ٹرمپ چین کا تین روزہ دورہ مکمل کر کے خیر سے گھر لوٹے، لوگوں نے کہا دورہ ناکام دونوں ملکوں کے اختلافات برقرار کوئی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ امریکہ کے 9 قارون خزانوں کی کنجیاں چینی تاجروں کے حوالے کرنے کی حسرت دل میں چھپائے واپس چلے گئے۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی دورے کو نا کام قرار دے دیا۔ ٹرمپ نے ہوائی چھوڑی، دورے سے بہت کچھ حاصل ہوا۔ تفصیلات بعد میں بتاو¿ں گا۔ دورے کے آغاز میں ہی بدشگونی، امریکہ کے اتنے بڑے صدر کا استقبال کرنے چینی صدر نہیں آئے، نائب صدر نے خوش آمدید کہا۔ طیارے سے اترتے ہی ٹرمپ کا موڈ خراب۔ چینی صدر کیوں نہ آئے، ان کی مرضی وہ بھی کسی سے کم نہیں، جھنڈے لہراتی بچیوں کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سمائے، بچوں کی طرح تالیاں بجانے لگے۔ چینی صدر شی جن چنگ سے مذاکرات ہوئے، ٹرمپ عادت کے مطابق مسلسل بولتے رہے، میزبان صدر سنتے رہے، ہوں ہاں کے سوا کچھ نہ بولے۔ اچھی بات یا مفاد پرستانہ سیاست، امریکہ نے چین کو بھی سپر پاور تسلیم کر لیا۔ آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق، چین 90 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔ چین نے ایران کو ہتھیار نہ دینے پر آمادگی ظاہر کی جو ہتھیار دینے تھے دے چکا، ایران مطمئن امریکی صدر خوش، واپسی پر کہا میں جنگ بندی پر راضی نہیں تھا پاکستان کے عظیم لیڈروں کے کہنے پر جنگ بندی کی، ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے کہا ہم عزت دار قوم ہیں آبنائے ہرمز بھی کھول دیں گے۔ یورینیم ہمارا حق ہے، ثالثی اقدامات پر پاکستان کے شکر گذار ہیں لیکن جنگ بندی کے معاملہ میں ہمیں ٹرمپ پر اعتبار نہیں۔ چین نے بھی ضمانت دینے سے انکار کر دیا، جنگ بندی کے باوجود جنگ بند نہیں ہوئی۔ امریکی اتحادیوں کے لیے آبنائے ہرمز بدستور نوگو ایریا۔ امریکی پلان کی تکمیل تک سمندر میں جھڑپیں جاری رہیں گی۔ اس صورتحال میں تیل کا عالمی بحران، قیمتیں پھر 108 ڈالر فی بیرل ہو گئیں، مہنگائی کا طوفان ختم نہیں ہو گا۔ نبیل ظفر نامی ایک شخص کا ٹویٹ نظر سے گزرا کہتے ہیں۔ عجیب جنگ تھی، حملہ ایران پر ہوا، مار اسرائیل نے کھائی، ہار امریکہ کی ہوئی، بربادی امارات کی ریاستوں کا مقدر بنی، جیت چین کی ہوئی، عزت ایران کو ملی، ذلت بھارت کا نصیب بنی، پٹرول پاکستان میں مہنگا ہو گیا، خطے میں سب سے زیادہ مہنگا، ناقابل فہم معاملہ، ناقابل حل معمہ۔ نبیل ظفر اتنے ہی عقلمند ہیں تو 140 روپے لیوی کا معمہ حل کر کے وزیر اعظم کو بتائیں کہ عوام کتنے دکھی ہیں، وزیر اعظم دل پر پتھر رکھ کر ہفتہ وار اضافہ پر مجبور ہیں جبکہ عوام نے پیٹ پر پتھر باندھ لیے ہیں۔
کیٹ واک کرتی ملکہ کی غضب کہانی، کوکین فارمولا تیار کر کے سیاستدانوں، شوبز کے چمکتے دمکتے ستاروں، شرفاءکی اولادوں اور بیوروکریسی کے علاوہ تعلیمی اداروں میں موت بانٹنے والی 31 سالہ انمول عرف پنکی میڈیا پر چھائی ہوئی ہے، سکرین پر کیٹ واک کرتی ملکہ کو دیکھ کر اور ٹی وی چینلوں پر اس کی خبریں سن کر لوگ مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں سمیت جنگ کی ہولناکیوں کو بھول گئے۔ کراچی میں پیدا ہونے والی خاتون مبینہ طور پر جوانی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی کھل کھیلی، کال گرل سے آغاز، بڑی پارٹیوں میں شوقیہ شرکت، پیاس بجھانے کے لیے مشروبات کا استعمال، پیاس نہ بجھی تو اس میں منشیات کی ملاوٹ۔ امیروں، سیاستدانوں، اداکاروں سے رابطوں کے دوران مشروبات میں سکون آور ادویات کا فارمولا تیار کرنے میں کامیاب، برانڈڈ کوکین کی سپلائی کے لیے بڑے پیمانے پر ملک گیر نیٹ ورک کام کرنے لگا، صرف کراچی میں ایلیٹ کلاس کے 869 کلائنٹس ان میں 132 بڑے گھرانوں کے شہزادے شہزادیاں، 30 سیاستدان، ایک سابق وفاقی وزیر حالیہ ایم این اے کا 21 سالہ لخت جگر کوکین کے استعمال سے چل بسا، کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ لاہور کا دورہ، پولیس انسپکٹر سے شادی کر کے اسے کاروبار میں شریک کر لیا، شرفاءاور تعلیمی اداروں میں سپلائی کے لیے 3 ہینڈلرز اور 8 بائیکیاز ملازم رکھے، بغدادی میں ایک شہری کی لاش ملی جیب سے ملکہ کی تیار کردہ کوکین کی ڈبیا برآمد ہوئی، ایف آئی آر کٹی شوہر دبئی فرار ہو گیا تو ساری ذمہ داری ملکہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ شوہر کے دو بھائی وکیل تھے جو پولیس کے مطابق مال اپنے دفتروں میں چھپا کر رکھتے تھے بائیکیا پکڑا گیا تو پولیس انسپکٹر کو ایک کروڑ رشوت دے کر چھڑا لیا، ملکہ گھر سے بزنس ٹور پر نکلتی تو پرس میں دو تین کروڑ رکھتی تاکہ بوقت ضرورت رشوت دے کر جان چھڑائی جا سکے۔ رپورٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیفنس میں دو تین شکایات ملنے پر صدر زرداری کی بہن فریال تالپور کے فون پر پولیس خواب سے جاگی، گارڈن کے ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر اسے ”مال“ سمیت گرفتار کیا اور پورے پروٹوکول کے ساتھ پہلے اعلیٰ پولیس افسر کے دفتر لائی ایک رات ملکہ نے اسی دفتر میں گزاری اور صبح کیٹ واک کرتی ملکہ کو عدالت میں پیش کر دیا۔ میڈیا کا دباو¿ بڑھا تو انکوائری کمیٹی نے اونے پونے رپورٹ تیار کی، نقاب پوش ملکہ (حسینہ کہتے ہوئے دل دکھتا ہے) عدالت پہنچتے ہی پھٹ پڑی، ڈرامہ جاری اس سے بڑی خبر آنے تک دلچسپی برقرار رہے گی، پردہ نشینوں کے نام ہرگز منظر عام پر نہیں آئیں گے ملکہ کی چیخ و پکار سے لگتا ہے کہ اسے سیاسی رنگ دے کر دیگر پنکیوں کی طرح فائلوں کی ڈسٹ بن میں پھینک دیا جائے گا۔ پتا نہیں سینیٹر فیصل واوڈا نے ملکہ کوکین کو ایوارڈ دینے کی بات کیوں کی ہے۔ موت بانٹنے کا یہ خطرناک کھیل کب تک جاری رہے گا؟ غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔
28 ویں ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں، کس نے چھیڑی ہیں کسی بندہ¿ خاص نے چھیڑی ہوں گی جب ہی تو پاور پولٹکس کا خوفناک معرکہ شروع ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں بظاہر خاموشی لیکن دو بڑوں میں میچ پڑ گیا، سیاست میں آئینی ہلچل کی بازگشت، گردش کرتی افواہیں، پس پردہ ملاقاتیں، یاروں کا اصرار 18 ویں ترمیم رول بیک کی جا رہی ہے، 2010ءمیں تعلیم صحت، معدنیات کان کنی سمیت متعدد شعبے صوبوں کو دے دئیے گئے تھے کہا گیا تھا کہ اس سے وفاق اور صوبوں کے حالات مضبوط ہوں گے لیکن 16 سال بعد اب پتا چلا کہ ملک میں 5 صوبوں کی بجائے 5 اسلام آباد بن گئے۔ صوبوں کو حاصل وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا، اندھا دھند ملازمتیں بے جا اخراجات معیشت کا بیڑا غرق، صوبے مقتدر ہو گئے، وفاق پر ادائیگیوں کا بوجھ بڑھ گیا۔ 28 ویں ترمیم میں کنکرنٹ لسٹ میں چند شعبے صوبوں سے وفاق میں شامل کرنے کی اطلاعات ہیں، اتحادی مانیں گے؟ نئے صوبوں کی تلوار بھی لٹک رہی ہے، بجٹ بھی سر پر ہے، دو تہائی اکثریت کے بغیر کیسے منظور ہو گا؟