ہمارے ہاں لبرل خیالات اور سوچ کے مالک کچھ اہلِ قلم اور دانشوروں کا ایک مخصوص طبقہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کو سیکولر سوچ کی حامل ایسی شخصیت قرار دینے کی کوشش کرتا رہتا ہے جو پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے وہ قائد اعظم ؒ کی 11 اگست 1947 کی پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کے کچھ الفاظ اور جملوں کو بنیاد بناتا ہے۔ یہ طبقہ تاریخی حقائق کو جھٹلانے یا اُنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ہے۔ قائداعظم ؒ کیا تھے؟ اسلام اور مسلمان ہونے کے بارے میں اُن کے نظریات و خیالات کیا تھے اور وہ کیسا پاکستان چاہتے تھے اور اس کے ساتھ برصغیر اور جنوبی ایشیا کے مسلمان اگر مطالبہ پاکستان کے حق میں اُٹھ کھڑے ہوئے تھے تو اُن کے نزدیک پاکستان کا تصور کیا تھا ؟ یا وہ پاکستان کی صورت میں کس طرح کی ریاست دیکھنا چاہتے تھے؟ اس بارے میں تاریخی حقائق و شواہد اتنے واضح اور ظاہر ہیں کہ کسی طرح کے ابہام کی گنجائش نہیں۔ بلاشبہ قائد اعظم کے نزدیک پاکستان کی صورت میں ایک ایسی روشن خیال اسلامی فلاحی مملکت کا قیام تھا جہاں اسلام کی تعلیمات کے مطابق تمام مذاہب کے پیروکاروں کو برابری کے حقوق حاصل ہونا تھے۔ اسی طرح برصغیر کے مسلمان اگر مطالبہ پاکستان کے حق میں اُٹھ کھڑے ہوئے تھے اور وہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الااللہ کا نعرہ بلند کر رہے تھے تو گویا وہ سمجھ رہے تھے کہ متحدہ ہندوستان میں ایسی آزاد ریاست قائم ہونی ہے جہاں اُن کے پیارے نبیﷺ کے کلمے کا جھنڈا سر بلند ہو گا۔
قیامِ پاکستان کے مقاصد کے حوالے سے یہ توضح و تشریح ایسی نہیں جس کو رد کیا جا سکے۔ قائداعظم کی کتنی تقاریر اور قیامِ پاکستان کے لیے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے فقید المثال جدوجہد کا ایک ایک لمحہ، ایک ایک گوشہ اور ایک ایک پہلو اس کے حق میں گواہی دیتے ہیں پھر بھی مزید تسلی و تشفی کے لیے ممتاز محقق، مورخ، دانشور اور پاکستانیت کے حوالے سے مستند اور معتبر شناخت رکھنے والی شخصیت، ڈاکٹر صفدر محمود (مرحوم) کے قومی معاصر (روزنامہ دُنیا) میں ”مطالبہ پاکستان اور قائد اعظم کی بصیرت“ کے عنوان سے چھپنے والے ایک چشم کشا مضمون کے کچھ اقتباسات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ قائدِ اعظم کو اسلام سے کتنا لگاو¿ تھا اور وہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کے حصول کی جد و جہد کو کیسا دیکھ رہے تھے اور وہ پاکستان کی صورت میں کس طرح کی ریاست کا قیام چاہتے تھے۔
ڈاکٹر صفدر محمود اپنے مضمون میں لکھتے ہیں، ”فروری 1947 میں برطانوی وزیرِ اعظم کلیمنٹ ایٹلی نے اعلان کیا تھا کہ برطانوی حکومت جون 1948 کو برطانوی ہندوستان کو مکمل خودمختاری دے گی لیکن قدرت کا فیصلہ تھا کہ پاکستان 14 اور 15 اگست (1947) کی نصف شب معرض وجود میں آئے۔ ایک اہم ترین سوال یہ بھی ہے کہ وہ تصور پاکستان کیا تھا جس کے لیے عوام نے ووٹ دئیے، قربانیاں دیں، صعوبتیں برداشت کیں اور جسے قائد اعظم نے مسلمانوں کے سامنے پیش کیا؟ وہ کیا خواب تھا جس کی تعبیر کے لیے عالمی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوئی اور مسلمان گھر بار لٹا کر، بزرگوں کی قبروں کو چھوڑ کر اور ان گنت جانوں کی قربانیاں دے کر دیوانہ وار پاکستان چلے آئے۔ اس تصور کو سمجھنے کے لیے ہمیں قائد اعظم کی شخصیت اور اُن کی تقاریر، اُن کے پیغامات اور وعدوں پر نظر ڈالنا ہو گی۔ قائد اعظم کی شخصیت اور اُن کے مزاج کو ذہن میں رکھ کر اُن کی تقاریر پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے محبت، اسلام کی بقا اور عظمت، اپنے ضمیر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی جیسے احساسات و تصورات اُن کے ذہن پر نقش تھے اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی تقریریں ان الفاظ اور ترکیبات کے ذکر سے بھری پڑی ہیں۔“
ڈاکٹر صفدر محمود کے خیال میں قائد اعظم کی شخصیت کے مسلمانوں سے محبت اور اسلام کی بقا اور عظمت سے لگاو¿ کے پہلو کی طرف بد قسمتی سے بہت کم توجہ دی گئی ہے چنانچہ اس کو واضح کرنے کے لیے وہ قائد اعظم ؒ کی آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ 1939میں کی گئی تقریر کے چند فقرے نمونے کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اس طرح ہیں، ”مسلمانو! میں نے دُنیا کو بہت قریب سے دیکھا ہے، دولت، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لُطف اُٹھائے اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بُلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین و اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت یا غداری نہیں کی۔ میں آپ کی داد اور شہادت کا طلبگار نہیں ہوں میں چاہتا ہوں کہ مرتے وقت میرا دل اور میرا ضمیر یہ گواہی دے رہا ہو کہ جناح تم نے اسلام کا حق ادا کر دیا، جناح تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں علم اسلام کو بُلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔“
ڈاکٹر صفدر محمود اپنے مضمون میں اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قائد اعظم ؒ اقلیتوں کی حیثیت، مقام اور مرتبے کے لحاظ سے بہت حساس تھے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں کہ مسلمان اقلیت سے مسلمان قوم کے سفر میں 1940 کی قراردادِ لاہور یا قرار داد پاکستان ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے بعد قائد اعظم کا مو¿قف یہ رہا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ہر تعریف، معیار اور تصور سے ایک قوم ہیں۔ ظاہر ہے اس قومیت کی اہم ترین بنیاد مذہب تھی، اسی طرح جب قیام پاکستان کا مرحلہ قریب آیا تو قائدِ اعظم کے لیے سب سے اہم مسئلہ اقلیتیوں کا تھا کیونکہ پاکستان میں کئی مذہبی اقلیتیں آباد تھیں اور ہندوستان میں بھی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں ہی کی تھی، جس کے تحفظ کے لیے قائد اعظم پریشان رہتے تھے۔ قیامِ پاکستان سے چند ماہ قبل اور چند ماہ بعد تک بار بار اقلیتیوں کے مستقبل کے بارے میں قائد اعظم سے بار بار سوال پوچھے جاتے رہے۔ جس کی وہ بار بار وضاحت کرتے رہے۔ اس ضمن میں قائد اعظم ؒ کے ذہن اور فکر کو سمجھنے کے لیے اُس پریس کانفرنس کا حوالہ دینا ضروری ہے جو اُنہوں نے پاکستان کا گورنر جنرل نامزد ہونے کے بعد 14جولائی 1947ءکو نئی دہلی میں کی۔ اس پریس کانفرنس میں قائد اعظم نے کیا کچھ کہا اس کا تذکرہ اور 11اگست 1947ءکو قائد اعظم کی پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں تقریر جس میں اُنہوں نے اقلیتوں کے حقوق کی بات بھی کی تھی کا تذکرہ ان شااللہ آئندہ کالم میں ہو گا۔
(جاری ہے)