Wed, September 16, 2026

مدینہ کی گلیوں میں

مدینہ کی گلیوں میں

  ہادی عالم محمد مصطفی ﷺکی آواز سے مہکتی قدیم مسجد نبوی ، اظہار کو تاثیر دیتا منبر ،مہر نبوت پر سوار ہوتے حسن و حسین اور باپ کو عقیدت سے دیکھتی بتول نگاہیں چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی بخشش تقسیم کرتے وجود بن کر اطراف کو معطر کئے ہوئے تھے اور میں جدید برقی قمقموں اور حیران کر دینے والی الیکڑک چھتریوں سے زیادہ ایک ایسے رہبر و ہادی کے لمس کی حدت میں کھویا ہوا تھا جس نے کائنات کا سب سے بڑا انقلاب برپا کر دکھایا تھا۔ میں اسی زمانے میں ٹھہرا ہوا تھا جب مسجد نبوی کے مشرقی پہلو اور جنت البقیع کے درمیان محلہ بنی ہاشم تھا جہاں اہلبیت کے گھر تھے۔ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ کے دور میں بنی ہاشم کے آدھے محلے کو گرا کر وہاں دارالعثمان تعمیر کر دیا گیا تھا اور باقی آدھا احاطہ محلہ بنی ہاشم کے نام سے منسوب رہا۔ چند سال قبل نظریہ ضرورت کے تحت پھر وہ قدیم گھر گرا کر مسجد نبوی کو توسیع دے دی گئی۔ مسجد کے مشرقی دروازے کے سامنے جنت البقیع اب بھی موجود ہے جس میں باقی قبروں سے ایک ذرا بلند ٹیلے پر جنت کی شہزادی حضرت فاطمہ بنت محمد (س) ، جنت کے سردار سرکار امام حسن ابن علی (ع) ، جنگ کربلا سے بچ جانے والے اکلوتے مرد حضرت امام زین العابدین ابن حسین (ع) ، حضرت امام محمد باقر (ع) اورعلم فقہ و سائنس کی جدید درس و تدریس کرنے والے امام جعفر و صادق (ع) کی قبریں ہیں۔ یہی مشرقی دروازہ مدینہ کے بازار کی طرف کھلتا تھا اور اب بھی یہی راستہ ہوٹلوں اور شاپنگ پلازوں کی طرف جاتا ہے۔ صدیوں پہلے اسی راستے کے جنوب کی طرف دارالامارہ اور شمال کی طرف بازار عنق کی طرف سڑک تھی۔ یہی گزرگاہ محلہ بنی ہاشم اور جنت البقیع کے بیچ عوامی راستہ تھی۔ اس سڑک کا دوسرا دروازہ مسجد نبوی کے دروازے پر کھلتا تھا جسے اب بھی باب جبرائیل کہتے ہیں۔ محلہ بنی ہاشم میں بنی ابو طالب کے تیس گھر اور بنی عباس کے دس گھر آباد تھے۔ یہ وہ دن تھے جب مکہ سے ہجرت کر کے یثرب آنے والے پاکیزہ اجسام سے کئی زمانے قبل آسمان سے برستے سیاہ پتھر جو حجاز کے تین سو میلوں تک پھیل گئے تھے اور پھر انہی پتھروں اور مٹی کے گارے سے اس شہر کی فصیلیں تعمیر کر کے حفاظتی برج بنائے گئے تھے۔ عین اسی جگہ یہودی قبائل بنو قینقاع ، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے محل تھے اور مدینہ سمیت پورے عرب کی معیشت ان کے قبضہ میں تھی اور وہ تجارت کے ساتھ ساتھ قرض اور سود کا دھندہ بھی کرتے تھے۔ جب سرکار محمد مصطفی ﷺہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپؐ نے سود کو حرام اور قرض کو مکروہ قرار دیا تو یہودی قبائل کے کاروبار خطرے سے دوچار ہو گئے۔ 
سرکار محمد مصطفی ﷺ سے قبل آخری نبی کا اعزاز بھی بنی اسرائیل کے پاس تھا اور ان کی تمنا تھی کہ آخری نبی کا ظہور بھی اولاد یعقوب سے ہو ، مگر آل اسماعیل سے آخری نبی محمد مصطفی ﷺ کا ظہور بنی اسرائیل کی بڑی شکست کا سبب بنا۔ یہودی جانتے تھے کہ مدینہ کے مضافات کے لوگ صرف یہودی علما کو ہی علمائے حق تسلیم کرتے ہیں اس لئے یہودیوں نے مضافاتی بدؤوں کو محمد مصطفی ﷺ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی مگر سرکار دوعالم ﷺ کی شفقت ، کردار اور سچائی نے دشمنوں کو چپ کروا دیا۔ جب سرکار دو عالم ﷺنے یہودیوں کو مدینہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تو یہودی قبائل مدینہ سے نکل کر خیبر کے علاقے میں آباد ہو گئے۔ 
میرے ساتھ دانش علی ایڈووکیٹ اور معاذ شاہد بھی ان تھک تھے اس لئے ہم نے مدینہ کی جدت سے قدامت کو نکالنے کی کوشش کی۔ مدینہ کے ساتھ جتنے بھی پہاڑ تھے وہ بغیر کسی تبدیلی کے اپنی اصلی حالت میں موجود تھے۔مسجد نبوی کے کچھ فاصلے پر جناب خاتم الانبیا ﷺکے نقش پا کی پیروی میں احد پہاڑ تک جانے سے پہلے ہم نے وہاں جانے کی کوشش کی جہاں حضرت علی کا زرعی رقبہ تھا اور پھر سرکار مزمل و مدثر ﷺ کی رحلت کے ایک ماہ بعد علی ابن ابی طالب مدینہ کے قریب وادء عقیق اور شہر یثرب کے درمیان واقع اپنے زرعی ڈیرہ پر منتقل ہو گئے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام نے ایک ایکڑ رقبہ پر محیط اس احاطہ میں چند کمروں کا اضافہ کر کے اس زرعی ڈیرہ کو گھر میں تبدیل کر لیا تھا اور یہ گھر دارالاحزان کہلاتا تھا۔ دختر رسول ، شہزادی کونین حضرت فاطمہ بنت محمد (س)نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی گھر میں گزارے تھے اور جب امام حسین علیہ السلام اپنے خاندان کے ہمراہ مکہ اور پھر کربلا کے لئے روانہ ہوئے تھے تو اسی گھر سے رخت سفر باندھا تھا۔ اولاد علی کے دوسرے مکان مدینہ سے تین میل دور مشرق کی جانب کھجوروں کے باغات میں تعمیر کئے گئے تھے۔ دارالاحزان کے کھلے احاطہ میں ایک کنواں اور چھوٹا سا باغیچہ تھا اور آج بھی اس کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اس گھر کے قریب کھڑے ہوئے ہم آسانی سے وہی خوشبو ، مہک اور پاکیزگی محسوس کر رہے تھے۔
میری خواہش تھی کہ میں مدینہ سے ڈیڑھ سو میل دور مغرب کی جانب بحیرہ احمر کے کنارے آباد شہر ینبع بھی جاؤں کیونکہ یہی وہ شہر تھا جہاں اولاد علی آباد ہوئی تھی اور وہ جب زیارت قبر مصطفی ﷺ کے لئے مدینہ تشریف لاتے تو دارلاحزان میں ٹھہرتے یا پھر نخلستان سلمان فارسی میں قیام کرتے۔ مگر ینبع جانے کی اس خواہش کی تکمیل کے لئے جو وقت درکار تھا وہ ناکافی تھا اور ہم نے محدود دن گزار کر واپس جانا تھا۔ شام ہونے سے ذرا پہلے ہم نے پاکستانی ہوٹل تلاش کیا اور واپس روضہ رسول اللہﷺ کی طرف لوٹ آئے۔ جب ہم جنت البقیع کے سامنے والے دروازے سے اندر داخل ہو رہے تھے تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ موذن کی آواز میں ایک لافانی سچائی تھی‘‘ میں گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘۔

ٹیگز: