ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی اہداف پر 57ویں جوابی لہر کے شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں جنگ کی ہولناکیوں کے سائے مزید گہرے ہوگئے ہیں ۔ایران نے اس لہر کو جو خیبر شکن اورقدر میزائلوں کے تازہ حملوںکو ماں کی گو د میں شہید ہونے والے شیر خوار بچے مجتبیٰ کے نام سے منسوب کیا ہے۔تہران کی جانب سے تازہ لہر میں اسرائیل کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔
دوسری جانب امریکی صدر یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ امریکہ نے نیٹو پر اربوں ڈالرخرچ کیے لیکن وہ ہمارے دفاع کیلئے موجود نہیں اور نہ ہی نیٹو ممالک آبنائے ہرمز کھلوانے میں امریکہ کی مدد کو پہنچے ہیں۔آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملنے پر امریکی صدر دنیا سے ناراض نظر آتے ہیں ایسے میں انہوں نے کسی کو طعنہ دیا ہے تو کسی کو دھمکی دی۔
امریکی صدر نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نیٹوکےلیے موجود رہے، جب ہمیں ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں تھا، ہم نے نیٹوکے دفاع پر اربوں ڈالرخرچ کیے لیکن ہمارے دفاع کےلیے وہ موجود نہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ برطانوی وزیراعظم نے انہیں مایوس کیا ہے، جنگ جیتنے کے بعد اسٹارمر نے جنگی طیارے بھیجنے کا اعلان کیا لیکن برطانوی وزیراعظم کوبتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد آپ کے طیارہ بردار جہاز وں کی ضرورت نہیں۔ٹرمپ نے کہا امریکا نے ایرانی رجیم کا خاتمہ کر دیا ہے، آبنائے ہُرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دی ہیں، ایران کا بحری اور فضائی دفاع مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، جن ملکوں کا تیل آبنائے ہُرمُز سے جاتا ہے وہ اب آگے آئیں۔
دریں اثنا آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن سٹوریج کو م¶ثر انداز میں تباہ کیا۔ فضائی حملے کے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ڈرگ ہسپتال کو نشانہ بنانےکا بیان مضحکہ خیز ہے۔
دیکھا جائے تو موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں پاکستان ایک نہایت حساس جغرافیائی اور سیاسی مقام پر کھڑا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال، بھارت کے ساتھ جاری تنا¶ اور عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے اتحاد ایسے عوامل ہیں جنہوں نے پاکستانی قیادت کے کردار کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور افواج پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی شکل میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت جس خوش اسلوبی اور فراست سے ریاست کے دفاعی ، خارجی اور داخلی معاملات کو نبھا رہی ہے وہ یقینا قابل ستائش ہے ۔
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس وقت کئی محاذوں پر آزمائش سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف معاشی مشکلات ہیں، دوسری طرف دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بالخصوص افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں نے پاکستان کی سلامتی کے اداروں کو مزید چوکس کر دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستانی سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا ہے اور سرحدی نگرانی کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس صورتحال میں قیادت کی جانب سے واضح اور م¶ثر پالیسی سازی انتہائی ضروری ہے تاکہ نہ صرف داخلی امن کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا م¶قف مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی پاکستانی قیادت کو غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں۔ دنیا اس وقت مختلف بلاکس میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک طرف ہیں جبکہ چین اور روس کے ساتھ نئے جغرافیائی و سیاسی اتحاد ابھر رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرے اور کسی ایک بلاک کا مکمل حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے۔ اسی حکمت عملی کے تحت پاکستان نے چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دیا ہے جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
افغانستان کے حوالے سے پاکستانی قیادت کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔ افغانستان میں امن اور استحکام براہ راست پاکستان کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے پاکستان مسلسل یہ م¶قف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری رکھی ہیں اور سرحدی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے، تاہم طویل المدتی امن کے لیے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کو جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
دوسری جانب داخلی سیاسی استحکام بھی قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوری معاشروں کا حصہ ہوتے ہیں، مگر جب یہ اختلافات ریاستی مفادات پر اثر انداز ہونے لگیں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف حکومتی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا تاثر کمزور ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات پر ترجیح دینا قیادت کی ذمہ داری ہے۔
معاشی استحکام بھی موجودہ قیادت کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور مالیاتی دبا¶ جیسے مسائل عوام کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ اگر قیادت معاشی اصلاحات کو سنجیدگی سے نافذ کرے، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے اور شفاف طرز حکمرانی کو فروغ دے تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان عالمی معیشت میں بھی بہتر مقام حاصل کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات پاکستانی قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں۔ دانشمندانہ فیصلے، قومی اتحاد اور م¶ثر حکمت عملی ہی وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو موجودہ چیلنجز سے نکال سکتے ہیں۔ اگر قیادت دوراندیشی کا مظاہرہ کرے اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دے تو پاکستان موجودہ بحرانوں سے نکل سکتا ہے۔