Wed, September 16, 2026

بنگلہ دیش میں سیاسی رہنما کی ہلاکت کے بعد احتجاج اور کشیدگی، انتخابی بے چینی کا سامنا

بنگلہ دیش میں سیاسی رہنما کی ہلاکت کے بعد احتجاج اور کشیدگی، انتخابی بے چینی کا سامنا

ڈھاکا : بنگلہ دیش میں ایک معروف سیاسی رہنما، شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ڈھاکا اور دیگر شہروں میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جس کے باعث پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ہادی کی موت کے بعد ملک میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے بھی مزید تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ وہ خود بھی انتخابی امیدوار تھے۔

جمعہ کی صبح شہر میں حالات نسبتاً پرسکون رہے، تاہم شہریوں نے خوف کا اظہار کیا کہ جمعہ کی نماز کے بعد مظاہروں اور تشدد کی مزید لہر اُٹھ سکتی ہے۔ 32 سالہ ہادی انقلاب منچہ کے ترجمان تھے اور حکومت کے خلاف متعدد احتجاجوں میں شریک رہے۔ انہیں گزشتہ جمعہ کو ڈھاکا میں انتخابی مہم کے دوران نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ ابتدائی طور پر انہیں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، پھر بہتر علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا جہاں وہ چھ دن تک زندگی کی لڑائی لڑنے کے بعد چل بسے۔

ہادی کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں شدید غصہ پایا گیا، اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مظاہرین کو پرتھم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مظاہرین ہادی کے قتل کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہروں اور احتجاج کے دوران مختلف علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی، جس کے بعد حکومت نے اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کر دیں۔ فائر سروس کی رپورٹ کے مطابق، دی ڈیلی اسٹار کی عمارت میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا، اور فوجی دستوں نے صحافیوں کو عمارت سے محفوظ طریقے سے نکال لیا۔

ہادی کی موت کے بعد، عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہادی کی ہلاکت ملک کے سیاسی نظام کے لیے بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے عوام سے صبر کی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ حکام اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

یونس نے مزید کہا کہ ملک میں جاری تشدد انتخابات کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے، اور اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت نے ہادی کی یاد میں ہفتے کو یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے، اور ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رکھنے اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گا۔

ہادی کی ہلاکت کے بعد بھارت کے خلاف مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ کچھ دن پہلے جولائی اوئیکیا کے نام سے مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کی طرف مارچ کیا اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔ ان مظاہرین نے شیخ حسینہ کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا۔

ہادی کی موت کے بعد بنگلہ دیش میں بھارت کے ساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی آئی ہے، کیونکہ شیخ حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔ بنگلہ دیش میں سیاسی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے، اور انتخابی عمل کے دوران بے امنی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
 
 

ٹیگز: