Wed, September 16, 2026

جماعت اسلامی لاہور کی قیادت کا امتحان

 جماعت اسلامی لاہور کی قیادت کا امتحان

لاہور جیسے شہر کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے تاریخی ورثے یا ثقافتی رنگینیوں کو دیکھنا کافی نہیں۔۔۔۔اس شہر کی روح اس کی سیاسی ہلچل،فکری بالیدگی اور عوامی شعور میں چھپی ہوئی ہے۔۔۔یہاں یونیورسٹیوں کی بھرمار ہے،کالجوں میں زندگی دھڑکتی ہے اور ہر دوسرا نوجوان سیاسی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر وہ جماعت جو اپنے نظم،دیانت،شفافیت اور اصولوں کے لیے جانی جاتی ہے،وہ کیوں لاہور جیسے باشعور شہر میں انتخابی کامیابی حاصل نہیں کر پاتی؟جماعت اسلامی جیسی نظریاتی جماعت کو آخر وہ سیاسی پذیرائی کیوں نہیں ملتی جو اس کے کردار کے شایانِ شان ہے؟؟؟۔اگر ہم لاہور کے شہری مزاج کا تجزیہ کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں کے لوگ اب نظریات سے زیادہ نتائج پر توجہ دیتے ہیں۔۔۔انتخابی سیاست میں اب وہ جماعت کامیاب سمجھی جاتی ہے جو نہ صرف وعدے کرے بلکہ کام کر کے دکھائے۔۔۔جماعت اسلامی کے ساتھ المیہ یہ رہا کہ اس کی سچائی،قربانی اور نظریاتی مضبوطی اپنی جگہ مگر عوامی شعور سے جڑنے میں وہ مسلسل ناکام رہی۔۔۔لاہور کا ووٹر جس قدر جذباتی ہے،اتنا ہی حقیقت پسند بھی ہے۔۔۔وہ جانتا ہے کہ کون جلسے میں جذباتی تقریر کر سکتا ہے اور کون اس کے محلے کی گلی پکی کرا سکتا ہے۔۔۔لاہور کو کبھی شریف خاندان کے حوالے سے ’’تخت لاہور‘‘کی پھبتی کسی جاتی تھی لیکن 2011ء میں کپتان عمران خان  نے ’’تخت لاہور‘‘میں ہلکی سی دراڑ ڈال دی،2018ء میں یہ دراڑ مزید گہری ہوئی جبکہ یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ 2025ء میں کپتان کے کھلاڑیوں  نے’’شریف برادران ‘‘سے تخت لاہور چھین لیا تھا،گو کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اپنے والد گرامی کی سرپرستی میں’’تخت لاہور‘‘کی واپسی کے لئے دن رات کوشاں ہیں تاہم تمام تر پابندیوں اور مشکلات کے باوجود ’’کپتان کے ووٹرز‘‘ اپنی جگہ ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور مریم بی بی ’’اپنی جاگیر‘‘ ان ’’ممی ڈیڈی بچوں‘‘ سے تاحال واگزار کرانے میں کامیاب نہیں ہو پائیں ،یہی زمینی حقیقت ہے جسے ن لیگ کے دوست تسلیم کرنے کے لئے کسی صورت تیار نہیں۔۔۔دوسری طرف حال ہی میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے ایک ’’انوکھا تجربہ‘‘ کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کو ہٹا کر ان کی جگہ شکیل ترابی کوشعبہ اطلاعات کا ذمہ دار بنا دیا۔۔۔امیر جماعت کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہوا،صحافتی طبقے  نے جماعت کے اس ’’اندرونی فیصلے‘‘کو ’’سر بازار ‘‘کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جسے جماعتی حلقوںمیں ’’نا پسندیدگی‘‘ سے دیکھا گیا تاہم بعض اراکین صحافیوں کی رائے سے ’’اندر کھاتے ‘‘اتفاق کرتے بھی دکھائی دیئے۔۔۔بہرحال اس فیصلے کے چند روز گذرنے کے بعد جماعت اسلامی نے کئی دنوں کی مشاورت کے بعد سابق مرکزی سیکرٹری اطلاعات،میڈیا میں خاصا اثر و رسوخ رکھنے والے اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل نوجوان قیصر شریف کو جماعت اسلامی لاہور کا نائب قیم اور پبلک ایڈ کمیٹی کا کنوینر مقررکرنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔۔۔جماعت کے اس فیصلے پر بھی تنقید ہوئی تاہم جماعت کے بعض ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد اب جلدہی لاہور جماعت کے حالات بدلتے دکھائی دیں گے۔جماعت اسلامی کا یہ ایک نہایت اہم اور بظاہر خاموش مگر دیرپا اثر رکھنے والا فیصلہ ہے،یہ تقرری بظاہر عام تنظیمی رد و بدل لگتی ہے مگر درحقیقت یہ لاہور جماعت کی ممکنہ بحالی کی بنیاد ہے۔۔۔قیصر شریف ان رہنماوں میں سے ہیں جن پر جماعت اسلامی نے نہ صرف اعتماد کیا بلکہ لگاتار بارہ سال تک مرکز میں ان کی صلاحیتوں پر ’’سرمایہ کاری‘‘ کی۔۔۔۔ میڈیا کے جدید رجحانات،عوامی رابطے کی حکمت عملی اور جدید طرز سیاست کو سمجھنے کا جو ملکہ قیصر شریف کو حاصل ہے،وہ جماعت اسلامی کے دیگر روایتی رہنماؤں سے مختلف اور ممتاز بناتا ہے۔۔۔۔ان کی گفتگو میں ٹھہراؤ بھی ہے اور دھار بھی۔۔۔وہ صرف جماعت کا مؤقف بیان نہیں کرتے بلکہ سامعین کو قائل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔۔۔یہ تقرری اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ جماعت اسلامی کی اب تک کی سب سے بڑی خامی ہی عوامی سطح پر مؤثر رابطے کا فقدان رہا ہے۔۔۔۔مرکز میں بیٹھ کر بیانیہ بنانا ایک الگ عمل ہے اور گلی محلے کے لوگوں سے جڑنا،ان کے مسائل کو اپنی آواز بنانا اور انہیں اپنے ساتھ جوڑنا بالکل مختلف نوعیت کا چیلنج۔۔۔قیصر شریف کو اگر لاہور کی شہری سیاست میں مکمل فری ہینڈ دیا جائے،اگر انہیں پبلک ایڈ کمیٹی کو ’’مکمل وسائل‘‘کے ساتھ سیاسی خدمت کا پلیٹ فارم بنانے کی مکمل اجازت دی جائے اور اگر جماعت کی روایتی تنظیمی رکاوٹیں ان کے راستے میں نہ آئیں تو یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ لاہور جماعت اسلامی کی’’ سیاسی لیبارٹری‘‘ بن سکتی ہے۔۔۔۔کراچی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔۔۔۔وہاں جماعت اسلامی نے اپنی خدمت،موجودگی اور ترجیحات کے ذریعے وہ مقام حاصل کیا ہے جسے تسلیم کیے بغیر کوئی مبصر باقی نہیں رہ سکتا۔۔۔حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں کراچی کی جماعت نے بھرپور وسائل استعمال کرتے ہوئے جس طرح عوامی مسائل کو اجاگر کیا،بلدیاتی مسائل پر مؤقف اپنایا اور میڈیا پر بھرپور نمائندگی کی،وہ ایک ماڈل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔۔اگر قیصر شریف کو وہی’’ فضا‘‘ لاہور میں میسر آ جائے،اگر یہاں کی مقامی قیادت انہیں اعتماد اور وسائل سے نوازے تو آنے والے تین سال لاہور جماعت کے لیے وہی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں جو کراچی کے لیے گزشتہ پانچ سالوں میں حافظ نعیم کی وجہ سے ہوئی۔۔۔جماعت اسلامی کے مزاج میں چونکہ نظریاتی وابستگی غالب رہتی ہے،اس لیے اکثر عملی سیاست کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔۔۔۔تنظیم،نظم و ضبط اور تربیتی پروگرام اپنی جگہ مگر جب تک عوامی جذبات کو چھوا نہ جائے،جب تک عام ووٹر کو یہ نہ لگے کہ یہ جماعت اس کی آواز ہے اور جب تک میڈیا کے ذریعے جدید زبان میں اپنا مؤقف نہ پیش کیا جائے،تب تک انتخابی کامیابی ممکن نہیں۔۔۔قیصر شریف جیسے متحرک،باصلاحیت اور عوامی مزاج شناس رہنما کی لاہور جماعت میں موجودگی اس خلاء کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔۔وہ ایک بہترین مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی’’ پیچیدہ دنیا‘‘ کو بخوبی سمجھتے ہیں،وہ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کن زاویوں سے گفتگو کرنی ہے اور انہیں اندازہ ہے کہ نوجوانوں کو محض نصیحت سے نہیں بلکہ ترغیب سے جوڑا جا سکتا ہے۔۔۔اس وقت لاہور جماعت کو تین نکاتی ایجنڈے کی ضرورت ہے: ایک، شہری مسائل کو اپنی ترجیح بنانا،دوئم،عوامی خدمت کے ذریعے ووٹر کے دل میں جگہ بنانا اور تیسرا،جدید میڈیا کے ذریعے اپنا بیانیہ عام فہم انداز میں عوام تک پہنچانا۔۔۔خوش قسمتی سے قیصر شریف ان تینوں جہتوں پر کام کرنے کی نا صرف بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ مالا مال ہیں۔۔۔۔اگر انہیں جماعت کے اندر اعتماد کے ساتھ کام کرنے دیا جائے اور اگر تنظیمی مزاحمت یا طبقاتی حسد ان کے کام کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے تو لاہور جماعت آنے والے بلدیاتی اور قومی انتخابات میں ایک نئی طاقت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔۔۔۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لاہور جماعت اسلامی اس وقت ایک نازک مگر فیصلہ کن دوراہے پر کھڑی ہے۔۔۔اگر وہ قیصر شریف جیسے’’سرمایہ شدہ اثاثے‘‘ کو صحیح طرح استعمال کرے تو وہ لاہور میں ایک ایسا سیاسی نقش چھوڑ سکتی ہے جو اگلی دو دہائیوں تک جماعت کے حق میں جائے گا مگر اگر اسے محض ایک تنظیمی عہدہ دے کر’’محدود‘‘ کر دیا گیا تو یہ نہ صرف ایک فرد کی صلاحیتوں کا ضیاع ہو گا بلکہ جماعت کے مستقبل کے لیے ایک قیمتی موقع کا ضیاع بھی۔۔۔۔لاہور جماعت کو اب چاہیے کہ وہ تنظیمی تحفظات سے بالاتر ہو کر خدمت،رابطے اور قیادت کی نئی جہتوں کو اپنائے۔۔۔۔ قیصر شریف جیسے رہنما صرف نام کے نائب قیم نہ ہوں بلکہ ان کے ذمے حقیقی قیادت،زمینی روابط اور شہری خدمت کی ذمے داریاں دی جائیں۔۔۔ اگر ایسا ہو گیا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ لاہور جماعت اسلامی کا مستقبل کراچی جماعت اسلامی سے کسی طور کم نہ ہو گا بلکہ شاید کچھ معاملات میں آگے نکل جائے،کیونکہ لاہور کا شعور،تربیت اور جذبہ اگر صحیح قیادت سے جڑ جائے،تو تاریخ بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔۔۔۔

ٹیگز: