Wed, September 16, 2026

عید الفطر کے دُکھ 

عید الفطر کے دُکھ 

جیسے جیسے رمضان کا انتہائی مبارک اور بابرکت مہینہ اختتام پذیر ہو رہا ہے اُداسی بڑھتی جا رہی ہے، یہ مہینہ سال میں ایک بار ’’مسلمانوں‘‘ کی زندگیوں میں آتا ہے اور اس کی ’’خرابی‘‘ یہ ہے جلدی چلا جاتا ہے اور خوبی یہ ہے یہ ہمیں اللہ کے بہت قریب کر دیتا ہے، اللہ کے حکم کے مطابق ایک مقررہ وقت کے لیے ہم حلال چیزیں بھی نہیں کھا پی سکتے اور اگر اس مبارک مہینے سے جُڑے ہوئے اللہ کے باقی احکامات پر بھی ہم عمل کر لیں، جیسا کہ جھوٹ نہ بولیں، منافقت نہ کریں، ظلم نہ کریں، شراب اور زنا وغیرہ سے مستقل توبہ کر لیں۔ بالخصوص کچھ مکروہ حکمرانوں کو دیکھنا اور سُننا ترک کر دیں، مجھے یقین ہے اللہ کی خوشی اور خوشنودی سے کسی صورت میں بھی ہم محروم نہیں رہ سکتے، خالی منہ بند رکھنے سے کچھ نہیں ملتا، کچھ لوگ صرف کچھ نہ کھا پی کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، اُن کی زندگی کے باقی معمولات میں کوئی فرق نہیں پڑتا، جھوٹ وہ حسب معمول ڈٹ کر بولتے ہیں، مکاریاں عیاریاں اور عیاشیاں وہ ڈٹ کر کرتے ہیں، حسد کینے اور بغض سے ڈٹ کر جُڑے رہتے ہیں، کاروباری معاملات کی دو نمبریاں اب جو سو نمبریوں تک پہنچی ہوئی ہیں وہ بھی ترک نہیں کرتے، رشتوں کی قدروقیمت اور صلہ رحمی کا خیال بھی نہیں رکھتے، نمازیں تک نہیں پڑھتے، اس کے باوجود یقین میں مبتلا ہوتے ہیں اُن کے روزے قبول کر لیے جائیں گے، میں یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں اُن کے روزے رد کر دئیے جائیں گے، یہ اللہ کے معاملات ہیں، ممکن ہے اُن کی کسی اور بڑی نیکی جو کہ اللہ ہی جانتا ہے کے نتیجے میں اُن کے روزے اور دیگر عبادات قبول کر لی جائیں، مگر ایک مسلمان کو یہ کوشش ضرور کرنی چاہیے وہ ایسے کام نہ کرے جس سے اُس کے روزوں یا دیگر عبادات کی قبولیت مشکوک ہو جائے، ایک بار مجھ سے کسی نے سوال پوچھا تھا ’’ہمیں کیسے پتہ چلے گا جو نمازیں ہم پڑھتے ہیں قبول ہو رہی ہیں یا رد ہو رہی ہیں؟‘‘، میں نے عرض کیا تھا اگر ہماری نمازیں ہمیں نیک اعمال کی طرف لا رہی ہیں اس کا مطلب ہے قبول ہو رہی ہیں، اگر ہماری بداعمالیاں جاری رہتی ہیں یا مزید بڑھتی ہیں اس کا مطلب ہے رد ہو رہی ہیں‘‘، رمضان المبارک کے مہینے میں خوب رونق لگی رہتی ہے، یہ اس حوالے سے بھی ہمارا ’’دوست مہینہ‘‘ ہے یہ ہمیں اللہ کی قُربت کا موقع فراہم کرتا ہے، وہ بڑے بدقسمت اور محروم لوگ ہوتے ہیں جو یہ موقع ضائع کر دیتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے اس مبارک مہینے کا اختتام پذیر ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا، اُن کے اندر کا شیطان روزوں میں بھی مسلسل اُن کے ساتھ رہتا ہے، مجھے اس موقع پر ایک جاپانی اور ایک پاکستانی شخص کا مکالمہ یاد آ رہا ہے، جاپانی شخص نے پاکستانی سے پوچھا تھا ’’رمضان کے مہینے میں آپ کیا کرتے ہیں ؟‘‘، پاکستانی نے بڑے فخر سے جواب دیا ’’رمضان کے مہینے میں ہم چوبیس گھنٹوں میں صرف مخصوص اوقات میں کھاتے پیتے ہیں، اس کے علاوہ ہم بڑی پابندی سے عبادت کرتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، ظلم اور ناانصافی نہیں کرتے‘‘۔ جاپانی شخص نے بڑی حیرانی سے پاکستانی کی طرف دیکھا اور کہا ’’کمال ہے ہمیں تو یہ کام سارا سال کرنا پڑتے ہیں‘‘۔ اگلے روز نیو نیوز کے عید شو کی ریکارڈنگ تھی، مجھے میرے عزیز چھوٹے بھائی وجاہت خان نے حکم دیا تھا آپ نے لازمی آنا ہے، میں جب سے ڈی ایچ اے لاہور فیز سیون میں شفٹ ہوا ہوں میرے لیے اندرون شہر کسی تقریب وغیرہ میں جانا کسی دوسرے شہر جانے کے مترادف ہے، سو میں اکثر دوستوں سے معذرت کر لیتا ہوں، رمضان کی لائیو ٹرانسمیشن کے لیے بھی مختلف چینلز کے بیشمار اینکرز نے مجھ سے رابطہ کیا، میں نے یہ سوچ کر اُن سب سے معذرت کر لی ممکن ہے اس موقع پر مجھے کچھ ایسے جھوٹ بولنا پڑ جائیں جس سے میرا روزہ ٹُوٹ جائے یا مشکوک ہو جائے، وجاہت خان ویسے بھی بہت شرارتی نوجوان ہے بلکہ یہ کہا جائے زیادہ مناسب ہو گا شرارت اُس کے انگ انگ میں بھری ہوتی ہے، مجھے یقین تھا عید شو کی ریکارڈنگ میں وہ مجھ سے کچھ ایسے سوال کرے گا جواب دیتے ہوئے میرا روزہ شاید قائم نہ رہ سکے، چنانچہ میں نے اُس سے کہا ’’اگر اس عید شو کی ریکارڈنگ تم افطاری کے بعد رکھو میں حاضر ہو جاؤں گا‘‘۔ گزشتہ شب نو بجے کا وقت مقرر ہوا میں چلا گیا، ممتاز کالم نویس و تجزیہ نگار سہیل وڑائچ بھی تشریف لائے ہوئے تھے، صحافت سے وابستہ کچھ ایسی خوبصورت خواتین کو بھی اُس نے مدعو کر رکھا تھا میں نے شکر کیا اُس نے افطاری کے بعد ریکارڈنگ کی میری شرط قبول کر لی تھی ورنہ روزے کا ٹُوٹنا لازمی تھا، میزبان نے مجھ سے عیدالفطر کی خوشیوں رونقوں اور برکتوں بارے سوال کیا۔ میں نے عرض کیا میں عیدالفطر پر بڑا اُداس رہتا ہوں، رمضان المبارک کی جدائی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی، علاوہ ازیں یہ حقیقت بھی مجھے اُداس کر دیتی ہے ہمارے بچپن میں عید کی جو برکتیں یا رونقیں ہوتی تھیں وہ اب نہیں رہیں، تب چُھٹی کا دن بھی عید کے دن کی طرح گزرتا تھا اب عید کا دن چُھٹی کے دن کی طرح گزر جاتا ہے، پھر اس خوبصورت تہوار پر آپ کے جو عزیز واقارب آپ سے بچھڑ گئے ہوتے ہیں اُن کی یادیں اور باتیں بھی اُداس کر دیتی ہیں، حقیقت یہی ہے کائنات کا سارا نظام عارضی ہے، ہمارا المیہ یہ ہے ہم نے اس نظام کو مستقل سمجھ لیا ہوا ہے اور اپنی زندگیوں کو اپنی اس سوچ کے مطابق ڈھال لیا ہوا ہے کہ سب کچھ ختم ہو جائے گا ہم نہیں ہوں گے، آخرت پر یقین رکھنے والوں کی دُنیا ہی اور ہے، کہا جاتا ہے رمضان میں شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے، پاکستان میں شیطان، رمضان میں خود کو زیادہ آزاد سمجھتا ہے، اصل عید اسی شیطان کی ہوتی ہے، ہم اُس کے چیلے ہیں، اس عید پر ایک اور صدمے کا ہمیں شکار ہونا پڑے گا، کبھی نہ بُھولنے والا یہ صدمہ میرے بھتیجے احمد جاوید کے بہیمانہ قتل کا ہے، دعا ہے اللہ اُسے اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اُس کے قاتلوں کو عبرتناک انجام کا سامنا کرنا پڑے جو کسی حد تک وہ کر بھی رہے ہیں اور میرے محترم بھائی میاں عادل رشید اور اُن کی فیملی کو صبر جمیل عطا فرمائے، اکلوتے بیٹے کے بغیر یہ اُن کی پہلی عید ہے، عید تو نہ ہوئی ناں…

ٹیگز: