کراچی : سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈالر کے ریٹ میں ہونے والے حالیہ اضافے نے پورے پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور لاگت کو متاثر کیا ہے۔ تاہم، حکومتِ سندھ تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے، اور شاہراہِ بھٹو کا منصوبہ پورے صوبے کی تقدیر بدلنے کے لیے 'گیم چینجر' ثابت ہوگا۔
سندھ اسمبلی میں اراکینِ ایوان کو بی آر ٹی منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ بڑے سفری منصوبوں کی تکمیل میں عالمی معاشی اتار چڑھاؤ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔شرجیل انعام میمن نے ایوان کو بتایا "ہمارے لیے بسیں خرید کر چلا دینا کوئی مشکل کام نہیں تھا، لیکن ہم عارضی ریلیف کے بجائے ایک پائیدار نظام لا رہے ہیں۔ بی آر ٹی کا منصوبہ موجودہ دور کے ساتھ ساتھ ہماری آئندہ نسل کے سفری متبادل کے طور پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر نے بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر کے حوالے سے اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے ساتھ بہت سے تکنیکی اور انتظامی ایشوز وابستہ تھے، لیکن اس میں ہماری حکومت کی کوئی سستی یا کوتاہی شامل نہیں ہے۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ اس میگا پروجیکٹ کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کر کے کراچی اور سندھ کے عوام کو جدید ترین سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔