Wed, September 16, 2026

اتحاد ہی اصل طاقت

 اتحاد ہی اصل طاقت

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ داخلی طور پر سیاسی بے یقینی، معاشی دباؤ، سماجی انتشار اور سکیورٹی چیلنجز نے ریاستی ڈھانچے کو آزمائش میں ڈال رکھا ہے، جبکہ خارجی محاذ پر علاقائی کشیدگی، سرحدی خطرات اور عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے مفادات ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
ایسے حالات میں ریاستی اداروں کی سنجیدہ، واضح اور ذمہ دارانہ گفتگو غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جو محض ایک رسمی بریفنگ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور اجتماعی شعور کے حوالے سے ایک جامع پیغام تھی۔ کوئی بھی چیز جو ہو جاتی ہے اس پر اگر دیر تک گفتگو ہوتی رہے تو وہ اثر رکھتی ہے، یہ پریسر بھی مثال بن گیا جس نے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا۔ 
پریس کانفرنس میں سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ افواجِ پاکستان نے خود کو ایک پیشہ ور، غیر سیاسی اور آئین کے تابع ادارے کے طور پر پیش کیا۔ ایسے وقت میں جب مختلف حلقوں میں اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، یہ موقف نہ صرف واضح تھا بلکہ قومی استحکام کے لیے ناگزیر بھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ پاک فوج کا تعلق کسی فرد، جماعت یا مخصوص سوچ سے نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہری، ہر طبقے اور ہر خطے سے ہے۔ یہی وہ اصولی بنیاد ہے جو کسی بھی قومی فوج کو مضبوط اور معتبر بناتی ہے۔
موجودہ حالات میں پاکستان کو دہشت گردی کی نئی لہر، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں سکیورٹی چیلنجز، کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل نے عوامی سطح پر اضطراب کو بڑھا دیا ہے، جس کا اظہار سوشل میڈیا اور عوامی مباحث میں بھی نظر آتا ہے۔ ایسے ماحول میں غیر ذمہ دارانہ بیانیے، اشتعال انگیز گفتگو اور اداروں کے خلاف نفرت پر مبنی مہمات نہ صرف سماجی تقسیم کو گہرا کرتی ہیں بلکہ دشمن عناصر کے لیے مواقع بھی پیدا کرتی ہیں۔ قومی سلامتی محض عسکری طاقت سے نہیں بلکہ قومی یکجہتی، باہمی اعتماد اور ذمہ دار طرزِ اظہار سے جڑی ہوتی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ پاک فوج نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جوانوں اور افسروں کی جانوں کا نذرانہ اس بات کی گواہی ہے کہ یہ ادارہ محض ایک ریاستی ڈھانچہ نہیں بلکہ قومی بقا کی علامت ہے۔ موجودہ حالات میں جب دہشت گرد نیٹ ورکس ایک بار پھر منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور سرحد پار سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں، فوج کا مضبوط، واضح اور پرامن بیانیہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
پریس کانفرنس میں یہ پیغام بھی نمایاں تھا کہ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حصہ ہوتا ہے، مگر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت اور اشتعال پر مبنی مہمات ایک خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں، جہاں معلومات اور غلط معلومات کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو چکا ہے، ذمہ دارانہ رویہ ہر شہری کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ افواجِ پاکستان کا موقف یہ نہیں کہ سوال نہ اٹھائے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ سوالات ریاستی مفاد، آئینی حدود اور قومی سلامتی کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں۔ علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بدلتی ہوئی صورتحال، عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں اور خطے میں جاری تنازعات پاکستان کے لیے مسلسل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ایک منظم، متحد اور پیشہ ور فوجی قیادت ہی ریاست کے لیے استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے، اسی حقیقت کو اجاگر کیا کہ قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے، سیاسی قوتیں اور عوام ایک مشترکہ قومی بیانیے پر متفق ہوں۔
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاک فوج نے بارہا اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آئین کے تحت کام کرتی ہے اور جمہوری عمل کی حمایت کرتی ہے۔ موجودہ حالات میں، جب سیاسی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں، یہ پیغام نہایت اہم ہے کہ ریاستی اداروں کا کردار کسی ایک فریق کی حمایت نہیں بلکہ نظام کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ فوج کا مثبت اور متوازن موقف سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اصل پیغام طاقت کا اظہار نہیں بلکہ ذمہ داری، اتحاد اور قومی شعور کی اپیل تھا۔ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی فضا کی ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام، تنقید کے ساتھ ساتھ ذمہ داری، اور آزادیِ اظہار کے ساتھ قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ پاک فوج کا مثبت، پیشہ ورانہ اور واضح بیانیہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد مضبوط ادارے، باخبر عوام اور مشترکہ قومی سوچ ہے۔ موجودہ حالات میں یہی پیغام وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، پاکستان پائندہ باد۔

ٹیگز: