Wed, September 16, 2026

پاک بھارت جنگ اور چین

پاک بھارت جنگ اور چین

پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت و شواہد کے پاکستان پر الزام تراشی کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ گلے پھاڑ پھاڑ کر پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک ثابت کرنے میں بھارتی میڈیا نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بھارتی میڈیا خود ہی جج اور جیوری بن گیا۔ گودی میڈیا کے ذریعے عوام میں جنگی جنونیت کی آگ کو ہوا دی اور مودی حکومت پر انتہائی دباؤ ڈالا کہ پہلگام واقعے کا فوری بدلہ پاکستان سے لیا جائے۔ طاقت اور غرور کا خمار سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ بھارت پاکستان کو دھول چٹا دے گا۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات کو بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کو پامال کرتے ہوئے بہاولپور، مریدکے، مظفر آباد سمیت کئی شہروں ہر میزائل داغ دئیے۔ پاکستان نے فوری جوابی کارروائی سے گریز کیا لیکن پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ چکی تھی لہٰذا وطن کا دفاع کرنا لازم تھا۔ ہماری پاک فضائیہ نے جس طرح 7 مئی کو فضاؤں میں اپنے وطن کو ناقابل تسخیر بنایا اس کی مثالیں اب دنیا دینے پر مجبور ہو چکی ہے۔ بھارت اور خاص طور پر بھارتی میڈیا میں تو جیسے صف ماتم بچھ گیا ہے۔ پاک فضائیہ کے 42 طیاروں نے 72 بھارتی لڑاکا طیاروں کو مات دے دی۔ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارت کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے۔ جن میں بھارت کے انتہائی جدید اور قیمتی رافیل بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی ساختہ رافیل سمیت بھارتی لڑاکا طیاروں کا نقصان بھارت کے لیے بڑا سیٹ بیک تھا۔ اس بار پاک بھارت جنگ روایتی نوعیت کی نہ تھی بلکہ یہ ایک جدید الیکٹرانک وارفیئر تھی۔ جس نے دنیا میں پاک فضائیہ کی تکنیکی برتری و مہارت کی دھاک بٹھا دی۔ پاکستان اور بھارت میں اس سے قبل فروری 2019 میں ٹاکرا ہوا تھا جس میں پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے ذریعے بھارتی فضائیہ کو چاروں شانے چت کیا اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری ہوئی۔ یہ شاید آخری روایتی ڈاگ فائٹ تھی۔ اس شکست کے بعد بھارتی وزیراعظم یہ کہتے پائے گئے کہ اگر ہمارے پاس رافیل طیارے ہوتے تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ 2019 میں پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت نے فرانس سے 9 ارب ڈالر مالیت رافیل طیارے خریدے۔ پاکستانی فضائیہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھی کہ ان کو رافیل کے مقابلے میں جدید لڑاکا طیاروں کی سخت ضرورت ہے۔ جس کے بعد عمران خان کے دور حکومت میں چین سے فوری طور پر J10-C طیارے حاصل کیے گئے۔ پاک فضائیہ کے جوانوں کی کامیابی ان کی اعلیٰ 
تکنیکی تربیت اور صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ چینی ساختہ J10-C بھی تھا۔ چینی جدید ہتھیاروں نے پاکستان کو بھارت کے خلاف ایک edge دیا ہے۔ پاک فضائیہ کے کامیاب ردعمل کے بعد سے امریکا سمیت دیگر بڑی طاقتیں چینی ٹیکنالوجی کو نہ صرف سنجیدگی سے لے رہی ہیں بلکہ ان کے بارے میں معلومات کا کھوج بھی لگا رہی ہیں۔ پاکستان فضائیہ کی جانب سے وار فیئر ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے نے دنیا کے دفاعی تجزیہ کاروں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ پاک بھارت جنگ میں چینی جدید ہتھیاروں کا مقابلہ مغرب کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے تھا۔ پاکستان کی کامیابی کے بعد چینی ہتھیاروں کو دنیا میں ایک نئی پہچان ملی ہے اور اس کی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ چین دنیا کا چوتھا سب سے بڑا اسلحہ ایکسپورٹر ہے۔ تاہم، چینی اسلحے کے خریدار زیادہ تر ترقی پذیر ممالک ہیں۔ جیسا کہ پاکستان جن کے پاس فنڈز یا وسائل محدود ہیں۔ J10C دراصل چین تائیوان کی فضاؤں میں گشت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس طیارے کا پاک بھارت تنازع سے قبل جنگی محاذ پر کوئی قابلِ ذکر استعمال نہیں ہوا تھا۔ اس لیے مغرب چین کے لڑاکا طیاروں کی جدیدیت پر شک وشبہات میں مبتلا تھا مگر پاک فضائیہ نے چینی ٹیکنالوجی کی واہ واہ کرا دی ہے اور اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد چین کے ہتھیاروں کی فروخت کو تقویت ملے گی۔ تائیوان کے پاس زیادہ تر اسلحہ اور فائٹر جیٹ امریکی ساختہ ہیں۔ تائیوان کے فلیٹ میں امریکا کے F-16 سہرفہرست ہیں۔ تاہم، پاکستانی شاہینوں کی شاندار کارکردگی کے بعد تائیوان میں ایکسپرٹس کہہ رہے ہیں کہ ہمیں پییپلز لبریشن آرمی کی فضائی جنگی صلاحیتوں کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تائیوان کے نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ریسرچ کے ایسوسی ایٹ ریسرچر شو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو تائیوان کو مزید جدید نظام کی فراہمی پر غور کرنا چاہیے۔
ایک اور چینی ہتھیار جو پاکستان نے پاک بھارت جنگ میں استعمال کیا وہ ہے PL-15 میزائل۔ دفاعی تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق چینی فضائیہ سے فضا میں مار کرنے والے PL-15 میزائلوں کے کچھ حصے بھارت میں ملنے والے شوٹ ڈاؤن کے بعد بتاتے ہیں کہ پاکستان کے J-10C طیاروں پر تعینات ہتھیار مؤثر ثابت ہوئے۔ دفاعی ایکسپرٹس نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں میں PL-15 کو مغربی ساختہ Mach-5 کا حریف قرار دے دیا ہے۔ ابھی پاکستان چین کے 
ایک اور جدید سٹیلتھ فائٹر جیٹ J-35A کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، امکان ہے کہ جلد ہی یہ پاک فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہو جائے گا۔ امریکا کے بعد چین یہ دوسرا ملک ہے جس کے پاس سٹیلتھ لڑاکا طیارے ہیں۔ پاک بھارت جنگ کی گونج دنیا کے کونے کونے تک پھیل گئی ہے، پاکستان ایک اہم نیوکلیئر ملک ہے۔ اطلاعات آ رہی ہیں کہ متعدد سفارت خانوں نے پی اے ایف سے رابطہ کیا ہے۔ دفاعی اتاشی یہ جاننے میں دلچسپی ظاہر رکھتے ہیں کہ مشن کو کیسے سر انجام دیا گیا۔ پاک فضائیہ کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کے لیے کیا مواقع موجود ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک پہلے ہی پاکستان کو آئندہ بین الاقوامی فضائی مشقوں میں شرکت کی دعوت دے چکے ہیں۔ ٹرمپ کے لیے بھی اچانک پاکستان بہت اہم ہو گیا ہے۔ سیز فائر پر پاکستان کی جانب سے مکمل عملدرآمد کے بعد ٹرمپ کی زبان سے پاکستان کے لیے اچھے الفاظ بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔ دنیا میں سفارت کار بھی ٹرمپ کے پاکستان بارے مثبت سوچ پر حیران ہیں۔
پاکستان مگر اب بھی مکمل طور پر جنگ کے خطرات سے آزاد نہیں ہوا۔ بھارت سے اپنی فضائی سبکی برداشت نہیں ہو رہی لہٰذا وہ کوئی بھی مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔ بھارت پاکستان کے حصے کے پانی پر قبضے کی بات کر رہا ہے۔ بھارت دریائے چناب، جہلم اور سندھ کا پانی شمالی ریاستوں میں لے جانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کا انکشاف رائٹرز نے کیا ہے۔ بھارت نے دریائے چناب پر رنبیر نہر کی لمبائی 120 کلومیٹر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس سے بھارت دریائے چناب کے پانی کا استعمال 40 سے بڑھا کر 150 کیوبک میٹر فی سیکنڈ کر سکے گا۔ دریائے سندھ اور مقبوضہ کشمیر کے پاور پراجیکٹس سے پاکستان کا پانی روکنے کا پلان کر رہا ہے۔ اب حکومت کو چاہیے کہ اللہ نے جو عزت اور بھرم رکھا ہے اس کا شکر بجا لاتے ہوئے بھارت کے ارادوں کو بین الاقوامی سطح پر ایکسپوز کرے۔ بھارت جارحیت میں ناکامی کے بعد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے حکومتی و اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل وفود بیرون ملک بھیج رہا ہے۔ یہ وفود رواں ماہ کے آخر میں امریکا، برطانیہ، جاپان اور دیگر ممالک کے دورے کریں گے۔ تاکہ بھارت اپنا موقف دنیا سے منوا سکے۔ بھارت سفارتی محاذ پر ایک بار پھر سرگرم ہو چکا ہے۔ پاکستان کو بھارت کی اس سازش کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی پابندی کے لیے عالمی برادری پر دباؤ بڑھائے۔ پانی پاکستان کی بقا اور زرعی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے۔ حکومت اب اس محاذ پر توجہ دے۔ مکار دشمن کی ہر چال پر نظر رکھنا اپنی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے۔ پاکستان کو ہر محاذ پر چوکنا اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ جنگ بندی ہوئی ہے جنگ ختم نہیں ہوئی۔

ٹیگز: