Wed, September 16, 2026

 الطاف قریشی بھی چلے گئے

 الطاف قریشی بھی چلے گئے


جواد قریشی کی طرف سے ان کے والد الطاف احمد قریشی کے چہلم کا بلاوا ملا تو مجھے وقت کے گزرنے کا احساس ہوا۔ الطاف کو بچھڑے ماہ بیت گیا۔ یہ سال میں بدلے گا۔ پھر الطاف کی یادیں دھندلی ہوں گی اور زندگی کی رونق ہمیں مصروف کر دے گی۔ یہی منشا قدرت ہے۔ وقت اچھا ہو یا برا گزر جاتا ہے۔ بچھڑنے کا عمل بھی زندگی کا حصہ ہے۔ دوست احباب جہاں فانی سے کوچ کرتے ہیں اور وقت ان کی یادیں دھندلا دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو زندگی کی دوڑ ہی بے معنی ہو کر رہ جاتی۔ قدرت نے کائنات کو سنوارنے کا انسان سے جو کام لینا تھا وہ نہ لے پاتی۔ زندگی کی خواہش اور اُسے خوبصورتی بخشنے کے عمل نے یہ جہاں ترتیب دیا ہے اور اس میں رنگ بکھیرے ہیں۔
کسی نے کہا تھا کہ آدمی کو ماں باپ، بہن بھائی اور دیگر رشتے داریاں خدا کی طرف سے ودیعت ہوتی ہیں وہ ان کا انتخاب خود نہیں کرتا۔ شوہر اور بیوی کے رشتے کو مغرب نے فرد کے اپنے انتخاب میں ڈھال لیا ہے مگر مشرق یہ نہیں کرسکا۔ یہاں یہ رشتہ اب بھی عمومی طور پر والدین کی مرضی سے طے پاتا ہے اور عورتوں کے لیے یہ عمومیت تقریباً مکمل ہی سمجھی جا سکتی ہے مگر دوست، عورت یا مرد کی تفریق کے بغیر سو فیصد ہر فرد کا انفرادی انتخاب ہوتا ہے اور وقتی شناسائی مزاج کی ہم آہنگی اور بوقت ضرورت ایک دوسرے کے کام آنے سے دوستی میں بدلتی ہے اور وقت اُسے مضبوط کرتا چلا جاتا ہے۔ یوں دوستی کا چھوٹا سا پودا وقت کی کسوٹی پر پورا اترتے ہوئے تناور درخت بن جاتا ہے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن کو زندگی ملی اسے موت سے بھی ہمکنار ہونا ہے۔ ملنا اور بچھڑنا شاید ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ میں عمر کے جس حصے میں پہنچ چکا ہوں۔اس میں بچھڑنے کے ان لمحوں کا بار بار سامنا کرنا پڑتا ہے یادوں کے جھروکے سے جھانکوں تو دوستوں کی ایک قطار ہے جو بچھڑ چکی ہے۔ اس میں یونیورسٹی کے دوست بھی ہیں اور استاد بھی، بزرگ محسن بھی ہیں جن کی دوستی نے میری زندگی بہتر کی اور ہم عمر بھی جنہوں نے اس میں رنگ بھرے اور نوجوان بھی جو مجھ جیسے کو استاد مانتے ہیں۔ یونیورسٹی کے ہم عمر دوستوں جنہوں نے بچھڑنے میں جلدی کی میں صفدر ہمدانی، آغا حسین ہمدانی، ڈاکٹر حمید، سید ارجمند شاہ اور گل محمد شاہ جیسے دوستی کی کسوٹی پر پورے اترنے والے بھی شامل ہیں اور بزرگوں میں سید افضل حیدر، بصیر قریشی، سلیم ذوالفقار، راجہ ظہور، لیاقت وڑائچ، حاجی آصف، ممتاز کاہلوں اور الطاف قریشی جیسے بھی ہیں جن کا میری شخصیت کی نوک پلک درست کرنے میں ایک کردار ہے اس میں منہ بولی آپا افضل توصیف اور آپا فرخندہ بخاری بھی شامل ہیں۔ آپا افضل توصیف نے تو اپنی آزادی کو خطرے میں ڈال کر مجھے لیبیا سازش کیس میں بچانے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر ظفر احمد خان، میڈم نگار، اسلم سید، رانا راشد جیسے استاد ہیں تو دوسری طرف عملی زندگی میں منوبھائی، عبداللہ حسین، اطہر ندیم، افتخار مجاز، سعید اظہر، ہارون عدیم، ملک معراج خالد اور شیخ رشید جیسے بھی ہیں ، میں دوستوں کے حوالے سے خوش نصیب ہوں۔ کیونکہ اب بھی اتنے ہی مزید دوستوں کی رفاقت مجھے میسر ہے۔
لیکن سیاست کے میدان میں ممتاز کا ہلوں، حاجی محمد آصف اور الطاف کا جو ساتھ ملا وہ اپنی جگہ ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ ان میں سے دو پہلے بچھڑ گئے تھے اور اب الطاف احمد قریشی بھی بچھڑ گئے۔ میں نے اور الطاف نے پہلے بچھڑنے والوں کو زندگی کے ہر مقام پر یا د کیا اور اب باقی کی زندگی میں ان تینوں کی کمی کو محسوس کروں گا۔ ان سب احباب کا بچھڑنا دل میں ایک خلا پیدا کرتا رہا ہے اور ان کی خالی جگہ کوئی دوسرا نہیں بھر سکا۔ یہ خالی پن دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اور یہ خالی پن ایک دن مجھے بھی نگل لے گا۔ یہی زندگی ہے مگر خواہش یہ ہے کہ کوئی اور دوست مزید خلا پیدا نہ کرے- کم از کم میری زندگی میں۔
موت برحق ہے مگر جب الطاف کے جنازے، قل اور پھر چالیسویں میں لوگ الطاف کی موت کے اسباب پر بات کر رہے تھے تو میں یہ سوچ رہا تھا وہ شخص جو محفل کی جان ہوا کرتا تھا۔ ایک دبنگ سیاسی کا رکن تھا اور جس نے ایک بھرپور زندگی گزاری۔ زندگی بھر اصولوں پر قائم رہا۔ زندگی کے اختتام کے قریب پہنچا تو کس قدر بے بسی کی تصویر بن گیا تھا۔ جب آپ اپنی زندگی بھر کی جدوجہد کو رائیگاں جاتے دیکھتے ہیں تو جینے کی امنگ کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ میں نے یہی عمل ممتاز کاہلوں کے ساتھ بھی ہوتا دیکھا ہے۔ مجھے یاد ہے وہ آدھی رات کا وقت تھا جب ممتاز کاہلوں میرے گھر آئے۔ گھنٹی بجی تو حیرانی ہوئی اتنی رات گئے کون آگیا۔ خیر دروازہ کھولا تو سامنے ممتاز کاہلوں کھڑے تھے۔ انہیں اندر لایا، بٹھایا چائے بنوائی اور ان کی آمد کا مدعا سننے کیلئے ہمہ تن گوش ہوا اورجب وہ بولے تو میں خود بھی اندر سے لرزاٹھا۔ وہ کہنے لگے، ہم نے اپنی زندگی ضائع نہیں کر دی؟ اس سوال میں بہت کرب تھا۔ مجھے خاصا وقت لگا انہیں یقین دلانے میں کہ ہم لوگ جو بھی نظریات رکھتے ہیں ان کے لیے ہم پوری ایمانداری سے لڑے۔ ہم نے سمجھوتے نہیں کیے۔ اب ہار جیت پر تو ہمارا اختیار نہیں تھا۔ ہم اپنے نظریات پر قائم رہے یہ ہمارے اختیار میں تھا۔ ممتاز کاہلوں مجھے کہا کرتے تھے کہ اس رات تم نے مجھے بڑا سہارا دیا۔ پھر میں نے یہی کیفیت آپا افضل تو صیف میں زندگی کے آخری ایام میں دیکھی اور وہ اس کیفیت میں اس بے رخی دنیا کو ہی ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ گئیں۔ الطاف بھی اسی بے رخی کا شکار ہوا۔
میں اپنے دیگر کئی دوستوں کو جن میں ضیا کھوکھر شامل ہیں۔ جنہوں نے سیاسی عمل میں سمجھوتے نہیں کیے انہیں قدم بہ قدم زندگی کے اختتام کی طرف بڑھتے دیکھتا ہوں اور ان کی زندگی سے لاتعلقی کو محسوس کرتا ہوں تو خوف آتا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے جس طرح اپنے کارکنوں کی بے قدری کی ہے اس نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہی ہے ساتھ ہی ان کارکنوں کو بھی سیاسی عمل سے بدگمان کردیا ہے۔ اور اسی حوالے سے جب میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی بے قدری پر نظر ڈالتا ہوں جو اپنی مایوسیوں کو لیڈر کی قید و بند کے پیچھے امید میں بدل رہے ہیں۔ انہیں اب بھی امید ہے انکا لیڈر رہا ہو کر انقلاب برپا کر دے گا۔ تب میں دعا کرتا ہوں کہ کاش ان کی یہ امید نہ ٹوٹے۔ یہ امید ان کے لیڈر کی قید ہی قائم رکھ سکتی ہے۔ ہم ایک اور نسل کو مایوسی کے اندھیروں کی نذر نہیں کرسکتے۔
شاید تیسری دنیا کے ممالک کے عوام کا مقدر یہی ہے کہ وہ ایک کے بعد دوسرے لیڈر کو مسیحا مان کر قربانیوں کی تاریخ رقم کریں اور وقت ان کی جھولی میں لیڈران کی مصلحت پسندی ڈال دے۔ مجھے نہیں خبر کہ یہ سیاسی کارکن جو تاریخ اپنے خون سے لکھتے ہیں ان کا اختتام کیا کبھی اس روشن صبح کو لا سکے گا -وہ روشن صبح جس میں بقول فیض احمد فیض تاج اچھالے جائیں گے اور تخت گرائے جائیں گے اور راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہوں تو تم بھی ہو۔ مگر اس روشن صبح کا سفر ختم ہونے کو نہیں آرہا اور مجھے بھی بات فیض احمد فیض ہی کہ اس شعر پر ختم کرنا پڑ رہی ہے۔ 
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

ٹیگز: