اسلام آباد : اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی سزا میں نرمی کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت ہوئی۔ مجرم کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ ان کے موکل کو قتل پر سزائے موت، ریپ پر عمر قید اور اغوا پر دس سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریپ کی سزا بھی سزائے موت میں بدل دی۔
سماعت کے دوران وکیل سلمان صفدر نے موقف اختیار کیا کہ پہلے صرف قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جبکہ ریپ اور اغوا کی دفعات بعد میں شامل کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ مجرم کے گھر میں پیش آیا، مگر کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔ وکیل نے مزید کہا کہ واقعے کی رپورٹ رات 11:30 بجے درج کی گئی، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نور مقدم کا انتقال رات 12:10 پر ہوا۔
سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ آلہ قتل ایک چھوٹا چاقو تھا جس پر ظاہر جعفر کے فنگر پرنٹس موجود نہیں، اور پولیس نے زیادہ تر انحصار سی سی ٹی وی فوٹیج پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر گواہان سرکاری تھے اور واقعے کا کوئی عینی شاہد موجود نہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ تمام شواہد واقعاتی ہیں اور اگر اپیل میں ریلیف بنتا ہوا محسوس ہوا تو دیا جائے گا، ورنہ فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ایسے کیسز کو لٹکانا مناسب نہیں، اب تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
سماعت کے دوران ظاہر جعفر کی 2013 سے لے کر اب تک کی میڈیکل ہسٹری بھی عدالت میں جمع کروائی گئی۔ عدالت نے سماعت کے دوران وقفہ کیا اور کہا کہ امکان ہے کہ فیصلہ آج ہی سنا دیا جائے گا۔