Wed, September 16, 2026

بجٹ 27-2026ءکا تنقیدی جائزہ

بجٹ 27-2026ءکا تنقیدی جائزہ

گزشتہ سالانہ میزانیوں کی طرح وفاقی حکومت کا موجودہ بجٹ 27-2026ءبھی آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کے تحت تیار کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد قرضوں پر س±ود کی ادائیگی کے لئے مختص 8 ہزار 54 ارب روپے کی خطیر رقم اکٹھا کرنا اور اِس مقصد نئے موجودہ ریونیو کلیکشن میں اضافے سمیت مزید ٹیکسز عائد کرنا ہے۔ عام آدمی، تنخواہ دار طبقہ اور مڈل کلاس پِس کر رہ گیا ہے۔ نئے بجٹ میں غربت کے خاتمہ، روزگار کی فراہمی کے لئے واضح روڈ میپ نہیں ہے۔ اِسی طرح س±ود جیسی لعنت کا خاتمہ حکومتی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے، جس کا حکم وفاقی شرعی عدالت نے اپریل 2022ءمیں اپنے تاریخ ساز فیصلے میں دیا اور بعد ازاں 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اِسے مزید تقویت دی گئی۔ زراعت و صنعت کی ترقی کے لئے حکومت گزشتہ اور ا±س سے پیوستہ کئی سالوں کے اہداف حاصل نہیں کرپائی تو موجودہ بجٹ میں طے کردہ اہداف کیسے حاصل کرے گی۔ کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں 20، 20 گھنٹے تک بجلی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ بجلی، گیس آتے نہیں البتہ بھاری بھرکم بل تواتر کیساتھ آرہے ہیں۔ بھاشا ڈیم، داسو ڈیم، مہمند ڈیم سے بڑے بجلی اور پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کی تکمیل خواب بن کر رہ گئی ہے۔ 
وزیرخزانہ کا یہ دعویٰ کہ ان کا تیار کردہ بجٹ ملک کے لئے خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گا، محض طفل تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ خود موجودہ وزیرخزانہ اورنگزیب صاحب نے پچھلے سال بھی بجٹ پیش کرتے ہوئے کم و بیش اِسی نوعیت کے بلند بانگ دعوے کئے تھے، موجودہ بجٹ میں اخراجات کی مد میں سب سے بڑی رقم س±ود کے لئے مختص کی گئی ہے جوکہ 8054 ارب روپے، یعنی ک±ل بجٹ کا تقریباً 43 فیصد ہے۔ اِس کے بعد دفاعی اخراجات اور دیگر مدات کی باری آتی ہے۔ س±ود کے لئے مختص یہ بھاری بھرکم رقم عوام کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جاسکتی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے س±ودی نظام نے پاکستان کی معیشت کو ایسے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے کہ ہر آنے والی حکومت خودانحصاری، خودداری پر مبنی زرعی، صنعتی پالیسی اور تجارت، برآمدات میں اضافے جیسے پائیدار معاشی ترقی کے ا±صولوں کی طرف جانے کی بجائے ل±وٹ مار پر مبنی شارٹ کٹ راستہ ہی اختیار کرتی ہے۔
ملک کا معاشی ڈھانچہ جوں کا توں ہے، خزانے کے محصولات کا بڑا انحصار اب بھی براہِ راست ٹیکسوں کی بجائے عام آدمی سے سیلزٹیکس، ویلیو ایڈڈ ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، پٹرولیم لیوی اور دیگر مدات کے تحت لئے جارہے بالواسطہ ٹیکسز پر ہے۔ حکومت آج بھی ماضی کی طرح Regressive Tax عائد کرنے کی گِھسی پِٹی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت امراءاور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں سے یکساں شرح سے بالواسطہ ٹیکس وصول کئے جارہے ہیں اور بڑے بڑے ٹیکس نادھندگان افراد اور اداروں کو ٹیکس میں رعایتیں دے کر ا±ن کے ناجائز مالی مفادات کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ تنخواہ دار طبقے سے 600 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، کیونکہ وہ حکومتی تلوار کے نیچے ہیں، تنخواہ دار طبقہ کو موجودہ بجٹ میں 50 ارب کا ریلیف دے کر حکومت نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے۔ رضاکارانہ طور پر قومی خزانے میں دیگر تمام طبقات کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے والے تنخواہ دار طبقے کو محض 8 فیصد ریلیف ناکافی اور مذاق کے مترادف ہے۔
موجودہ بجٹ میں ایف بی آر ٹیکسز کا ہدف 15،264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جوکہ گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ ہدف 12،983 ارب روپے کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہے۔ ایف بی آر کا مالی سال 26-2025ءکے 11 ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران عبوری ریونیو شارٹ فال 860 ارب روپے سے زائد رہا۔ اِس ریونیو شارٹ فال کا بوجھ موجودہ بجٹ کو ورثے میں مل رہا ہے، جس سے عوام پر ٹیکس ادائیگی کا دباو¿ مزید بڑھ جائے گا۔ مالی سال 26-2025ءکے آغاز میں ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں آئی ایم ایف کی مشاورت سے اسے کم کرکے 13 ہزار 989 ارب روپے کر دیا گیا، اس کے باوجود ریونیو اکٹھا کرنے میں مشکلات برقرار ہیں تو موجودہ بجٹ 27-2026ءکے لئے مقرر کردہ 15،264 ارب روپے کا ہدف کیسے حاصل ہوگا؟ خوش فہمیوں اور غلط اندازوں پر تیار کئے گئے اہداف کی بنیاد پر تیار کردہ موجودہ بجٹ بھی گزشتہ سال کے بجٹ کی طرح ”نامراد“ ہی ثابت ہوگا۔
حکومت کی کارکردگی یہ ہے کہ پہلے صوبے وفاق سے پیسے لیتے تھے، اب وفاق صوبوں سے اپنے بجٹ اخراجات پورے کرنے کے لئے پیسے لے رہا ہے۔ وفاق نے اب دفاعی بجٹ اور سکیورٹی معاملات کے نام پر صوبوں سے 1225 ارب روپے کا مطالبہ کیا ہے جس میں آئندہ سالوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ دفاعی اخراجات وفاق کی ذمہ داری ہے،وفاق اپنے غیرترقیاتی شاہانہ اخراجات میں کمی لائے، بیوروکریسی کے اللوں تللوں پر کٹ لگائے، قرضوں پر انحصار کی بجائے زراعت، صنعت، تجارت کی ترقی پر مبنی معاشی ماڈل اپنائے۔
موجودہ بجٹ میں حکومت نے مہنگائی کے حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں وہ بھی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ادارہ شماریات پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 11.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ جبکہ اپریل 2026 میں یہ شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ مئی 2026 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی عوام کے ماہانہ بجٹ، روزمرہ اشیاءکی قیمتوں اور مستقبل کے معاشی حالات کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔
مہنگائی، نئے ٹیکسز کا نفاذ، غریب، متوسط اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ اور قومی ترقیاتی فنڈ میں کمی جیسے عوامل کی وجہ سے بجٹ 27-2026ءایک عوام دشمن اور آئی ایم ایف دوست بجٹ ہے، 7 ہزار ارب روپے کا خسارہ پورا کرنے کے لئے حکومت حسبِ دستور مزید قرض اور عوام پر ٹیکس در ٹیکس لگاتی جائے گی۔ اِس وقت حکومتی قرض 83 ہزار ارب کے لگ بھگ ہے، صرف گزشتہ سال حکومت نے کمرشل بینکوں، عالمی مالیاتی اداروں سے 7 ہزار ارب روپے کا قرض لیا، اِمسال صورتِ حال اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہونے کا خدشہ ہے۔ تنخواہوں میں محض 7 فیصد اضافہ بالخصوص نچلے سکیل کے ملازمین کے لئے ناکافی ہے۔ اِسی طرح تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں متعارف کروائی گئی تبدیلیاں، جس کا ہم نے اوپر کی سطور میں ذکر کیا ہے، وہ بھی ناکافی ہے۔ رضاکارانہ طور پر حکومت کو پورا ٹیکس دینے والے ابتدائی سلیبز کے تنخواہ دار ملازمین کو ٹیکسز میں مزید ریلیف دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا کسی حد تک تو مقابلہ کرسکیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص بجٹ میں مسلسل کٹوتی سے طویل مدتی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع شدید متاثر ہونگے۔ اِسی طرح تعلیم، صحت اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے مختص فنڈز بھی مسلسل س±کڑ رہے ہیں۔ جامع معاشی پالیسیوں، محصولات میں اضافے اور حکومتی شاہانہ اخراجات، اشرافیہ کی ل±وٹ مار میں کمی لائے بغیر پائیدار ترقی کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔

ٹیگز: