بنگلہ دیش کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی دو تہائی اکثریت سے کامیابی کے بعد سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ بھارت کیلیے سفارتی اور سیاسی امتحان بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے حکومت سازی سے پہلے ہی بھارت کو سخت سفارتی پیغام دے کر بھارتی وزیراعظم مودی کی بنگلہ دیش سے تعلقات بہتر بنانے کی سرتوڑ کوششوں پر پانی پھیر کر رکھ دیا ہے۔ بی این پی رہنماؤں کی جانب سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی بارے سامنے آنے والا مطالبہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ بھارت پر ایک سوچا سمجھا سفارتی اور سیاسی وار ہے کیونکہ بی این پی کی قیادت بخوبی جانتی ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی بھارت میں موجودگی صرف بی این پی کیلئے ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے عوام خصوصاً طلبا , نوجوان نسل اورجماعت اسلامی کیلئے ایک جذباتی اور علامتی مسئلہ بن چکی ہے۔ بی این پی , جماعت اسلامی اور طلباء شیخ حسینہ واجد کے ظلم کا شکار رہے ہیں اس لیے یہ سب شیخ حسینہ سے حساب برابر کرنا چاہتے ہیں۔ شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش حوالگی پر شیخ حسینہ کے محدود حامیوں کے علاوہ سب متفق ہیں۔
ایسے میں بی این پی کا شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ دراصل داخلی عوامی دباؤ کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنانے کی حکمت عملی ہے۔ اس اعلان کے ذریعے بی این پی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ تو شیخ حسینہ کی پالیسیوں کو جاری رکھے گی اور نہ ہی بھارت کے ساتھ تعلقات کو روایتی مفاہمت کے سانچے میں ڈھالے گی۔ اس لیے بی این پی کا یہ مطالبہ بھارت کیلیے پہلا بڑا جھٹکا ہے۔ بھارت کیلئے یہ صورتحال اس لیے بھی پریشان کن ہے کہ برسوں تک بنگلہ دیش میں اسکا سب سے قابل اعتماد سیاسی چہرہ شیخ حسینہ واجد رہی ہیں۔ اب اگر بی این پی حکومت سنبھالتے ہی شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے معاملے کو عالمی سفارتی فورم تک لے جا رہی ہے تو بھارت پر اس حوالے سے سفارتی, سیاسی اور قانونی دباؤ بڑھے گا۔ بھارت خود کو خطے میں جمہوری اقدار کا علمبردار ظاہر کرتا ہے تاہم وہ ایک ایسی رہنما کو پناہ دیئے ہوئے ہے جسے بنگلہ دیش کی اکثریت
سنگین جرائم کی ذمہ دار سمجھتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ بنگلہ دیش کیا چاہتا ہے بلکہ یہ ہے کہ بھارت کس حد تک اپنے علاقائی مفادات اور عالمی امیج کے درمیان توازن قائم کر پاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ہی دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت کا تعین کرے گا۔ بی این پی کے سربراہ اور وزیر اعظم طارق رحمان شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں قید اور جلاوطنی کا سامنا کر چکے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کی وجہ سے وزیراعظم طارق رحمان کی والدہ اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا بھی سیاسی دباؤ اور مقدمات کی زد میں رہیں ۔ یہی پس منظر بی این پی کے مطالبے کو مزید سیاسی وزن دیتا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کو طلبہ کے قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے واپس لایا جائے۔
ماضی میں نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت بھی نریندر مودی سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی تھی تاہم بھارت نے اس پر کوئی مثبت پیشرفت نہیں دکھائی۔ بنگلہ دیش میں طلبہ احتجاجی تحریک بھی اس معاملے پر خاصی متعلق رہی۔ تاہم بھارت کی جانب سے ہمیشہ بنگلہ دیش کے اس مطالبے کو مسترد کیا جاتا رہا۔ بنگلہ دیش میں کوئی بھی نئی حکومت شیخ حسینہ واجد کو واپس لانے بارے عوامی دباؤ کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بی این پی نے اقتدار سنبھالتے ہی بھارت سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر کے اپنا موقف دو ٹوک انداز میں سامنے رکھ دیا ہے دوسری جانب نریندر مودی نے وزیراعظم طارق رحمان کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے جمہوری اور ترقی پسند بنگلہ دیش کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے تاہم ان کی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین خصوصا بنگلہ دیشیوں نے سخت رد عمل دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر بھارت واقعی جمہوریت کا حامی ہے تو وہ شیخ حسینہ واجد کو کیوں پناہ دیئے ہوئے ہے۔
یہ عوامی رد عمل اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات فوری طور پر معمول پر آتے دکھائی نہیں دیتے۔ بھارت نے بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات سے قبل بھی بنگلہ دیش سے پس پردہ سفارتی رابطہ کر کے دونوں ممالک میں تعلقات کو بہتری کی جانب لے جانے کی بھرپور کوشش کی تاہم بی این پی کی قیادت نے شیخ حسینہ واجد کے معاملے پر سخت موقف اختیار کر کے واضح کر دیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ واجد حکومت کی طرح بھارت کے دباؤ میں آنے والی نہیں۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں بھی اہم تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں۔ ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت نے چین اور پاکستان کی طرف جھکاؤ بڑھا دیا تھا اور اب بی این پی حکومت بھی اسی سمت پیشرفت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیراعظم طارق رحمان کو دورہ پاکستان کی دعوت دے دی گئی ہے ۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی جیسے اقدامات نئی علاقائی صف بندی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونے کے بعد بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔ حالیہ دنوں ویزا سہولیات, تجارتی روابط اور کرکٹ تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں بی این پی کی جانب سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے مطالبے نے واضح کر دیا ہے کہ طارق رحمن حکومت کی پالیسی ڈاکٹر محمد یونس کے عبوری دور سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی بلکہ شاید مزید سخت ہی ہو۔ بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج نے نہ صرف داخلی سیاست کا نقشہ بدلا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاسی, اقتصادی اور سفارتی بساط بھی از سر نو بچھا دی ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش بھارت کو سارک سے بے دخل کرکے معاشی ترقی کے خواب کو چین سے جوڑ کر تعبیر پا سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدگی کی نئی سطح پر پہنچیں گے یا پس پردہ سفارت کاری کوئی درمیانی راستہ نکال لے گی۔ وزیراعظم طارق رحمن کی تقریب حلف برداری میں سارک ممالک کے سربراہان کو مدعو کرنا مستقبل کے نقشے کو واضح کرتا ہے۔ پاکستان سے 10 مئی 2025 کی جنگ بری طرح سے ہارے کے بعد بھارت شدید دباؤ میں آ چکا ہے۔ ایسے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کیلئے سارک ممالک کو بھارت کے دباؤ سے نکالنے کا یہ شاندار اور نادر موقع ہے۔ اس لئے آنے والے ہفتے خطے کی سیاست کیلئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔