نامور بزرگ صحافی اور مو¿قر جریدے ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ لاہور کے بانی مدیرِ اعلیٰ محترم الطاف حسن قریشی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔ بلا شبہ وہ ایک بہت بڑی شخصیت اور ایک ایسے اخبار نویس تھے جنہیں رجحان ساز (Trend setter) کہا جا سکتا ہے۔ میرا اُن سے کب سے غائبانہ تعلق قائم ہوا، اس بارے میں میرے ذہن کے نہان خانے میں اتنی باتیں اور یادیں موجود ہیں کہ ان کو ترتیب سے بیان کرنا اور سمیٹنا آسان نہیں۔ گزشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کے ساتھ مِل کر معروف انگریزی ماہنامے ”ریڈرز ڈائجسٹ“ کے انداز میں اردو زبان میں لاہور سے ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ کی اشاعت کا آغاز کیا تو پھر آسمانِ صحافت پر وہ ایسے چھا گئے کہ ان کے بغیر اردو صحافت کا ذکر مکمل نہیں ہو سکتا۔ بلا شبہ وہ بہت بڑے صحافی، اعلیٰ پائے کے مدیر، بلند فکر تجزیہ نگار اور اونچے درجے کے کالم نگار تھے۔ ان کی تحریروں اور ان کے تجزیوں سے اختلاف کیا جا سکتا تھا لیکن ان میں حقائق کا جو بیان، دلیل اور منطق کی جو قوت، گہرے مطالعے اور مشاہدے کا جو عکس، تاریخ و تہذیب کا جو شعور، حسنِ تحریر کا جو کمال اور حالاتِ حاضرہ پر ان کی جو گرفت پائی جاتی تھی وہ ان کی تحریروں اور تجزیوں کی ایسی خوبیاں ہیں جو کم ہی لوگوں کے حصے میں آئی ہوں گی۔ بلا شبہ وہ اسلام، نظریہ پاکستان اور پاکستان کے نظریاتی اور اسلامی تشخص سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور اس بنا پر ان کی زیرِ ادارت شائع ہونے والے جریدوں جن میں ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ لاہور، ہفت روزہ زندگی لاہور اور روزنامہ جسارت ملتان“ شامل ہیں، میں ان پہلوو¿ں کو بطورِ خاص اجاگر کیا جاتا رہا۔ اس طرح وہ ایک ایسے مو¿قر اخبار نویس کے طور پر سامنے آئے جن کے نزدیک پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ، فکرِ اسلامی کے احیا، قراردادِ مقاصد کی روشنی میں اسلام اور نظریہ پاکستان کی ترویج اور اشاعت، پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالا دستی کو سب سے بڑھ کر اہمیت حاصل تھی۔ اس بنا پر پاکستان میں دائیں بازو کی سیاسی اور دینی سیاسی جماعتوں جن میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی جماعت اسلامی زیادہ نمایاں سمجھی جا سکتی ہے، کی حمایت اور تائید ہی ان کے حصے میں نہ آئی بلکہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں جن میں جناب ذوالفقار علی بھٹو
مرحوم کی پیپلز پارٹی سرِ فہرست سمجھی جا سکتی ہے، کی مخالفت میں بھی وہ پیش پیش رہے۔ خیر یہ باتیں اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان سے بڑھ کر ان کی شخصی خوبیاں اور صحافت میں ان کے بلند و بالا مقام ایسا ہے جو باقی تمام باتوں پر حاوی ہے۔
محترم الطاف حسن قریشی صاحب مرحوم سے اپنے غائبانہ تعلق اور ان سے ایک طرح کے لگاو¿ اور احترام کے نیازمندانہ رشتے کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے کے سن ۱۹۶۴ءکے جون یا جولائی کا مہینہ ہو گا جب پہلی بار قریشی برادران ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی مرحوم اور محترم الطاف حسن قریشی مرحوم کے زیرِ ادارت چھپنے والے رسالے ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ سے میرا تعارف ہوا۔ میں نے برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب مرحوم و مغفور کی معیت میں ایف اے کا امتحان دے رکھا تھا۔ عرفان صاحب کی درستی اور رفاقت میرے لیے ہمیشہ ایک قیمتی سرمایہ رہی۔ اس سے جہاں میں نے بہت سارے اثرات قبول کیے کہ وہاں میرے کُتب و رسائل و جرائد کے مطالعے کی عادت میںمزید پختگی و وسعت پیدا ہوئی۔ اس دور کے ایک دو بڑے اخبارات تو میں باقاعدگی سے پڑھا کرتا تھا ۔ اس کے ساتھ نسیم حجازی اور اس طرح کے مصنفین کے ناول پڑھنا بھی میرے لیے لگاو¿ کا باعث تھا۔ اسی دوران عرفان صاحب کی وساطت سے ”اردو ڈائجسٹ“ سے میرا تعارف ہوا۔ جیسا میں نے اوپر لکھا یہ ۱۹۶۴ءکے جون یا جولائی کا مہینہ تھا۔ ”اردو ڈائجسٹ“ کے سالنامے کا شمارہ جس میں جماعت اسلامی کے امیر سید ابوالاعلیٰ مودودی کا انٹرویو چھپا تھا، پڑھنے کو ملا۔ وہ دِن اور آج کا دن ”اردو ڈائجسٹ“ سے ایسا تعلق قائم ہوا کہ میرے گھرانے کی تیسری نسل تک کے افراد میں یہ تعلق برقرار ہے۔ جون، جولائی ۱۹۶۴ءکا ”اردو ڈائجسٹ“ کا شمار ہ مجھے یاد ہے کہ ایک لاکھ سے زائد کی تعداد میں چھپا۔ ایک ماہنامے کا اس دور میں اتنی تعداد میں چھپنا بلا شبہ ایک کمال ہی سمجھا جا سکتا تھا۔ اس کمال کی بڑی وجہ اس میں شامل الطاف حسن قریشی صاحب کا مولانا سید ابوالاعلیٰ کا انٹرویو تھا۔ اس انٹرویو کے مندرجات الطاف حسن قریشی صاحب کی تصنیف ”پیارے مولانا“ جو الطاف صاحب مرحوم کے پوتے ایقان حسن قریشی نے مرتب کی ہے، میں شامل ہیں۔
خیر میں بتا رہا تھا کہ میں ”اردو ڈائجسٹ“ کا خریدار اور قاری بنا تو میرے بھائی بہنیں بھی اس کا مطالعہ کرنے لگے۔ میرا بیٹا سعد عثمان ملک پچھلے ایک آدھ عشرے سے اس کا سالانہ خریدار ہے اور ہر ماہ ڈاک کے ذریعے یہ رسالہ ہمارے گھر پہنچ جاتا ہے۔ ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ کی کیا خاص یا خوبی ہے یا رہی ہے اور اب بھی ہے اس کا پوری طرح احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں۔ قریشی برادران محترم ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اور محترم الطاف حسن قریشی اور مختلف اوقات میں اسی سے وابستہ ادارتی ٹیم کے ارکان نے بلا شبہ خونِ جگر سے اس کی آبیاری کی۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی مرحوم صدرِ مجلس تھے تو محترم الطاف حسن قریشی مدیر مسﺅل، جناب الطاف حسن قریشی کے ”کچھ اپنی زبان میں“ کے عنوان کے تحت لکھے ہوئے اداریے، ”ہم کہاں کھڑے ہیں“ کے عنوان سے حالاتِ حاضرہ کو سامنے رکھ کر قومی معاملات و مسائل کے بارے میں مفصل تجزیاتی مضامین جہاں ”اردو ڈائجسٹ“ کی پہچان رہے ہیں وہاں محترم الطاف حسن قریشی کے نامور قومی اور ملی شخصیات کے انوکھے انداز میں لیے گئے انٹرویو بھی ”اردو ڈائجسٹ“ کی خاص پہچان رہی ہے۔
”اردو ڈائجسٹ“ کے بارے میں مزید بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ مرحوم قریشی برادران کا پینسٹھ، ستر سال قبل لگایا ہوا پودا ایک تن آور درخت کی صورت میں موجود نہیں ہے بلکہ اپنے دور کا ایک ایسا رجحان ساز جریدہ بھی ثابت ہوا کہ اس کی دیکھا دیکھی کئی اور ڈائجسٹ بھی منصہ¿ شہود پر آئے۔ مرحوم قریشی برادران کا ایک اور کمال یہ بھی تھا کہ انہوں نے ”زندگی“ کے نام سے ایک ہفت روزہ نکالا۔ بزرگ صحافی اور سینئر مدیر جناب مجیب الرحمن شامی جن کا اس وقت عنفوانِ شباب تھا، اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور اس مجلے نے اشاعت کے ریکارڈ قائم کیے۔
جناب الطاف حسن قریشی اپنے نظریات و افکار پر کار بند رہنے والی شخصیت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں انہیں اپنے برادرِ بزرگ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اور اپنے رفیقِ کار محترم مجیب الرحمن شامی کے ہمراہ قید و بند کی صعوبتیں بھی براداشت کرنا پڑیں لیکن ان کے پائے اثبات میں لغزش نہ آئی۔ جناب الطاف حسن قریشی اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ان کی تصانیف، قلمی نگارشات اور ان کا لگایا ہوا پودا ”اردو ڈائجسٹ“ جہاں ان کے نام کو زندہ رکھیں گے وہاں ان کی شخصیت کے منفرد پہلو جن میں علمی وجاہت کے ساتھ متانت، اصول پسندی، شکر گزاری اور قدر افزائی نمایاں تھے وہ بھی ان کے ذکر کو قائم دائم رکھیں گے۔ آخر میں ان کے لیے مغفرت کی دعا کے ساتھ یہی کہا جا سکتا ہے کہ سبزہ¿ نورستہ ان کی لحد پر شبنم افشانی کرتا رہے۔