عمومی تصور یہ ہے کہ مشاہدہ ہمارے حواسِ خمسہ کا حاصل ہے۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ حسیاتی نظام کے تحت معلومات کی ترسیل کا نام علم ہے۔ عین ممکن ہے، علم کے متعلق ہمارا یہ تصور بجائے خود راہِ ادراک میں سدِ راہ ہو۔ … عین ممکن ہے، حسی معلومات پر حد درجہ اعتبار ہماری فہم کی گردن میں ایک طوق بن جائے اور ہمارے آگے اور پیچھے جہالت کی دیوار کھڑی ہو جائے۔ جہالت زعم علم ہی کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ نہ جاننے والا اگر جاننے کے زعم میں متبلا ہو جائے تو راستہ شاہراہ کی طرف نہیں، کھائی کی طرف جاتا ہے۔ وہم اور زعم جہالت کا راستہ ہے … یقین اور تسلیم علم کا!۔
ہمارے حواسِ خمسہ محدود بھی ہیں اور ناقابلِ اعتبار بھی۔ ہم ایک خاص حد سے آگے نہیں دیکھ سکتے، ایک خاص فریکوینسی سے زیادہ یا کم کی آواز نہیں سن سکتے … نو دریافت شدہ گیجٹ بھی ہماری حسیات کی رینج میں محض اضافہ کرتے ہیں، اس کی نوعیت میں فرق نہیں ڈالتے۔ حسی معلومات کا تجزیہ کرنے والا دماغ ایک کمپوٹر کے سی پی یو کی طرح کام کرتا ہے اور اس کی تجزیہ کاری کا انحصار اس کی صحت پر ہے۔ ہماری دماغی صحت چند ڈگری درجہ حرارت اور چند موزوں کیفیات کی محتاج ہے۔ اگر جسم کا درجہ حرارت چند ڈگری نارمل سے کم یا زیادہ ہو جائے تو ہم بے ربط ہو جاتے ہیں۔ غصے کے درجہ حرارت کا بھی یہی عالم ہے۔ غصے کی حالت میں ہمارا دماغ اپنی تجزیاتی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ نفرت میں یہی دماغ اپنے تجزیے کا حاصل منفی نکالنے لگتا ہے۔ غرور میں اس کا یہ عالم ہے کہ یہ ہرحال میں کسی تجزیے کا حاصل اپنی مرضی کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ الغرض حواسِ خمسہ سے اخذ شدہ معلومات اور پھران معلومات سے اخذ شدہ نتائج ایک خاص حد تک ہی قابلِ بھروسہ ہوتے ہیں۔
تاریخِ انسانی میں ایسے انسان آتے رہے، مختلف زمانوں میں، مختلف بستیوں میں … اور ان سب کا قول ایک ہی تھا … اور یہ کہتے رہے کہ ہمارے علم کا ماخذ ایسا ہے جو ماورائے حسیات ہے، قابل بھروسہ ہے … مستقبل بعید کی خبر دینے والا ہے۔ ان کا علم حسیات پر موقوف نہیں تھا، بلکہ براہِ راست خبر دینے والا، خبردار کرنے والا علم تھا … وہ ماورائے فطرت علم کی گفتگو کرتے اور اپنے عہد میں لوگوں کو فطرت سے گزر کر فاطر تک رسائی کا ایک
اخلاقی و روحانی نظام مہیا کرتے رہے۔ ان پر یقین کرنے والے صاحبانِ ایمان کہلائے اور ان کا انکار کرنے والے کفار۔ لفظ ’’نبی‘‘ کا لغوی معنی خبر دینے والے کے ہیں اور اصطلاحی معنی ’’غیب کی خبر دینے والا‘‘ ہے۔ غیب کوئی relative چیز نہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک شخص کی نظر سے اوجھل چیز اس کے لیے غیب ہے اور نظر کے سامنے موجود چیز حاضر ہے، یعنی ایسا نہیں کہا جا سکے گا کہ اگر کسی کی حسی صلاحیت بڑھنے سے اس کے لیے غیب حاضر ہو جائے گا۔ غیب وہ عالم ہے جہاں تک رسائی ہمارے حواسِ خمسہ سے ممکن نہیں … خواہ ہم اپنے حواسِ خمسہ کو تیز کرنے کے جتنے بھی جتن کر لیں۔ ہم کتنے سائنسی آلات کا سہارا لے لیں، غیب کبھی ہماری حسی بصارت اور سماعت کے سامنے حاضر نہیں ہو گا۔ یعنی ایسا کبھی ممکن نہیں ہوگا کہ کوئی تیز ترین سائنسی گیجٹ ہمیں فرشتہ دکھا دے، یا کسی ریڈیائی دور بین سے ہم پل صراط دیکھ لیں، یا کسی ذہنی صلاحیت سے ہم دوزخ اور جنت کا نقشہ کھینچ لیں۔ یاد رہے کہ جس طرح ہماری حسی صلاحیت غیب کے عالم میں رسائی سے قاصر ہے، اسی طرح ہماری ذہنی صلاحیت بھی عالمِ غیب کی معلومات اخذ سے معذور ہے۔ اس باب میں ہم محتاج ہیں غیب کا علم دینے والی ذاتِ نبیؐ کے … ایمان بالغیب دراصل ایمان بالرسولؐ ہے، کیونکہ غیب کی تمام معلومات ذاتِ رسولؐ سے موصول ہو رہی ہیں۔ سلسلہ نبوت و رسالت نبیِ آخرالزمان، خاتم النبیینؐ پر ختم ہو گیا … ہاں! بارگاہِ رسالتؐ سے سلسلہ ولایت تاقیامت جاری و ساری ہے۔ غیبی معلومات و مشاہدات ولایت میں ممکن ہوتے ہیں۔ نبیؐ کی بات کل عالمین کے لیے حجتِ قطعی ہے، ولی کی بات، ولی کا مشاہدہ سب امتیوں کے لیے حجت نہیں۔ ولی کی بات باطن سے تعلق رکھتی ہے اور بقول مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ: ’’باطن بیان ہو کر بھی باطن رہتا ہے‘‘۔ باطن جب تک ظاہر نہ ہو، حجت نہیں ٹھہرتا۔
رسولِ کریمؐ کی حدیثِ مبارکہ ہے کہ نبوت ختم ہو گئی، البتہ مبشرات جاری ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا کہ مبشرات سے کیا مراد ہے۔ آپؐ نے فرمایا: رویائے صادقہ، یعنی سچے خواب۔ ایک اور جگہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ رویائے صادقہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ گویا غیب کی خبر پانے کے لیے ذرائع میں سے کم از کم رویائے صادقہ مستند ہیں۔ رویائے صادقہ قلب کی شفافیت اور روح کی پاکیزگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح حاصل ہو جائے تو عین ممکن ہے رویائے صادقہ سے اگلا درجہ یعنی کشف بھی میسر آ جائے۔ کشف جاگتے میں خواب دیکھنا ہے، وہ اشارات و مبشرات جو ایک عام مومن کو سوتے میں میسر آتے ہیں، ایک ترفیع شدہ نفس کو وہ جاگتے میں بھی میسر ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس میں کسی ریاضت کا کوئی دخل نہیں۔ ریاضت سے صرف ’’کشفِ کونی‘‘ حاصل ہوتا ہے جو اہلِ معرفت کے نزدیک ایک نجسِ محض ہے۔ کشف معنوی اور کشف صوری میں سے کشف معانی اہل معانی کے نزدیک قابل تحسین ہیں۔ کشف کے بعد القاء کا درجہ ہے … یعنی غیب کی طرف سے کوئی بات دل میں ڈال دینا۔ شاعر، دانشور، صاحبانِ حکمت اور تخلیق کار لوگ القاء کے زیرِ اثر کام کرتے ہیں۔ اسی لیے شعراء کو تلامیذ الرحمٰن (رحمٰن کے شاگرد) کہا جاتا ہے۔ القاء سے بھی بڑا درجہ الہام کہلاتا ہے۔ الہام وہ القاء ہے جو آواز کے ساتھ ہوتا ہے۔ ولایت میں قطب اور غوث کے درجے پر فائز الہام کے انعام سے متصف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد صرف وحی ہے … جو صرف اور صرف انبیاء و رسل کا دائرہ ہے اور براہِ راست مالک کائنات سے منسلک ہے۔
قرآن اللہ کا کلام ہے، اللہ کے کلام کو سمجھنے کے لیے لازم ہے کہ اللہ جس مفہوم میں جس لفظ میں کلام کر رہا ہے، وہ مفہوم پیش نظر رہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے نزدیک حیات سے مراد یہ جسمانی حیات نہیں … اللہ شہید کو زندہ کہہ رہا ہے اور کافر کو مردہ کہہ رہا ہے۔ اللہ کے نزدیک سوچنے اور سمجھنے کا مقام دماغ نہیں، بلکہ دل ہے … ’’ان کے پاس دل ہے، یہ سمجھتے کیوں نہیں‘‘۔ اللہ کے نزدیک علم مشاہدہ ہے’’ … فاعلم انہ لا الہ الا ھو …‘‘ حضرت عزیرؑ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ جب وہ ایک تباہ شدہ بستی سے گذرے تو ان کے دل میں خیال آیا کہ اللہ ان نابود بستیوں کو دوبارہ زندہ کیسے کرے گا۔ تو اللہ نے انہیں سلا دیا، ایک مدت تک، پھر جب جگایا تو معلوم ہوا کہ ایک سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، جب وہ جاگے تو دیکھا کہ ان کا کھانا ویسا ہی تازہ ہے جبکہ ان کا گدھا ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا ہے، پھر اس گدھے کی ہڈیوں پر گوشت چڑھایا گیا … تو اس واقعہ کے بعد حضرت عزیرؑ کا قول ہے: اس نے کہا: اب مجھے علم ہو گیا کہ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(مفہوم)۔ گویا علم مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔ مشاہدہ ماورائے زمان و مکاں، ماورائے فطرت، ماورائے حسیات کا نظارہ ہے۔ یہ نظارہ ہمیں وہ علم عطا کرتا ہے، جو فی الواقع علم کہلاتا ہے۔