انسان کی سب سے نازک اور پیچیدہ سلطنت اس کا باطن ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خیالات کی عمارت بنتی ہے، نیتوں کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اخلاقی رویوں کا جنم ہوتا ہے لیکن جب یہی باطن جو دل کا آئینہ ہے زنگ آلود ہو جائے تو عکس بگڑ جاتے ہیں، زاویے بدل جاتے ہیں اور انسان اپنے سائے ہی کو اصل سمجھ بیٹھتا ہے۔ اس باطنی آئینے پر سب سے پہلا زنگ حسد کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، دوسرا تکبر کے غرور سے پیدا ہوتا ہے اور تیسرا دھندلا پن خودنمائی کی چمکدار مگر کھوکھلی دھول سے جڑ جاتا ہے۔ یہ نا صرف فرد کی شخصیت کو کھوکھلا کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو اخلاقی، روحانی اور فکری افلاس میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ حسد انسان کی شخصیت کو اندر سے دیمک کی مانند چاٹ جاتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے ان کے زوال کی خواہش کرتا ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو دل ہی دل میں سوال اٹھاتی ہے کہ اسے کیوں ملا؟ مجھے کیوں نہیں؟۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’کیا یہ لوگ دوسروں سے اس فضل پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں عطا کیا‘۔ دنیا میں موجود ہر انسان ہی کچھ خوبیوں اور کچھ خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے اپنے کردار اور مزاج میں موجود خامیوں کو سمجھتے ہوئے ان تمام خامیوںکی اصلاح کی کوشش کرنا مثبت تعمیری سرگرمی ہے، لیکن اگر اپنی خامیوں کی اصلاح کے بجائے دوسروں کی صلاحیتوں اور خوبیوں پر انسان جلنا اور کڑھنا شروع کر دے تو یہ احساس حسد کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ آج جن مسائل کا شکار ہے ان تمام مسائل اور بُرائیوں کی سب سے بڑی وجہ دوسروں سے حسد ہے۔ آج کا انسان مادی کامیابی کو اتنی شدت سے دیکھتا ہے کہ وہ یہ بھول چکا ہے کامیابی وہ نہیں جو دوسروں کی آنکھوں کو خیرہ کرے بلکہ وہ ہے جو اپنے ضمیر کو مطمئن کرے۔ یہ ایک ایسا زہر ہے جو انسان کے دل و دماغ کو اس قدر اندھا کر دیتا ہے کہ پھر وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ حسد ایک ایسی روحانی بیماری ہے جو آغازِ کا ئنات سے چلی آ رہی ہے اور ایمان کے ساتھ ساتھ بندے کے جسم کو بھی نا محسوس طریقے سے کھا جاتی ہے، لیکن انسان اس سے نا واقف ہی رہتا ہے اور اس میں مبتلا ہو کر جہاں کبھی کبھار دوسروں کا نقصان کرتا ہے وہاں اپنا نقصان لازمی کر بیٹھتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں حسد کی سب سے بڑی مثال ہمیں برادرانِ یوسف کی ملتی ہے۔ حضرت یوسف ؑ اپنی بہترین عادات، اعلیٰ کردار اور بے مثال معصوم حسن کی وجہ سے اپنے والد حضرت یعقوب ؑ کی آنکھ کا تارا تھے۔ بھائیوں کو اپنے والدکی یوسف ؑ سے بے پناہ محبت ناگوار گزرتی تھی اسی سبب انہوں نے یوسف ؑ کے قتل کا ارادہ کیا جو بعد میں بڑے بھائی کے مشورے پر بدل دیا اور انہوں نے یوسف ؑ کو کنویں میں پھینکنے پر اکتفا کیا، مگر اس سب کے باوجود نا تو وہ والد کی آنکھ کا تارا بن سکے، نا یوسف ؑ کے مقام کو پہنچ سکے اور نا انکا کچھ بگاڑ سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہی اسباب سے حضرت یوسف ؑ کو پیغمبری اور بادشاہی سے سرفراز کیا۔حسد ہی نے عزازیل کو ابلیس بنا دیا اور پھر اس پر بس نہیں کی، بلکہ آدم ؑ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رسوا کرنے کی خاطر انہیں دانہِ گندم کھانے پر اکسانے کا عمل بھی اسی حسد کا نتیجہ تھا۔ انسانوں سے اسی حسد کے باعث ابلیس قیامت تک کوشاں رہے گا کہ انسانوں کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا کر اس مقام سے گرا دے۔ حسد ہی و ہ پہلا گناہ ہے جس کے باعث آسمانوں پر اللہ تعالیٰ کی پہلی نافرمانی کی گئی۔ تو گویا حسد ان اولین گناہوں کی دستے میں سرفہرست تھا جن پر گناہوں کی عمارت کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ سلسلہ پھر تھما نہیں، اسی حسد کی وجہ سے قابیل نے ہابیل کے ساتھ خونی رشتے کا لحاظ نہیں کیا اور اپنے سگے بھائی کو ہی قتل کر ڈالا۔ اسلامی تعلیمات اور روایتی سماجی اقدار میں باہمی محبت،
احترام اور عفو درگزر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، مگر بد قسمتی سے آج کے ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں اکثر لوگ ان اصولوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں خاندانی اختلافات، رشتوں میں تلخی اور بعض اوقات قتل جیسے سنگین جرائم کی صورت میں نکلتا ہے۔ قرآنِ کریم میں یہودیوں کے حسد کو کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے اور اس حسد کے سبب ہی امامت بنی اسرائیل سے چھین کر بنی اسماعیل کی جانب منتقل کر دی گئی تھی۔ اس انعام سے محرومی پر یہودی غیض و غضب کا شکار ہو کر حسد میں مبتلا ہو گئے تھے۔ ایسا کردار اور اخلاق رکھنا درحقیقت ابلیس کے نقشِ قدم پر چلنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں، کیونکہ حاسد کا حسد کسی صورت بھی اللہ کے فیصلے کو بدل نہیں سکتا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’تم حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے‘۔ دنیا کی ہر آگ جو باہر بھڑکتی ہے وہ کبھی نا کبھی بجھ جایا کرتی ہے مگر انسان کے اندر سلگنے والی آگ اس کے دل کو جلاتی ہے، آنکھوں کی بینائی، سوچ کی گہرائی اور روح کی پاکیزگی کو بھی راکھ کر دیتی ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے جو انسان کے سینے میںکسی چور کی مانند چھپ کر بیٹھتا ہے۔ یہ نفسیاتی امراض میں سے ایسا غالب مرض ہے جو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے اور حاسد اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں جلتا رہتا ہے، اس کی راتوں کی نیند اُڑ جاتی ہے، دل کا سکون ختم ہو جاتا ہے، بے چینی، ڈپریشن، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ آج حسد کی آگ کو سب سے زیادہ ایندھن سوشل میڈیا مہیا کر رہا ہے۔ انسٹا گرام، فیسبک، ٹک ٹاک سب خوشیوں کامیابیوں سفر مہنگے تحائف حسین چہروں اور بظاہر کامیاب زندگیوں کی تصویر ی نمائش گاہیں بن چکی ہیں۔ یہاں دوسروں کو خوش دیکھ کر اپنے اندر سوال جنم لیتا ہے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہے؟ یا میں نے آخر کیا کمی چھوڑی ہے؟ یہی سوالات حسد کی پہلی سیڑھی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ دوسرے کتنے خوش ہیں مگر وہ یہ نہیں دکھاتا کہ ان کے دل میں کیا اندھیرے ہیں اور حاسد انسان ان کی زندگی کے اندھیروں کو جانے بغیر ان کی روشنی سے جلتا ہے۔