Wed, September 16, 2026

نور مقدم کیس : سپریم کورٹ کا ظاہر جعفر کی پھانسی برقرار رکھنے کا حتمی فیصلہ، نظرثانی اپیل مسترد

نور مقدم کیس : سپریم کورٹ کا ظاہر جعفر کی پھانسی برقرار رکھنے کا حتمی فیصلہ، نظرثانی اپیل مسترد

اسلام آباد: عدالتِ عظمیٰ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی کی اپیل مستقل طور پر مسترد کر دی ہے۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے مجرم کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کا سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں بڑے ظلم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ "میں تسلیم کرتا ہوں کہ نور مقدم کے ساتھ شدید ناانصافی اور ظلم ہوا، اور میں مقتولہ کے خاندان سے اس پر معذرت خواہ ہوں"۔ تاہم، انہوں نے سزا سے بچاؤ کے لیے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے کے وقت ان کے مؤکل کی دماغی حالت درست نہیں تھی اور وہ 'بائی پولر ڈس آرڈر' اور شدید ڈپریشن کی ادویات لے رہا تھا۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے دفاعی وکیل کی جانب سے دماغی بیماری کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے نظرثانی کی درخواست خارج کر دی، جس کے بعد مجرم ظاہر جعفر کے پاس اب سزائے موت سے بچنے کا کوئی قانونی راستہ باقی نہیں رہا۔

ٹیگز: