Wed, September 16, 2026

روس اور امریکہ کے صدور کا ٹیلی فونک رابطہ ، یوکرین جنگ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال

روس اور امریکہ کے صدور کا ٹیلی فونک رابطہ ، یوکرین جنگ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال

واشنگٹن : روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر تقریباً ڈھائی گھنٹے تک بات چیت ہوئی، جس میں یوکرین کی جنگ اور دیگر عالمی مسائل پر تفصیلاً گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکا اور روس کے تعلقات میں بہتری کے کئی فوائد ہیں، اور دونوں ممالک اس وقت یوکرین جنگ میں جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ یہ جنگ کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی اور اس پر خرچ ہونے والی رقم عوام کی ضروریات پر خرچ ہونی چاہیے تھی۔ٹرمپ اور پیوٹن نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور اسلحہ کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایران کو کبھی بھی اسرائیل کی تباہی کی پوزیشن میں نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، روس نے یوکرین کے توانائی انفرااسٹرکچر پر 30 دن تک حملے نہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور دونوں نے بُحیرہِ اسود میں جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں مذاکرات فوراً شروع ہوں گے، جبکہ کریملن نے بھی تصدیق کی کہ صدر پیوٹن نے روسی فوج کو 30 دن تک یوکرین کے توانائی انفرااسٹرکچر پر حملوں سے گریز کرنے کا حکم دیا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ روس کی شرائط جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں اور ان کا مقصد یوکرین کو کمزور کرنا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ وہ جنگ بندی کی امریکی تجویز پر ٹرمپ سے بات کریں گے تاکہ یہ جان سکیں کہ روس نے امریکا کو کیا پیشکش کی اور امریکا نے روس کو کیا پیشکش کی۔

ٹیگز: