Wed, September 16, 2026

عالمی بساط پر پاکستان کا نیا سحر ِ تدبر 

عالمی بساط پر پاکستان کا نیا سحر ِ تدبر 

تاریخ انسانی گواہ ہے کہ وقت کی بساط پر کچھ لمحات ایسے متبسم ہوتے ہیں جو محض بارود کے دھویں کو چھانٹنے کا مژدہ نہیں سناتے بلکہ جغرافیائی سیاست کے افق پر نئی حقیقتوں کے آفتاب طلوع کرتے ہیں۔ اس وقت عالمی سیاست کا سب سے نازک اور تپتا ہوا محاذامریکہ اور ایران کی آویزش،ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں جنگ کے نقارے مدہم اور مکالمے کی راگنی گونجتی سنائی دے رہی ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے مابین ممکنہ امن معاہدے کی یہ دھیمی آنچ دراصل اس پسِ پردہ سفارتی جادوگری کا نتیجہ ہے جس کا محور و مرکز اسلام آباد رہا ہے۔ پاکستان نے تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر ”امن کا سفیر “ بن کر عالمی برادری کو حیرت زدہ کر دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ وہ محض جغرافیائی طور پر اہم نہیں بلکہ تزویراتی طور پر ناگزیر ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ بین الاقوامی سیاست کا وہ آتش فشاں رہا ہے جس کا لاوا جب بھی ابلتا پوری دنیا کی معیشت، توانائی اور امن کے اعصاب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا۔ امریکہ کی عالمی بالادستی اور ایران کے انقلابی نظریات کے ٹکرا¶ نے خلیجِ فارس کو بارود کا ڈھیر بنا دیا تھا۔ دنیا کو ایک ایسے مصلح، ایک ایسے '' پل'' کی تلاش تھی جو بیک وقت واشنگٹن کے جدید ایوانوں میں بھی معتبر ٹھہرے اور تہران کے پاسدارانِ انقلاب کی فکری غیرت کا بھی محرمِ راز ہو۔یہ وہ خلا تھا جسے کسی بڑی مادی طاقت نے نہیں بلکہ پاکستان نے اپنے تزویراتی تدبر سے پُر کیا۔ پاکستان کی یہ ثالتانہ حیثیت کوئی حادثہ یا جغرافیائی مجبوری نہیں، بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کا وہ ارتقا ہے جس نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ طاقت کا سرچشمہ صرف ہتھیار نہیں بلکہ وہ قابلِ اعتماد ساکھ ہے جو دو حریفوں کو ایک میز پر لا کھڑا کرے۔
اس سفارتی معجزے کے پیچھے پاکستان کی قیادت کا وہ غیر معمولی ضبط اور فہمِ فراست ہے جس کی مثال ماضیِ قریب میں نہیں ملتی۔ جہاں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے سویلین سفارت کاری کے روایتی راستوں کو ہموار کیا،وہاں اس پورے منظر نامے کے اصل معمار اور ''خاموش سفارت کاری'' کا استعارہ بن کر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ابھرے۔بین الاقوامی سکیورٹی حلقوں اور عالمی جرائد کی رپورٹس اس سچائی کی گواہ ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے خفیہ و علانیہ دورے محض عسکری مشاورت کا حصہ نہیں تھے بلکہ وہ دلوں کے قفل کھولنے کی ایک مخلصانہ کوشش تھے۔ انہوں نے طاقت کی زبان کے بجائے اعتماد سازی کو اپنا ہتھیار بنایا۔ جب خطہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کے خوف سے کانپ رہا تھا تب پاکستانی قیادت نے تہران اور واشنگٹن کے بند کمروں میں امید کی وہ شمعیں روشن کیں جن کی لو اب دنیا کو نظر آنے لگی ہے۔ پاکستان کے عسکری اور سیاسی اداروں کا ایک پیج پر ہونا دنیا کے لیے یہ پیغام تھا کہ اب یہ ملک اپنی اندرونی الجھنوں سے نکل کر عالمی امن کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار کھڑا ہے۔
ایک طویل عرصہ ایسا گزرا جب عالمی میڈیا اور مغربی دارالحکومتوں میں پاکستان کا نام آتے ہی سیکیورٹی خدشات، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امداد پر انحصار جیسے موضوعات زیرِ بحث آتے تھے۔ پاکستان کو ایک ''مسئلہ'' سمجھا جاتا تھا۔ مگر وقت کا پہیہ گھوما ہے اور آج پاکستان ''مسائل کا حصہ'' نہیں بلکہ ''مسائل کا حل'' بن کر ابھرا ہے۔علاوہ ازیں موجودہ صورتحال کی حساسیت اس لیے بھی منفرد ہے کہ ماضی میں پاکستان نے جب بھی ثالثی کی وہ کسی عالمی طاقت کے دبا¶ یا ضرورت کے تحت تھی مگر اس بار پاکستان نے ایک خود مختار، متوازن اور جرا¿ت مندانہ پوزیشن لی۔ اس نے کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے مکالمے کے مرکز کا کردار چنا۔ آج بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں پاکستان کی اس بدلتی ہوئی تصویر کو حیرت اور ستائش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وہ سنگ میل ہے جو آنے والی کئی دہائیوں تک ہماری بین الاقوامی حیثیت کا تعین کرے گا۔امن کا قیام کسی کمزور کا کام نہیں بلکہ یہ ان ریاستوں کا شیوہ ہے جن کے پاس ارادے کی پختگی اور وژن کی وسعت ہوتی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ اس کے پاس یہ دونوں موجود ہیں۔اگر یہ امن معاہدہ، جس کی آبیاری میں پاکستان کا خونِ جگر شامل ہے، اپنے منطقی انجام کو پہنچتا ہے تو اس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کے ثمرات کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہوگاجس میں خلیجِ فارس سے تیل کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہوگی، جس سے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں ممالک کی معیشتیں سانس لے سکیں گی، سی پیک (CPEC) اور ایران پاک گیس پائپ لائن جیسے معطل منصوبوں کو نئی زندگی ملے گی جس سے وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ آپس میں جڑ جائیں گے۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی پراکسی جنگ کا خطرہ ٹل جائے گا جس سے معصوم جانوں کا زیاں رکے گا۔اس تمام منظر نامے میں پاکستان کا نام تاریخ کی کتابوں میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ ملک جسے چند سال پہلے تک تنہائی کا طعنہ دیا جاتا تھا، آج دنیا کی دو بڑی قوتوں کے درمیان مصالحت کا ضامن بن کر کھڑا ہے۔
بلاشبہ تاریخ کے دھارے کو بدلنا کسی ایک فرد یا ایک رات کا کام نہیں ہوتا۔ یہ ایک مسلسل ریاضت، وژن اور قربانی مانگتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ امن عمل جہاں ان دونوں ممالک کی بقا کے لیے ضروری ہے وہاں یہ پاکستان کی ذمہ دارانہ اور دور اندیش خارجہ پالیسی کا قصیدہ بھی ہے۔دنیا نے ہمیشہ جنگوں کے فاتحین کو یاد رکھا ہےلیکن اب وقت آگیا ہے کہ دنیا ” امن کے معماروں“ کو خراجِ تحسین پیش کرے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کی سیاسی قیادت نے تاریخ کے اس موڑ پر جو جرات دکھائی ہے جس نے پاکستان کو عالمی بساط پر ایک ناگزیر کھلاڑی بنا دیا ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ بارود کی اس دنیا میں وہ آج بھی امن کی سب سے معتبر اور طاقتور آواز ہے۔

ٹیگز: