کہا اس نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حاضر کر دوں گا پلک جھپکنے سے پہلے (النمل: 40)۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے دربار میں موجود جن و انسانوں سے سوال کیا: ’’تم میں سے کون ہے جو ملکہ سبا کا تخت میرے پاس لے کر آ سکتا ہے؟‘‘ ایک قوی ہیکل جن بولا: ’’میں اسے آپ کے دربار میں حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی نشست سے اٹھیں۔‘‘ مگر دربار میں موجود ایک اور شخص، جسے کتاب کا علم دیا گیا تھا، نے کہا: ’’میں اسے پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر دوں گا!‘‘ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تخت وہاں موجود تھا اپنی اصل صورت میں، مکمل، سالم۔ یہ قصہ ہمیں نہ صرف حیران کرتا ہے بلکہ غور و فکر کی دعوت دیتا ہے: کیا یہ کوئی الٰہی معجزہ تھا؟ جی ہاں۔ لیکن ساتھ ہی یہ اس علم کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے، جو اللہ کسی انسان کو عطا کرے تو وہ جنات سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ یہ وہی نکتہ ہے جہاں ٹیکنالوجی اور روحانیت ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ ہم جسے سائنس کہتے ہیں، وہ دراصل ’’علم کا وہ پہلو‘‘ ہے جسے انسان نے تلاش کیا، سمجھا اور عمل میں لایا۔ حضرت سلیمان کے دربار کا وہ ’’پلک جھپکنے والا لمحہ‘‘ آج بھی جدید فزکس، کوانٹم انرجی اور ٹائم سپیس تھیوری کا موضوع بنا ہوا ہے۔
1801 میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے محقق، استاد اور نثر نگار، میر امن دہلوی نے اپنی کتاب ’’میر امن کی باغ و بہار‘‘ اور ’’قصہ چہار درویش‘‘ میں شہزادوں کی جادوئی سواری، طلسماتی آئینے، لمحا تی پیعام رسانی اور زندگی بخش دواؤں، جیسے خواب لکھے۔ اس وقت یہ محض داستانیں لگتی تھیں، مگر وہی خواب اگلی صدی کے شروع تک ہوائی جہاز، ٹیلی وژن ، ٹیلیفون اور میڈیکل سائنس میں نئی نئی اختراعات کی شکل میں سچ ثابت ہو چکے تھے۔ 1903 میں رائٹ برادران نے پہلا ہوائی جہاز اڑا کر میر امن کے افسانوی جہاز کو حقیقت کا
روپ دے دیا۔ 1926 میں ٹیلی وژن ایجاد ہو چکا تھا۔ یہی سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ آج ہم مصنوعی ذہانت (AI)، ہولوگرام ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ٹائم سپیس ٹیلی پارٹیشن جیسے تصورات کی طرف بڑھ رہے ہیں جن میں پلک جھپکنے میں دور دراز اشیا یا پیغامات منتقل ہو سکتے ہیں۔
یہ 2011 کی بات ہے۔ میرا بیٹا بیرون ملک ایک یونیورسٹی میں کمپیوٹر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ جب سے گیا تھا، مجھے اس کے کھانے پینے کی فکر لگی رہتی تھی۔ وہ جب بھی کال کرتا، میں پوچھتی: ’’آج کیا کھایا؟‘‘ وہ ہنستا اور زیادہ تر یہی کہتا: ’’امی، انڈا ٹوسٹ!‘‘ میں اس کی اس بات پر دل مسوس کر رہ جاتی، کاش میں اپنے بیٹے کو اس کا من پسند کھانا پکا کر دے سکتی لیکن فاصلوں کی دوری ہمارے درمیان حائل تھی میں تو اس کے لیے آسانیوں کی دعا ہی کر سکتی تھی۔ ایک دن میں نے ویڈیو کال پر پوچھا، ’’بیٹا، آج کا دن کیسا گزرا؟‘‘ تو اس نے مجھے ایسی بات بتائی جسے سن کر میں حیرت زدہ رہ گئی۔ اس نے مجھے بتایا: ’’امی، آج ایک عجیب تجربہ ہوا۔ ہمارے لیکچر میں ایک امریکی پروفیسر ہولوگرام کے ذریعے ہمارے سامنے آئے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوں۔ نہ کوئی پردہ، نہ کوئی سکرین بس جیسے وہی انسان ہو، سانس لیتا، چلتا پھرتا، اور ہمیں پڑھاتا ہوا‘‘۔ ہم اس حیرت انگیز سائنسی معجزے کو کافی دیر ڈسکس کرتے رہے، آخر بات پھر کھانے پہ آ گئی، میں نے مسکرا کر کہا: ’’کیا پتا، بیٹا، کبھی ایسا وقت آئے کہ میں یہاں سے تمہارے لیے کھانا بناؤں اور وہ ہولوگرام کے ذریعے یا کسی اور ٹیکنالوجی سے فوراً تم تک پہنچ جائے۔ ’’وہ ہنسا اور بولا: ’’امی، شاید یہ بھی کبھی ہو جائے!‘‘ میں نے کہا: ’’حضرت سلیمانؑ کے دربار میں جو شخص پلک جھپکنے میں تخت لا سکا، وہ بھی ایک علم ہی تھا جو اللہ نے عطا کیا تھا۔ اگر وہی علم اللہ کسی دورِ حاضر کے انسان کو دے دے تو کیا بعید کہ تمہیں میری چکن کڑاہی پل بھر میں مل جائے!‘‘۔ ابھی ہم بات ہی کر رہے تھے کہ اسی لمحے اسکے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے فون ہولڈ کیا، باہر گیا، اور واپس آیا ہاتھ میں دو پلیٹیں تھیں۔ ایک دوست باہر کھڑا تھا، اس نے کہا: ’’میں نے آج چکن کڑاہی بنائی تھی، سوچا تمہیں بھی کھلا دوں!‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا: ’’امی، آپ کی دعا فوراً قبول ہو گئی، چکن کڑاہی پہنچ گئی!‘‘ ہم دیر تک اس واقعے پر ہنستے رہے، میری آنکھیں اللہ سبحان تعالیٰ کی شکر گزاری کے جذبے سے پُر نم ہو گئیں، پھر میں نے کہا: ’’بیٹا، ابھی یہ ٹیکنالوجی اللہ کے پاس ہے جب وہ چاہے، خواہش اور تکمیل کے درمیان فاصلے کو مٹا دے، جانتے ہو بیٹا! دنیا کا پہلا وائرلیس فون جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عطیہ کیا تھا اس کا نام، ’دعا‘، ہے جس کی نہ تو بیٹری فیل ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے سگنلز کم ہوتے ہیں۔ دن کا اجالا ہو یا رات کا اندھیرا، کہیں سے بھی، کسی بھی وقت آپ اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ آج اگر ہولوگرام ہمیں استاد کا عکس دکھا سکتا ہے، تو کل وہ جسم بھی دکھا سکتا ہے۔ آج اگر 3D پرنٹنگ سے انسان دانت اور گردے بنا سکتا ہے، تو کل شاید پکا ہوا کھانا بھی ’پرنٹ‘ ہو سکے گا۔ آج اگر آرٹیفشل انٹیلی جنس انسان کے لہجے، سوچ اور چہرے کو سیکھ رہی ہے، تو کل وہ کسی ماں کی محبت کو بھی ڈیجیٹل شکل میں دنیا کے کسی کونے تک پہنچا دے گی۔ لیکن یہ سب کچھ ممکن ہو گا صرف اور صرف علم کے ذریعے۔ وہی علم جو حضرت محمدﷺ کو پہلی وحی کے موقع پر دیا گیا۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے (سورۃ العلق) اور قرآن جیسی عظیم الشان کتاب کی تخلیق ہوئی۔ جی ہاں، وہی علم، جو حضرت سلیمانؑ کے درباری کو ملا، اور جس نے ’’پلک جھپکنے‘‘ میں صدیوں کے فاصلے مٹا دئیے۔ کیا آپ بھی تیار ہیں اس دنیا کے لیے، جہاں ہمارے خواب، دعا، علم اور ٹیکنالوجی ایک ہو جائیں۔‘‘