چوپال میں چپ سائیں سمیت سب براجمان تھے۔ چپ سائیں ا خبار کا مطالعہ کررہے تھے۔ سب لوگ منتظر تھے کہ چپ سائیں قفل توڑیں اور کچھ بات کریں۔۔ تھوڑی دیر کے بعد چپ سائیں نے اخبار سائیڈ پر رکھ دیا ، سب ان کو سوالیہ نظروںسے دیکھنے لگے۔۔ چپ سائیں بولے۔۔ دوستو! اس وقت حالات نجانے کدھر جارہے ہیں کسی کو سمجھ نہیں آرہی۔ اس پر چاچا رشید بولے کیا ہوا سائیں جی!؟ چپ سائیں نے کہا۔۔بھائی عبدالرشید۔۔ ایک طرف ہمارے جوان۔۔ افغانستان کے خلاف سینہ سپر ہیں تو دوسری طرف امریکہ بہادر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران میں رجیم چینج کی بھرپور کارروائی کررہا ہے اور خلیجی ممالک بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔۔ خیر چھوڑیں۔۔ دوستو! میں آج جمہوریت، قومی سالمیت اور عالمی بساط کے حوالے سے کچھ بات کروں گا۔
چوپال کے دوستو!کسی بھی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت محض باڑوں اور فوج سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے ایک مستحکم سیاسی نظام اور عوامی تائید کی طاقت کارفرما ہوتی ہے۔ جمہوریت وہ واحد نظام ہے جو رنگ، نسل اور زبان کے فرق سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کو ریاست کے نظم و نسق میں شراکت دار بناتا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ریاست کے فیصلے ان کی مرضی اور بہتر مستقبل کے لیے کیے جا رہے ہیں، تو وہ ملکی سا لمیت کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب فیصلے بند کمروں میں چند افراد کی مرضی سے ہوں، تو ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا ہوتی ہے۔ صاحبو! اگر تاریخ کی ورق گردانی کریں تو تاریخ عالم کے حالیہ صفحات ان ریاستوں کے لہو سے رنگین ہیں جنہوں نے جمہوری عمل کو نظر انداز کیا۔ عراق ایک طاقتور فوجی قوت تو تھا، لیکن وہاں عوامی مینڈیٹ اور سیاسی اداروں کی کمی تھی۔ جب بین الاقوامی سازشوں نے سر اٹھایا، تو اندرونی طور پر کھوکھلا نظام عوام کو متحد نہ کر سکا اور ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ شام اور لیبیا بھی آمرانہ طرز حکومت کا شکار تھے۔ یہاں سیاسی مکالمے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں اٹھنے والی تحریکوں نے خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی۔
دوستو! ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے۔ جمہوریت ہی وہ واحد عمل ہے جو قیادت کو فلٹر کرتا ہے اور بہترین ذہنوں کو سامنے لاتا ہے۔ آج کے دور میں جب عالمی بساط پر نئی چالیں چلی جا رہی ہیں، پاکستان کو ایسی ہی سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے جو ملک کو داخلی خلفشار سے نکال کر ایک باوقار مقام دلا سکے۔پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اسے ہمیشہ عالمی طاقتوں کی نظروں میں رکھتی ہے۔ دشمن ہماری داخلی کمزوریوں، معاشی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام کو ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔بھائیو! میں اور آپ سب ہمسایہ ملک کی شاطرانہ چالوں سے خوب واقف ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مجھے چلتے چلتے اس حوالے سے بھی بات کرنی چاہئے۔ بھائیو! بھارتی وزیراعظم مودی کی اسرائیل سے قربت اور نیتن یاہو کے جارحانہ بیانات محض اتفاقیہ نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسے نظریاتی گٹھ جوڑ کا حصہ ہے جو خطے میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔اس خطرناک گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنے گھر کی صفائی کرنا ہوگی۔ ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، آئین کی بالادستی کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہوگا۔
بھائیو !پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے سب سے بڑا چیلنج عرب ممالک کے باہمی اختلافات ہیں۔ سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان مفادات کی جنگ نے پاکستان کو ایک کٹھن مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔اس کا واحد حل مکمل معاشی خودمختاری ہے۔ جب تک ہم معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوں گے، ہماری خارجہ پالیسی آزاد نہیں ہو سکتی۔ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہے، اور سیاسی استحکام صرف جمہوریت سے ممکن ہے۔
پاکستان کی بقا کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی داخلی کمزوریوں کا ادراک کریں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ پارلیمنٹ کو تمام پالیسی سازی کا مرکز ہونا چاہیے قانون کی حکمرانی اور آئین کا احترام ہی ہمیں عالمی سازشوں سے بچا سکتا ہے۔اگر ہم جمہوری عمل کو تسلسل کے ساتھ چلنے دیں، تو مودی اور نیتن یاہو جیسے دشمنوں کی کوئی بھی سازش ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
نتھو اور پھتوآج چلتے چلتے تھوڑی تلخ اور شیریں گفتگو کروں گا جو حاصل کلام ہوگا۔ نتھو، پھتو، بھائی رشید ، بھائی عتیق ،ہم ایک ایسی قوم ہیں جو مودی اور نیتن یاہو کی سازشوں پر تو گھنٹوں بحث کر سکتے ہیں، لیکن اپنے گھر کے ٹوٹے ہوئے دروازے کو ٹھیک کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔اگر ہمیںدروازے پر لگی تختی میں غلطی نکالنے کا کہاجائے تو سب اس میں لگ جائیں گے کہ یہ غلطی ہے اور پھر نشانات کی بھرمار ہوگی لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اس کو درست کردیا جائے تو شائد اکا دکا لوگ ہی ملیں گے۔۔۔ ہم مریخ پر پہنچنے کے خواب تو دیکھتے ہیں، لیکن ہمارا اپنا سیاسی قبلہ اکثر غلط سمت میں ہوتا ہے۔ بچو، یہ یاد رکھو اگر مالی کا کام پودوں کو پانی دینا ہے تو وہ پودوں کو پانی ہی دے، یہ نہ کہے کہ مجھے آج باورچی کا بھی کام کرنا چاہئے۔۔۔ یہ سب ایک آدھ دن تو ہوسکتا ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ” جس کا کام اسی کو ساجھے ورنہ۔۔“ بھائیو! یہ بہت گہری بات ہے لیکن موقع محل کے مطابق عرب ممالک کے اختلافات میں ہمارا کردار کسی ''منصف'' کا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایسے ''قریبی رشتہ دار'' کا جو ہر شادی پر کسی ایک گروپ کی طرف سے لڑنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اگر ہم نے جمہوریت کو صرف نام کی حد تک رکھا اور عوامی قیادت کو دیوار سے لگاتے رہے، تو پھر ہمیں کسی ''بیرونی دشمن'' کی ضرورت نہیں پڑے گی، ہم خود ہی اپنے لیے کافی ہوں گے۔ لیکن اگر ہم نے آئین کی بالادستی قائم کر لی دور اندیشی اختیار کی، تو یقین مانیے، مودی اور نیتن یاہو کی جوڑی صرف اخباروں کے بیانات تک محدود رہ جائے گی اور پاکستان کا وقار ہمالیہ سے بھی بلند ہوگا۔یاد رکھیے ''جمہوریت وہ واحد نظام ہے جس میں آپ کو اپنی مرضی کا حکمران منتخب کرنے کا حق ملتا ہے، اور پھر اس کے انتخاب پر پچھتانے کی آزادی بھی! لیکن یہی آزادی ہمیں ایک دن وہ لیڈر دے گی جو ملک کی تقدیر بدل دے گا۔۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔