میں بارہا کہتا ہوں اور غلط نہیں کہتا 1973 میں اتنا لمبا چوڑا آئین لکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟ سیدھا سیدھا لکھ دیتے جس کی لاٹھی اْس کی بھینس ،1973 کے بعد سے لے کر ہمارا مرحوم و مغفور آئین اسی حقیقت تلے دبا رہا ، آئین اب ایک دوسری حالت میں زندہ ہے ، یہ حالت بھی جس کی لاٹھی اْس کی بھینس والی ہے ، یہ حالت ہمیشہ برقرار رہے گی، ایک دو سیاسی جماعتوں یا چند سیاست دانوں نے ستائیسویں ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیا ، مخالفت میں بھی نہیں دیا ، یعنی ایک کْھسرانہ کردار ادا کرنے والے سیاست دان اور سیاسی جماعتیں بھی یہی چاہتی ہیں جس کی لاٹھی اْس کی بھینس والا آئین ہی برقرار رہے ، اْنہیں اعتراض صرف اس بات پر ہے آج کل لاٹھی اْن کے پاس کیوں نہیں ہے ؟ کل کلاں لاٹھی دوبارہ اْن کے پاس آگئی آئین کی چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کو بدلنے کا وہ تصور بھی نہیں کریں گی، آئینی ترمیمیں ملک کے حق میں ہوں یا نہ ہوں تمام سیاسی جماعتوں کے حق میں ضرور ہیں ، البتہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیموں کے بعد اب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ مستقل طور پر دفن ہوگیا ہے ، کسی نے اپنے عارضی مقاصد کے لیے یہ نعرہ دوبارہ لگایا اْسے بڑے چھتر پڑیں گے ، اب صرف ایک ہی نعرہ چلے گا بلکہ دوڑے گا اور وہ بوٹ کو عزت دو کا نعرہ ہے ، اس ملک میں کون ہے جو بوٹ کو چاٹ کر عزت نہیں دینا چاہتا ؟ کچھ یہ اعزاز سرعام حاصل کر لیتے ہیں کچھ پس دیوار کرتے ہیں ، اور کچھ نصف شب کو گاڑی کی ڈگی میں بیٹھ کے کر آتے ہیں ، ہمارے تمام سیاہ ست دان اس زمینی حقائق کو جان بلکہ مان چکے ہیں بوٹ کو عزت دئیے بغیر اپنی نام نہاد عارضی عزتوں کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے ، نہ ہی اس کے بغیر ناجائز مال و زر و اندروں و بیرون مْلک وہ جائیدادیں بنا سکتے ہیں ، اس حقیقت کو حتی کہ وہ پیپلز پارٹی بھی مستقل طور پر اب تسلیم کر چکی ہے جس نے اس حقیقت کو مکمل طور پر تسلیم نہ کرنے کی صورت میں اپنے دو بڑے لیڈر گنواہ دئیے ، اس حقیقت کو حتی کہ میاں محمد نواز شریف بھی تسلیم کر چکے ہیں اس حقیقت کو مکمل طور پر تسلیم نہ کرنے کی صورت میں جنہوں نے بہت برس اقتدار کے بغیر گزار دئیے ، حتی کہ ایک بار اْنہیں اپنی جماعت کے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنانا پڑگیا جو میرے خیال میں اْن کی زندگی کا سب سے اذیت ناک فیصلہ تھا کیونکہ اْنہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ اْن کی زندگی میں اْن کے علاوہ کوئی وزیراعظم بن جائے ، اپنے چھوٹے بھائی کو اللہ جانے کس جگرے سے وہ برداشت کر رہے ہیں ؟ ایک نقصان اْنہیں یہ بھی ہوا وہ دنیا کے سب سے بڑے دولت مند بننے سے محروم رہ گئے، اب یہ اعزاز اْن کے بھائی حاصل کر سکتے ہیں اور میرے خیال میں اس کے لیے وہ کوشاں بھی ہوں گے ، یہ ہو ہی نہیں سکتا اتنی بڑی ستائسویں آئینی ترمیم کا تحفہ دے کر اْس کے بدلے میں کچھ ایسے مالی فوائد نہ حاصل کیے جائیں جو اْن کی خصوصی شناخت ہیں ، ذوالفقار علی بھٹو اس ملک کی اصل قوتوں کے ساتھ اپنے معاملات کو بند گلی میں نہ لے آتے کوئی نہ کوئی گنجائش اْن کے لیے بھی نکل سکتی تھی اسی طرح کوئی نہ کوئی گنجائش بے نظیر بھٹو کے لیے بھی نکل سکتی تھی ، مگر یہ لوگ آخری دم تک اسی یقین میں مبتلا رہے عوام کی طاقت اْن کے ساتھ ہے ، اسی یقین میں ابھی تک ہمارے محترم خان صاحب بھی مبتلا ہیں ،دعا ہے اْن کے ساتھ وہ سلوک نہ ہو جو بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہوا، اور نواز شریف کے ساتھ اس لئے نہیں ہوا کہ ایک بھائی ووٹ کو عزت دو کی بات کرتا تو دوسرا فوری طور پر بوٹ کو عزت دے کر معاملہ بیلنس کر دیتا تھا، عوام کی طاقت کی کوئی اہمیت ہوتی ہمارے اصلی و نقلی حکمران ملک اور عوام کے مفاد کے برعکس کوئی ترمیم لانے کا تصور بھی نہ کرتے ، چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم کے منظور ہونے کے بعد زیادہ نقصان عدلیہ کو پہنچے گا، عدلیہ کے دو چار جج سمجھتے ہیں یہ نقصان پارلیمنٹ نے اْنہیں پہنچایا ہے ، دوسری طرف پارلیمنٹ بھی یہ سمجھتی ہے عدلیہ نے بھی ماضی میں بہت نقصانات اْسے پہنچائے، پارلیمنٹ کے حقوق سلب کئے گئے ، اپنی مرضی اور مفاد کے فیصلے دئیے گئے ، اصل سمجھنے والی بات یہ ہے عدلیہ کے پیچھے اْس وقت وہی قوتیں تھیں جو آج پارلیمنٹ کے پیچھے ہیں ، ماضی قریب میں چند ججوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہوا تو فوری طور پر یہ فیصلہ کر لیا گیا عدلیہ کو مضبوط کرنے کی بجائے اْس پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے جو اْن کے اشاروں پر بلکہ اشاروں سے پہلے ہی ناچنا شروع کر دیتی ہے ، اور عدلیہ کو مکمل طور پر پارلیمینٹ کے تھلے لگا دیا جائے تاکہ مرضی کے فیصلے حاصل کرنے میں ذرا دشواری محسوس نہ ہو ، جب تک عدلیہ کا اجتماعی ضمیر نہ جاگا دو چار ججوں کے استعفوں سے نئی ترمیموں کو یا اْن کے خالقوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ، عدلیہ کو کمزور کرنے کی ترمیمیں آتی رہیں گی ، اور عدلیہ کا اجتماعی ضمیر جاگنے کی کم از کم مجھے کوئی توقع اس لئے نہیں ہے اگر کسی اور ادارے یا عوام کا اجتماعی ضمیر نہیں جاگ رہا عدلیہ کو خوامخواہ اپنا ضمیر جھنجھوڑنے یا جگانے کیا ضرورت پڑی ہے ؟ ہماری عدلیہ اب ’’پارلیمانی عدلیہ‘‘ ہوگئی ہے چنانچہ کل کلاں ججوں کی تقرری اور تبادلوں میں ارکان سینٹ یا ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کا کوئی کوٹہ مقرر کرنے کی ترمیم آگئی اس سے بھی عدلیہ کے اجتماعی ضمیر پر شاید کوئی زد نہیں پڑے گی ، البتہ اس ملک کے ’’حاضر سروس سیاہ ست دانوں‘‘ پر مجھے بڑی حیرت ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں اْنہوں نے اپنے بڑے فائدوں کی کوئی شق شامل کیوں نہیں کروائی ؟ لگتے ہاتھ اگر موجودہ پارلیمنٹ کو بھی وہ تاحیات قرار دلوا دیتے بلکہ وزیراعظم اپنے عہدے کو بھی تاحیات قرار دلوا دیتے تو روز روز کا ’’رنڈی رونا‘‘ہی مْک جاتا ، اب بھی وقت ہے ہو سکے تو یہ کام اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے کر لیا جائے، اول تو اس ضمن میں کسی جانب سے کوئی مزاحمت ہونی نہیں ، فرض کر لیں کسی جانب سے کوئی مزاحمت ہوئی بھی اْسے یہ یقین دہانی کروا کے راضی کیا جا سکتا ہے کہ اگر وہ پارلیمنٹ اور وزیراعظم کی مدت تاحیات کرنے کی اجازت عنایت فرما دیں اس کے صلے میں اْن کی تاحیات مدت کو مزید بڑھا کر تا قیامت کر دیا جائے گا۔