بارہا یہ سوال ہوا کہ پاکستان میں سویلین بالادستی کب قائم ہو گی تو ہر بار ہمارا جواب یہی تھا کہ جب تک سیاست دان اسٹبلشمنٹ کا ٹول بنتے رہیں گے اس وقت تک سویلین بالا دستی ممکن نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ نے 26ویں آئینی ترمیم منظور کی اس میں کسی فارورڈ بلاک کے کسی رکن نے کوئی ووٹ نہیں ڈالابلکہ پہلی مرتبہ اس ترمیم کو ایوان میں پیش کرنے کے بعد ایک ماہ سے زائد عرصہ تک رات دن مسلسل مولانا فضل الرحمن کے در دولت پر حاضریاں دینے کے بعد اس ترمیم میں ان کی مرضی کی تبدیلیوں کے بعد کہیں جا کر 26ویں ترمیم کو دوبارہ پیش کیا گیا اور مولانا کی جماعت کے ووٹوں کے بعد یہ ترمیم منظور ہوئی ۔ اب وہ لوگ کہ جن کے تمام تر سیاسی خواب اس ترمیم کے بعد چکنا چور ہو گئے تھے انھوں نے اس ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے اور اس پر سماعت بھی ہو رہی ہے ۔ سپریم کورٹ اس پر کیا فیصلہ دیتی ہے یہ تو وقت بتائے گا اور نہ ہی ہمیں اس کیس پر بحث کرنی ہے بلکہ ہم تو اس مائنڈ سیٹ پر کچھ گذارشات پیش کرنے کی کوشش کریں گے کہ جس کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ آئین کو موم کی ناک بنا کر جس طرح اور جس طرف چاہیں موڑ دیں ۔ یہ مائنڈ سیٹ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے جو عذر تراشتاہے وہ بظاہر بڑے ٹھوس اور مدلل نظر آتے ہیں لیکن بظاہر ٹھوس اور مدلل نظر آنے والے دلائل پر اگر غور کیا جائے تو ان کا کھوکھلا پن صاف نظر آنا شروع ہو جاتا ہے ۔ 26ویں ترمیم کی کس وجہ سے مخالفت کی جا رہی ہے اس پر بات کرنے سے پہلے اس نرمیم کے ناقدین کی جانب سے جو وجوہات بیان کی جا رہی ہے ان میں دو بظاہر بڑی وزنی نظر آتی ہیں ۔ ایک کہ یہ تو فارم47والی پارلیمنٹ تو اس کی منظور کردہ کسی
ترمیم کو آئین کا حصہ کیوں بنایا جائے ۔ اس سے قطع نظر کہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے لیکن کسی عدالت میںکسی ایک حلقہ کے نتائج کو بھی غلط ثابت نہیں کیا جا سکا کہ وہ فارم 47کے ہیں لیکن بحث سے بچنے کے لئے ہم اس دلیل کو من و عن مان لیتے ہیں لیکن پھر اس کا کیا کریں کہ 18ویں ترمیم تو اس پارلیمنٹ نے منظور کی تھی کہ جس کی شفافیت پر مکمل اتفاق رائے ہے تو اس وقت بھی عدلیہ کی آزادی کا جواز تراش کر19ویں ترمیم کے لئے سپریم کورٹ سے کیوں حکم جاری کرایاگیا تو یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے کہ جس کی قیام پاکستان کے بعد ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ کی بجائے کسی اور کو ہونا چاہئے ۔
جنرل ضیاء نے مارشل لاء لگایا تو اس کے خلاف محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ۔ جس دن اس کیس کا فیصلہ سنایا جانا تھا تو اس سے ایک دن پہلے رات کسی ہائی فائی تقریب میں اس وقت کے چیف جسٹس انوار الحق بھی موجود تھے ۔ یہ وہی چیف جسٹس انوارالحق تھے کہ جن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے بھٹو صاحب کو پھانسی کے آرڈر دیئے تھے ۔ تقریب میں موجود شریف الدین پیر زادہ نے پوچھا کہ آپ کیا فیصلہ دے رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہم جنرل ضیاء کے مارشل لاء کو جائز قرار دے رہے ہیں تو اس پر شریف الدین پیر زادہ نے استفسار کیا کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو آئین میں ترمیم کا حق نہیں دے رہے تو دروغ بر گردنِ راوی کہتے ہیں کہ چیف جسٹس انوار الحق اسی وقت اس تقریب کو چھوڑ کر سپریم کورٹ پہنچے اور ٹائپ شدہ فیصلے کو جو اگلے دن صبح کو سنایا جانا تھا اس کے آخر میں ہاتھ سے لکھ کر چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء کو آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا ۔ یہ سلسلہ یہاں پر نہیں رکا بلکہ12اکتوبر1999 کو جب جنرل مشرف نے مسلم لیگ نواز کی حکومت ختم کی اور میاں نواز شریف کو گرفتار کر لیا گیا تو اس وقت بھی جنرل مشرف کو سپریم کورٹ نے آئین میں ترامیم کی اجازت دے دی تھی ۔ ان ادوار آمریت میں ذاتی اقتدار کو طول دینے کے لئے جو من مانی ترامیم کی گئیں اس گند کو صاف کرنے کے لئے 100سے زائد ترامیم کو 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین میں آمرانہ ادوار کی تجاویزات کو ختم کیا گیا لیکن پھر وہی عدلیہ کہ جس نے ماضی میں ایک فرد کو آئین میں تبدیلی کے غیر مشروط اختیار دیئے تھے اسی عدالت نے عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ کو کہ جسے آئین ہر طرح کی ترامیم کی اجازت دیتا ہے اس کی کی گئی 18ویں ترمیم میں19ویں ترمیم کے ذریعے تبدیل کرنے کا حکم صادر کر دیا ۔
خدائے بزرگ برتر کا شکر ہے کہ اب 26ویں ترمیم کے بعد جو عدلیہ ہے وہ آئین کو موم کی ناک نہیں سمجھتی کہ اسے جس طرح چاہے اپنے مفاد کی خاطر موڑ دے بلکہ اس سے بھی دو قدم آگے جا کر وہ ان عوام دشمن اور آئین مخالف عناصر کے سامنے بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے اور یہی بات ان کو جنھوں نے ہمیشہ عدلیہ سے اپنے مطلب کے فیصلے لئے ہیں انھیں ہضم نہیں ہو رہی اور وہ چاہتے ہیں کہ دوبارہ بندیال کورٹ جیسی وی وی آئی پی اعلیٰ سہولتوں والی عدلیہ انھیں مل جائے لیکن ان کا یہ خواب شاید اب پورا نہ ہوا ۔ اس لئے کہ اب آئین کو اپنے مفاد کی نظر سے نہیں بلکہ آئین کی جو اصل روح ہے اس کی نظر سے پڑھا اور سمجھا جاتا ہے اور پھر اسی کے مطابق تشریح کی جاتی ہے ۔