لاہور : آج سے ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں لاکھوں طلبہ شریک ہو رہے ہیں۔ امتحانی مراکز کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی طبی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کا عملہ بھی موقع پر موجود ہے۔
ملک بھر میں 188 سرکاری اور نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کے لیے یہ امتحان منعقد کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں 46، سندھ میں 17، خیبر پختونخوا میں 11 اور آزاد کشمیر و بلوچستان میں ایک ایک نجی کالج ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 6، پنجاب میں 25 اور سندھ میں 12 نجی ڈینٹل کالجز کام کر رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تحت پنجاب کے 12 شہروں میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں 50,461 امیدوار شریک ہیں، جن میں سے 36,702 لڑکیاں اور 13,759 لڑکے ہیں۔ لاہور سمیت دیگر شہروں میں 27 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
امتحانی مراکز میں نقل روکنے کے لیے سخت حفاظتی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ امیدواروں کی جامہ تلاشی لی گئی اور انہیں واک تھرو گیٹ سے گزارا گیا۔ امتحانی پرچے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں مرکز تک پہنچائے گئے، اور 3,263 سکول ٹیچرز نگران کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ تمام عملہ سپیشل برانچ کی کلیئرنس کے بعد تعینات کیا گیا۔
لاہور میں 6 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں 11,906 امیدوار شریک ہیں۔ دیگر اہم شہروں جیسے ملتان، بہاولپور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں بھی بڑی تعداد میں امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔
امتحانی مراکز کے باہر والدین کے لیے خصوصی بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے، اور امتحان کے دوران شہری دفاع، ریسکیو 1122، نادرا اور فائر بریگیڈ کا عملہ بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
امیدواروں کو امتحان کے بعد سوالیہ پرچہ اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت ہوگی، جس سے وہ خود سکورنگ کر سکیں گے۔ اگر کسی کو کسی سوال پر اعتراض ہو تو وہ شام 6 بجے تک آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنا اعتراض دائر کر سکتے ہیں۔ تمام اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد جوابی کلید رات 10 بجے یو ایچ ایس کی ویب سائٹ پر جاری کر دی جائے گی۔ایم ڈی کیٹ کا آفیشل رزلٹ ایک ہفتے میں جاری کیا جائے گا۔