دنیا کی قومیں صرف اپنی فوجی طاقت، معیشت یا بلند و بالا عمارتوں سے نہیں پہچانی جاتیں، بلکہ ان کے بارے میں دنیا کے ذہن میں بننے والا تاثر بھی ان کی طاقت کا ایک اہم پیمانہ ہوتا ہے۔ بعض ملک وسائل میں کمزور ہوتے ہوئے بھی احترام پاتے ہیں، جبکہ کچھ ممالک بے شمار صلاحیتوں کے باوجود ایک خراب عالمی امیج کی قیمت ادا کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان بھی کئی دہائیوں تک ایک ایسی ہی آزمائش سے گزرتا رہا؛ ایک ایسا ملک جس کے بارے میں دنیا کے مختلف حصوں میں اکثر سوالیہ نشان موجود رہتا تھا۔ ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ بیرونی دنیا میں پاکستان کا تعارف کبھی سیاسی افراتفری، کبھی دہشت گردی، کبھی معاشی بحران اور کبھی داخلی انتشار کے آئینے میں دیکھا گیا۔ ہم ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود وہ وقار حاصل نہ کر سکے جو دنیا کی باوقار قوموں کا نصیب بنتا ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اکثر ایسے سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا جن میں حیرت کم اور شک زیادہ شامل ہوتا تھا۔ بعض اوقات محسوس ہوتا تھا کہ جیسے دنیا ہمیں ایک سنجیدہ ریاست کے بجائے کسی غیر یقینی کیفیت میں جکڑی قوم سمجھتی ہو۔ یہ کوئی کتابی بات نہیں، میں نے خود اس رویے کو محسوس کیا ہے۔
چند برس قبل دبئی میں ایک ایسے ہوٹل میں قیام کا موقع ملا جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ ہوٹل انتظامیہ نے مختلف قومیتوں کے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے خصوصی رعایتوں کے ساتھ ایک منفرد ماحول ترتیب دیا تھا۔ وہاں شام کے کھانوں، غیر رسمی نشستوں اور میل جول کے دوران مختلف ممالک کے افراد ایک دوسرے سے متعارف ہوتے، اپنے معاشروں، تہذیبوں اور ریاستی نظاموں پر گفتگو کرتے۔
ابتدائی دنوں میں جب میں فخر سے کہتا کہ “میں پاکستان سے ہوں” تو بعض چہروں پر ایک عجیب سا توقف محسوس ہوتا۔ گفتگو رسمی ہو جاتی، دلچسپی محدود رہتی اور لوگ جلد کسی اور طرف متوجہ ہو جاتے۔ میں حیران بھی ہوتا اور دل کے کسی کونے میں ایک چبھن بھی محسوس کرتا۔ آخر میں وہی انسان ہوں، میرا لہجہ بھی وہی، تعلیم بھی وہی، گفتگو بھی وہی—پھر صرف “پاکستان” کا نام آتے ہی رویے کیوں بدل جاتے ہیں؟۔
ایک روز محض مشاہدے کے لیے میں نے اپنا تعارف ایک خلیجی ملک سے منسوب کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر ماحول بدل گیا۔ لوگ قریب آ کر باتیں کرنے لگے، دلچسپی لینے لگے، سوال پوچھنے لگے، دوستی کا ہاتھ بڑھانے لگے۔ تب پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ ایک ملک کا عالمی امیج محض سفارتی اصطلاح نہیں، بلکہ ایک خاموش سرمایہ ہوتا ہے۔ایسا سرمایہ جسے شاید کھربوں خرچ کر کے بھی مکمل طور پر نہیں خریدا جا سکتا۔یہ احساس میرے دل میں برسوں تک موجود رہا کہ آخر کب پاکستان کو وہ عزت ملے گی جس کا وہ حق دار ہے؟ کب دنیا ہمیں ایک غیر یقینی ریاست کے بجائے ایک سنجیدہ، باوقار اور فیصلہ ساز قوم کے طور پر دیکھے گی؟۔
آج، کئی حوالوں سے، محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں دنیا کی نظر میں تبدیلی کا ایک عمل شروع ہوا ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنے سفارتی وقار، ریاستی استحکام اور عالمی اعتماد کی بحالی کی سمت میں اہم پیش رفت کی ہے۔ اس بدلتے منظرنامے میں وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی سرگرمیوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے شاندار کردار پر بحث ہوتی رہی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کے مو¿قف کو زیادہ سنجیدگی سے سنا جانے لگا ہے اور یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان صرف ردِعمل دینے والی ریاست نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے واضح سمت رکھنے والا ملک بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
ریاست کو یہ اصول اپنانا ہوگا کہ کسی بھی گروہ، جماعت یا دباو¿ کے سامنے قومی مفاد کو کمزور نہ ہونے دیا جائے۔میں ہمیشہ فخر سے بتاتا ہوں کہ تین ستمبر 2023 کو آرمی چیف سید عاصم منیر سے لاہور میں4 گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔جب ہم چائے کے لئے جارہے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ اللہ نے ایسے ہی آپ کو آرمی چیف نہیں بنا دیا۔وہ آپ سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔مجھے خوشی ہے کہ ان کے بارے میں یہ پیشگوئی سب سے پہلے میں نے کی۔مجھے ان کا سنایا شعر یاد آرہا ہے :
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
آج معرکہ حق اور ایران امریکہ معاہدے کی صورت میں فیلڈ مارشل کی شاندار خدمات سامنے آ چکی ہیں تاہم داخلی سطح پر ان کی توجہ اب کاروباری امن و سہولت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔احتجاج ہر معاشرے کا حق ہے، مگر ایسا احتجاج جو نظام کو مفلوج کر دے، معیشت کو نقصان پہنچائے، عام آدمی کی زندگی کو یرغمال بنا لے، وہ آخرکار قوموں کو کمزور ہی کرتا ہے۔اس سے بھی بڑا مسئلہ اندرونی اصلاحات کا ہے۔ پاکستان اگر واقعی معاشی طور پر مضبوط ہونا چاہتا ہے تو صرف بیانات، تقریروں اور امیدوں سے کام نہیں چلے گا۔ ہمیں بیوروکریسی کی تطہیر کرنا ہوگی، بدعنوانی کے ڈھانچوں کو توڑنا ہوگا، نااہلی کے بت گرانے ہوں گے اور ایک ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں کام کرنے والا آگے آئے اور رکاوٹ ڈالنے والا پیچھے ہٹے۔پاکستان کی قابل فخر فوج دنیا کی پانچویں بڑی عسکری طاقت ہے، پاکستان ایٹمی قوت ہے لیکن اب ہمیں معاشی طاقت بننا ہے، معاشی سپر پاور۔اس کے لئے بیوروکریٹس نہیں بزنس میں نام بنانے والوں کی مشاورتی کونسل بنائی جائے۔
کاروباری برادری کو اعتماد دینا ہوگا۔ صنعتکار، تاجر اور سرمایہ کار اگر ریاستی فیصلوں میں سنے جائیں تو پاکستان معاشی طور پر کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں جذباتی نعروں سے نہیں، معاشی منصوبہ بندی، استحکام اور نظم سے ترقی کرتی ہیں۔ پاکستان شاید امریکہ یا چین جیسی عالمی سپر پاور نہ بن سکے، مگر ایک باوقار، خوددار اور معاشی طور پر مستحکم ملک ضرور بن سکتا ہے۔ ہمارے پاس نوجوان آبادی ہے، زرخیز زمین ہے، جغرافیائی اہمیت ہے، ایٹمی صلاحیت ہے اور سب سے بڑھ کر ایک زندہ قوم ہے جس نے ہر بحران میں خود کو سنبھالا ہے۔
آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر اجتماعی وقار کے سفر میں شریک ہوں۔ اگر ریاستی استحکام، معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی بہتری اور قومی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی تو وہ دن دور نہیں جب دنیا پاکستان کو شک کی نگاہ سے نہیں بلکہ احترام کی نظر سے دیکھے گی۔ قوموں کی تقدیر بدلنے میں کبھی کبھی ایک لمحہ، ایک قیادت اور ایک درست سمت فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ شاید پاکستان آج اسی موڑ پر کھڑا ہے۔