تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے؟ یہ ایک آیت مبارکہ ہے یقین کریں کہ نعمتوں کا شمار شاید تمام مخلوقات مل کر بھی نہ کر سکیں۔ میں اکثر یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر یا کسی اور کی طرف سے کوئی ویڈیو دیکھتا ہوں تو صرف اس آیت مبارکہ کے ساتھ ویڈیو چل رہی ہوتی ہے وہ سمندر، پھل، اناج، پودے، باغات لیکن اگر انسان ذرا غور کرے یعنی میں نے یہی سوچا کہ خود کلامی کس قدر عظیم نعمت ہے جو زندگی کے ساتھ بدلتی چلی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا ساتھ دیتی ہے۔ بچپن کی خود کلامی، جوانی میں خود کلامی، بڑھاپے میں خود کلامی یہ اللہ کی ایسی نعمت ہے جس پر کوئی پابندی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قیمت۔ مگر انسان کے لیے ایسی عظیم نعمت اور تھیراپی ہے کہ شاید اس کا کوئی بدل اس دنیا میں نہ ہو۔ اس میں محبتیں، عبادتیں، ریاضتیں، شکایتیں، نفرتیں، پچھتاوے، ارادے، نتیجے، شاعری، نثر، خاموشی جو زبانوں کی مرشد ہے، سب کچھ ہے۔ اور پھر یہاں سے دوسری نعمت جو انسان کے اندر Built in ہے وہ تخیل کی نعمت ہے۔ قید خانے میں خیال آزاد، آزاد فضاو¿ں میں خیال اپنے گھر بلکہ گھر کے پسندیدہ گوشے، مسجد، مندر، گرجا، کلب، کوٹھا جہاں مرضی جائے۔ جو مرضی کرے۔ ایک خیال ہے جو پوری کی پوری زندگی انسان کو اپنے ساتھ نہیں بلکہ اپنے کندھوں پہ اٹھائے رکھتا ہے۔ اس کی رفتار روشنی سے تیز، نظر سے تیز، اس کی اڑان عقابوں سے زیادہ، چین کے جہازوں سے زیادہ، نہ کوئی اس کی اڑان پہنچ پائے نہ اس کی پرواز کو نہ اس کی گہرائی کو۔ قلزم بھی ہے بحرالکاہل بھی اور اس کی اگر گہرائیاں ختم ہو جائیں تو چلیے اپنے ہی دل میں اتر جائیے۔ واللہ کوئی گہرائی ایسی نہ ہو گی جو دل کی ہوگی۔ یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں جو انسان کو مفت میں ملتی ہیں۔ صحت، خوراک، پوشاک سانس تو سہولتیں اور زندگی کے سامان ہیں مگر زندگی تخیل، خود کلامی اور پھر دل کہتا ہے کہ روح کی تنہائیوں اور روح کی گہرائیوں کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا روح کا راج ہے۔ روح خاموش رہنے میں بولتی ہے۔ بولنے میں خاموش رہتی، اداسی میں کہکشاں کا نظارہ دیتی ہے، آپ کے ساتھ ساتھ ہے اور آپ سے جدا بھی۔ اب چند اشعار کی صورت میں یہ سفر ذرا آگے بڑھاتے ہیں۔
اِک ہے جو میرے اندر رہتی ہے
پھر بھی ہر لمحہ مجھ سے جدا رہتی ہے
میں بندگی میں ڈوبا ہوا
وہ شرمندگی میں بھی تنہا رہتی ہے
میں تنہا ہوا تو وہ محفل میں تھی
میں ہنسا، وہ خاموشی میں ڈوبی رہی
اِک آئینہ ہوں، وہ عکس ہے میرا
پھر بھی کبھی ہم خواب میں بھی نہ ملے
اِک جدائی ہے جو وصل کے سائے میں ہے
اِک فراق ہے جو ہر لمحہ چھائے میں ہے
میری ہر وہ خواہش، جو لمحہ بھر کو خوشی دے
اس کے آگے گناہ بن جائے، کبھی وعظ کرے
کبھی داروغہ بن کے سزا بھی سنائے
وہ ہے میرے لیے زہر جیسی سچائی
پھر بھی، اس کے بغیر
میری ہستی محض خالی رسوائی
تو جسے کہتا رہا حُسن کا قبلہ، وہ اِک عکس ہے
جس پہ سورج، چاند، ستارے حیرت میں خاموش ہیں
کبھی سوچا، کہ تیرا اور ان سب کا خالق ایک ہے؟
اک مقررہ لمحے کا اسیر، تو اسے لافانی کیوں کہے؟
محبوبِ فانی سے محبت، فانی خواب ہے
لافانی سے عشق، بقا کی سیڑھی ہے
تو جسے سمجھا حسنِ دو عالم، وہ زوال ہے
خود سے محبت کر، تو رب کی جستجو حاصل ہو
لافانی سے محبت کا قرینہ ہے
کہ اپنی روح سے کلام کرو
اک سکوت میں چھپی وہ صدا سنو
جو تجھ میں ہی ہے، اور تجھ سے ماورا بھی ہے
اِک بار ہم ملے، حرم کے سائے میں
اور دوسری بار، اُس در پہ
جہاں درود ہو، صلوٰة ہو،
ملائکہ بھی جھک جائیں
ربِّ کائنات کے گھر میں
یا رحمتِ عالم کے قدموں میں
چند ساعتیں جو ہم اکٹھے ہو گئے
باقی عمر .... صرف جدائی، فقط شکایتیں
نہ کوئی ہم سخن، نہ رازداں
بس ”میں“ ہی تھا اور ”روح“ کی زباں
اِک تماشا تھا .... جس میں، میں خود تماشائی
اِک فسوں .... جس میں، میں ہی محو تماشا رہا
روح کیا ہے؟
نورِ حق، جو نہ بجھتا ہے، نہ جلتا
اک لمحہ جو لافانی ہو جائے
بس وہی تو عشقِ حقیقی کی ابتدا ہے
جب ملا میں، مجھ سے، بولا:
”میں اور میری روح“