Wed, September 16, 2026

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو

سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت نے ڈاکٹروں کی جس پانچ رکنی ٹیم کو خان صاحب کی آنکھوں کے معائنہ کے لئے بھیجا تھا ان کی رپورٹ نے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے ڈالر سمیٹ گروپ کی خواہشات کے بالکل برعکس رپورٹ دے کر ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ اس ٹیم نے جو رپورٹ دی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ خان صاحب کی دائیں آنکھ سے چشمہ کے ساتھ 70%نظر آتا ہے جبکہ بائیں آنکھ خدا کے فضل سے 6/6ہے ۔ یہ تو وہی بات ہو گئی کہ ایک بندے کی نظر کمزور تھی تو وہ کسی عطائی ڈاکٹر کے پاس چلا گیا تو اس نے اپنی سمجھ کے مطابق اس کا علاج کر دیا ظاہر ہے کہ اس سے اسے کیا فرق پڑنا تھا تو جب اس نے نظر ٹھیک نہ ہونے کی شکایت کی تو اس نے اسے اپنے کلینک سے باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ بتائو تمہیں چاند نظر آ رہا ہے تو اس نے کہا کہ بالکل آ رہا ہے تو ڈاکٹر نے کہا کہ لاکھوں کلو میٹر دور سے تہمیں چاند نظر آ رہا ہے تو بتائو کہ اور کتنی تیز نظر کروں تو تحریک انصاف کے پاس بھی لگتا ہے کہ ایسے عطائی ڈاکٹروں کی کمی نہیں جنھوں نے اس مسئلہ پر اپنی دکان داری چمکانے کی پوری کوشش کی اور باقاعدہ ان کیمیکلز تک کی پوری تفصیل سوشل میڈیا پر شیئر ہونی شروع ہو گئی اور ہمارے تحریک انصاف کے دوستوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ وہ کون سا ایسا کیمیکل ہے کہ جو انسانی زبان کو بھی سمجھتا ہے اور جس نے خان صاحب کو وہ کیمیکل دیا ہے تو اس کی ہدایات کے تابع اس نے اپنا اثر صرف دائیں آنکھ پر ڈالا ہے جبکہ بائیں آنکھ بالکل 6/6ٹھیک رہی لیکن اس حوالے سے کچھ لوگوں کا طرز عمل اس شعر کے عین مطابق ہوتا ہے کہ 
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے
ہم یہ بات اس لئے کر رہے ہیں کہ عقل مند انسان تو ایک سوراخ سے کبھی دو بار نہیں ڈسا جائے گا لیکن ہمارے تحریک انصاف کے دوست کو ایسے سوشل میڈیا والوں سے پالا پڑا ہے کہ بار بار ڈسے جاتے ہیں لیکن پھر یقین کر لیتے ہیں۔
 ملاقات نہ کروانے پر آئے دن خان صاحب کی صحت کے حوالے سے جو کچھ سوشل میڈیا کی زینت بنتا ہے اسے تو چھوڑ دیں اور یاد کریں کہ نومبر2022میں لانگ مارچ کے دوران جب وزیر آباد میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا تو خان صاحب کو ٹانگ پر جو گولی یا چھرے جو بھی کہہ لیں ، لگے تھے تو انہی عطائی ڈاکٹروں سے علاج کی وجہ سے چھ ماہ تک خان صاحب کی ٹانگ صحیح نہیں ہو سکی تھی اور چھ ماہ تک پلستر چڑھا رہا تھا ۔ اس حوالے سے ہم نے اپنے ایک قریبی عزیز جن کا شمار خان صاحب کے چاہنے والوں میں ہوتا ہے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو یقین کریں کہ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس کے متعلق باقاعدہ ڈکٹروں سے پتا کیا ہے اور انھوں نے مکمل یقین کامل کے ساتھ کہا ہے کہ انسانی ٹانگ میں ایک نس یا شاید رگ ایسی ہوتی ہے کہ اگر اسے کسی وجہ سے نقصان پہنچے تو پھر ٹانگ کا علاج کئی ماہ تک چلتا ہے اور اسی طرح اس پر پلستر چڑھانا پڑتا ہے ۔ ان کے اس تفصیلی بیان کے بعد ہمارا پریشان ہونا لازم تھا لیکن خدائے پاک کا شکر ہے کہ خان صاحب کی رینجرز کے ہاتھوں جب گرفتاری ہوئی تو ان کے پاس ایسے قابل ڈاکٹروں کی ٹیم تھی کہ جس نے چند منٹوں میں خان صاحب کی ٹانگ کا نہ صرف یہ کہ علاج کیا بلکہ اس نس یا رگ کو بھی ٹھیک کر کے کئی مہینوں سے ان کی ٹانگ پر چڑھے پلستر کو اتار پھینکا ۔ 
یہ دنیا عالم اسباب ہے اور اس دنیا میں کوئی کام بھی بلا وجہ نہیں ہوتا ۔ ہم تو شروع دن سے کبھی خان صاحب کی حقیقی مقبولیت کے قائل نہیں رہے لیکن کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ اب اگر تحریک انصاف کسی پر امن دھرنے کی کال بھی دیتی ہے تو لوگ وہاں کیوں نہیں پہنچتے اور خدارا یہ ہماری رائے نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف کے اپنے لوگ اس بات کا ایک سے زائد مواقع پر اعتراف کر چکے ہیں اور اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف نے عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی 85%ختم کر دی تھی لیکن اس کے باوجود بھی آپ وڈیوز دیکھ لیں کہ محمود خان اچکزئی ہوں یا خیبر پختون خوا ہائوس اسلام آباد کے باہر سہیل آفریدی ہوں ان کے ساتھ دو چار درجن سے زیادہ لوگ نہیں ہیں اور وہ بھی شاید ان کے گارڈز وغیرہ ہو سکتے ہیں تو یہ نوبت یہاں تک کیسے اور کیوں پہنچی تو عرض یہ ہے کہ سیاست کی بنیاد اخلاقیات پر ہوتی ہے اور سیاسی جماعتیں اپنی اخلاقی برتری پر عوامی حمایت حاصل کرتی ہیںلیکن جب آپ اخلاقی برتری ہی کھو دیں گے اور اس خبط عظمت میں مبتلا رہیں گے کہ جو ہم کہہ دیں گے عوام نے اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لینا ہے تو یہ کلیہ ایک انتہائی محدود طبقہ تک تو چل سکتا ہے لیکن عوام کی اکثریت اس پر آمین کہے گی تو یہ بات سرے سے غلط ہے اور یہی کچھ تحریک انصاف کے ساتھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے ۔ کبھی آرمی چیف قوم کا باپ تو کبھی میر جعفر اور میر صادق بنا دیا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جن باتوں کو دوسروں کے لئے حرام قرار دیا جاتا ہے وہ اپنے لئے حلال کر لی جاتی ہیں تو اس کے بعد عوامی حمایت کی بات سوائے خود فریبی کے اور کچھ نہیں ہے ۔ 

ٹیگز: