ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں 15 سال بعد ہونے والے پہلے حقیقی عام انتخابات کے لیے مہم کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ ان انتخابات کی سب سے بڑی خاص بات ملکی سیاست میں 'Gen Z' (نوجوان نسل) کا ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر ابھرنا ہے، جنہوں نے روایتی سیاست کے تمام بت توڑ دیے ہیں۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ اور ملک بھر کے نوجوان ووٹرز اس بار انتخابی مہم کے روحِ رواں رہے ہیں۔
انتخابی جلسوں اور سوشل میڈیا پر "دلی نہیں بلکہ ڈھاکہ" کا نعرہ زبان زدِ عام رہا۔ نوجوانوں کا موقف ہے کہ وہ ایک ایسا بنگلہ دیش چاہتے ہیں جس کی خارجہ اور داخلی پالیسی کے فیصلے پڑوسی ملک کے بجائے صرف ڈھاکہ میں ہوں۔
نوجوان ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ شیخ حسینہ دور کے سیاسی امتیاز اور دبائو سے پاک نیا نظام چاہتے ہیں۔ عالمی میڈیا (بی بی سی) کے مطابق بنگلہ دیشی نوجوانوں کے ان بدلتے ہوئے سیاسی تیوروں نے بھارت کے لیے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔12 فروری کو پولنگ کے لیے نگران حکومت نے سیکیورٹی کا فول پروف پلان ترتیب دیا ہے۔ ملک بھر کے تمام اضلاع میں پاک فوج نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
پولنگ سے قبل اور بعد کے تین ایام کے لیے ملک بھر میں موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ 9 لاکھ 70 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار الرٹ ہیں۔عوامی لیگ کے الیکشن سے باہر ہونے کے بعد، نوجوانوں کا ووٹ دو بڑے اتحادوں کے درمیان منقسم نظر آ رہا ہے۔ بی این پی اتحاد (طارق رحمان)، حالیہ جائزوں میں 44.1 فیصد عوامی حمایت کے ساتھ معمولی برتری حاصل ہے۔ جماعتِ اسلامی اتحاد (11 جماعتیں) 43.9 فیصد حمایت کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، تاہم نوجوانوں میں اس کی مقبولیت تیزی سے بڑھی ہے۔
اس بار ووٹرز کو دو بیلٹ پیپرز دیے جائیں گے، ایک امیدوار کے لیے اور دوسرا "جولائی نیشنل چارٹر" (آئینی اصلاحات) پر ریفرنڈم کے لیے۔ یہ ریفرنڈم ان نوجوانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اگست 2024 میں تبدیلی کی بنیاد رکھی تھی۔