(گزشتہ سے پیوستہ)
14 جولائی 1947ء کو ایک ماہ بعد وجود میں آنیوالی نئی آزاد مملکت پاکستان کا گورنر جنرل نامزد ہونے کے بعد قائد اعظم نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو اُن سے اقلیتوں کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جس کے جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا، محترم ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم نے اپنے مضمون میں اس طرح نقل کیا ہے، ’’میں اب تک بار بار جو کہتا رہا ہوں اس پر قائم ہوں۔ ہر اقلیت کو تحفظ دیا جائے گا۔ اُن کی مذہبی رسومات میں دخل نہیں دیا جائے گا اور اُن کے مذہب، اعتقاد، جان و مال اور کلچر کی پوری حفاظت کی جائے گی۔ وہ پاکستان کے برابر کے شہری ہونگے۔‘‘ قائد اعظم نے مزید کہا، ’’آپ مجھ سے ایک فضول سوال بار بار پوچھ رہے ہیں، گویا میں اب تک جو کچھ کہتا رہا ہوں وہ رائیگاں گیا ہے۔ آپ جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا۔ ہم نے جمہوریت 1300 سال قبل سیکھ لی تھی۔‘‘
اب قائد اعظم کی 11 اگست 1947ء کی پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کی طرف آتے ہیں۔ اس کو بنیاد بنا کر نام نہاد لبرل حلقے پاکستان کے سیکولر ریاست بنائے جانے کی بات کرتے ہیں لیکن ساتھ یہ زیادتی یا بدیانتی بھی کرتے ہیں کہ اس کا پورا متن پیش نہیں کرتے اور قائد اعظم نے اپنی اس تقریر میں جن معاشرتی برائیوں کا ذکر کیا اور اُن کو ختم کرنے کی بات کی اُسے گول کر جاتے ہیں اور صرف اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں قائد اعظم کے خیالات کو پیش کر کے اُن کی من مانی تعبیر کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ اس موقع پر کی جانے والی قائد اعظم کی تقریر کے دیگر حصوں کو بھی سامنے لایا جائے۔ ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم نے اپنے اس مضمون میں اس طرف بھی توجہ دی ہے۔ اُن کے مطابق قائد اعظمؒ نے اس موقع پر کہا، ’’ہم آپ کی مدد سے اس اسمبلی کو مثالی بنائیں گے اس اسمبلی نے بیک وقت دستور سازی اور قانون سازی کے فرائض سرانجام دینے ہیں جس کے سبب ہم پر نہایت اہم ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ حکومت کا پہلا فرض امن عامہ قائم کرنا ہے تاکہ شہریوں کی جائیداد اور مذہبی اعتقادات کی حفاظت کی جا سکے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رشوت ستانی اور کرپشن ہے۔ اس اسمبلی کو اس زہر کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہیں۔ ایک اور لعنت بلیک مارکیٹنگ یعنی چور بازاری ہے جس کا تدارک کرنا ہے۔ اسی طرح ہمیں اقربا پروری اور ظلم و زیادتی کو بھی کچلنا ہے۔ مجھے علم ہے کہ کچھ لوگوں نے پنجاب اور بنگال کی تقسیم کو تسلیم نہیں کیا۔ میرے نزدیک اس مسئلے کا اور کوئی حل نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کرنا ہے؟ اگر ہم پاکستان کو خوشحال اور عظیم ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہمہ وقت عوام کی خوشحالی اور بہتری پر توجہ دینا ہو گی۔ اگر آپ ماضی کی تلخیوں کو دفن کر کے رنگ، دیس اور عقیدے کے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر تعاون اور برابری کی فضا میں کام کریں گے تو آپ کی ترقی کی کوئی انتہا نہیں ہو گی۔‘‘
یہاں قائد اعظمؒ کی تقریر کا وہ حصہ (جو ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم کے مضمون میں موجود نہیں ہے) لیکن جس کو بنیاد بنا کر لبرل حلقے قائد اعظم ؒ کو سیکولر خیالات کا حامل اور پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنائے جانے کا پرچار کرتے ہیں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ حوالہ سیکولر خیالات کے حامل ، نامور دانشور اور کالم نگار جناب وجاہت مسعود کے ایک قومی معاصر (روزنامہ جنگ) میں ’’نظریہ پاکستان سے انحراف کس نے کیا؟‘‘ کے عنوان سے چھپے مضمون سے لیا گیا ہے۔ جناب وجاہت مسعود پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی مارچ 1949ء میں منظور کردہ قراردادِ مقاصد جس میں اسلام کو پاکستان کی نظریاتی اساس قرار دیا گیا اور یہ قرارداد اب ہمارے آئین کا لازمی جزو ہے کو ہی ہدفِ تنقید نہیں بناتے رہتے ہیں بلکہ اس قرارداد کی منظوری دینے والے رہنمائوں جن میں وزیرِ اعظم پاکستان لیاقت علی خان اور مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ جیسی تحریکِ پاکستان کی مقتدر اور نامور ہستیاں شامل ہیں ان پر بھی تبّرے بھیجتے رہتے ہیں۔ خیر جناب وجاہت مسعود دستور ساز اسمبلی کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے پہلے قائدِ حزبِ اختلاف کرن شنکر رائے کی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کرن شنکر رائے نے قائد اعظم ؒ سے مخاطب ہو کر کہا، ’’جناب عالی! میں صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے اس ایوان میں کانگریس کی پالیسی بیان کروں گا۔ جناب ہم ہندوستان نیز پنجاب اور بنگال کی تقسیم پر خوش نہیں ہیں لیکن چونکہ اس پر عظیم سیاسی جماعتوں نے اتفاق کر لیا ہے، ہم پوری وفاداری کے ساتھ اسے تسلیم کرتے ہیں (تالیاں)۔ ہم پاکستان کی شہریت کو پوری ذمہ داری سے قبول کرتے ہیں۔ جناب عالی! آپ مسلمانوں کے عظیم رہنما ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ آپ ریاست کی قیادت سنبھالیں جس میں مسلمان ہی نہیں ہندو اور دوسرے گروہ بھی شامل ہیں۔ ہم آپ کی قیادت کا خیر مقدم کرتے ہیں اور آپ کی پوری حمایت کریں گے۔ جناب عالی! اگر آپ کے تخیل میں موجود ہے، پاکستان ایک سیکولر جمہوری ریاست ہے، ایک ایسی ریاست جو شہریوں میں ذات پات اور عقیدے سے قطع نظر برابری کا سلوک کرتی ہے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ سے پوری طرح تعاون کرینگے۔‘‘
کرن شنکر رائے کی تقریر کے جواب میں جناب وجاہت مسعود کے مطابق قائد اعظم نے کہا، ’’آپ میں سے ہر ایک کی قطع نظر اس سے کہ وہ کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے، اُس کا رنگ، ذات پات یا عقیدہ کیا ہے (اس کی) پہلی، دوسری اور تیسری حیثیت اس ریاست کا شہری ہونا ہے۔ اُسے دیگر تمام شہریوں کے مساوی حقوق، مراعات اور فرائض حاصل ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ کو پاکستان کی ریاست میں اپنی مسجدوں یا دوسری عبادت گاہوں میں جانے کی پوری آزادی ہے، آپ کا تعلق کسی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو اس کا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ قائد اعظمؒ نے مزید کہا، ’’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ہندو، ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے ایسا کسی مذہبی اصطلاح میں نہیں ہو گا کیونکہ مذہب ہر فرد کا نجی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی اصطلاح میں ایک ریاست (پاکستان) کے شہری کی حیثیت ہے‘‘۔
جناب وجاہت مسعود یا اُن کی قبیل کے دانشوروں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ قائد اعظم ؒ کی اس تقریر میں پاکستان کے ایک سیکولر ریاست ہونے یا قائداعظمؒ کے سیکولر خیالات کا مالک ہونے کی بات کہاں سے آ گئی۔ کیا سیکولر، سیکولر کی رِٹ لگانے کی بجائے اسے یہ نام نہیں دیا جا سکتا کہ قائد اعظمؒ نے اپنی اس تقریر میں اسلام کی تعلیمات کے مطابق ریاستِ پاکستان کے شہریوں کے عقیدے اور اُنکی مذہبی آزادی کی بات کی ہے۔ خیر یہ دانشور اپنی سوچ میں تبدیلی لاتے ہیں یا نہیں یہ ان کا مسئلہ ہے۔ آخر میں ڈاکٹر صفدر محمود کے الفاظ میں قائد اعظمؒ کی سوچ اور فکر کا خلاصہ بیان کر کے کالم کو تمام کیا جاتا ہے، ’’حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظمؒ پاکستان کو ایک ماڈرن اسلامی جمہوری ملک بنانا چاہتے تھے اور اُن کے نزدیک اسلامی اور جمہوری اصولوں میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ قائد اعظم ؒ کی تقاریر کا مطالعہ کریں تو یہ راز کھلتا ہے کہ قائد اعظم ؒ نے اپنی تقریروں میں کبھی لفظ سیکولرازم استعمال نہیں کیا جبکہ اسلام اُن کی تقریروں اور تحریروں کا محور نظر آتا ہے‘‘۔ (ختم شد)