور باہر پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا تھا اور سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھی گئی۔ مقتولہ ثناء یوسف کے خاندان نے سیشن کورٹ کے اس فیصلے کو قانون اور انصاف کی بڑی جیت قرار دیتے ہوئے پراسیکیوشن ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے۔