طویل مذاکرات کے بعد ایران امریکہ امن معاہدہ 19جون کو سوئٹزر لینڈ کی جھیل لیوکیرن کے اوپر بلندی پر واقع انتہائی دلکش برگن اسٹاک ریزورٹ میں پاکستان کی میزبانی میں ہو گا ۔ ایران امریکہ اسرائیل جنگ کا جو نتیجہ نکلا ہے تو اس پر اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
یہ جنگ تو در حقیقت ایران کی فتح اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کی اعلیٰ صلاحیتیوں کا پوری دنیا میں لوہا منوانے کے لئے تھی ۔کیا کسی کو یہ یقین تھا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل چاروںجانب سے مل کر یلغار کریں گے ۔ پورا یورپ جو پہلے بھی اس کے خلاف تھا تو اس جنگ کے شروع دنوں میں بھی پورا یورپ اور دنیا کے چند ممالک کو چھوڑ کر پوری دنیا صرف اخلاقی نہیں بلکہ امریکہ کی خوشنودی کے لئے عملی طور پر بھی اس کے ساتھ تھی کہ جس کی واضح مثال عرب ممالک کے ساتھ ساتھ برطانیہ کا ایران کے خلاف بحر ہند میں اپنے جزیرے ڈیگو گارشیا میں اڈے دینا ہے ۔ صورت حال یہ تھی کہ ایک طرف امریکہ ، دفاعی میدان کی انتہائی طاقتور ریاست اسرائیل اور عرب ریاستوں میں امریکن اڈے بھی پوری طرح اس کے خلاف استعمال ہو رہے تھے ۔ جنگ سے پہلے ایک بین الاقوامی سازش کے تحت ایران میں رجیم چینج کرنے کے لئے ملک کے طول و عرض میں مظاہرے کروائے گئے اور بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سے زائد بار اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وہ کردوں سے خوش نہیں کہ انھوں نے قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی ۔جنگ کے پہلے دن ہی ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا اور یہ سمجھا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر جناب آیت اللہ خامینائی کی شہادت کے بعد ایرانی عوام موجودہ رجیم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کے لئے ٹرمپ بہادر نے باقاعدہ ایرانی عوام سے اپیلیں بھی کیں لیکن اس کا الٹا اثر ہوا اور آیت اللہ خامینائی کی شہادت نے ایران دشمن قوتوں کی توقعات کے بر عکس ایرانی عوام کو متحد کر دیا ۔ ایران کی جانب سے جب غیر متوقع طور پر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جانے لگا تو پھر غیر محسوس طریقے سے جنگ کی صورت حال میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی اور وہ ایران کہ جس کے متعلق جارح قوتیں یہ گمان رکھتی تھیں کہ وہ دو چار دنوں میں ڈھیر ہو جائے گا اور شکست تسلیم کرتے ہوئے اپنا سر جھکا دے گا وہی ایران پوری دنیا میں ایک فاتح کے طور پر سامنے آنے لگا اور پھر پوری دنیا اور خود امریکہ اور اسرائیل کے اندر ایران کی فتح اورامریکہ کی شکست کی باتیں ہونے لگی اور ایران جس قدر تباہی مچا رہا تھا تو امریکہ بہادر کو جنگ بندی کرنے میں ہی عافیت نظر آئی ۔
یہ جنگ پاکستان کے پڑوس میں تھی اور اس کے اثرات پوری دنیا اور خاص طور پر پاکستان پر بھی پڑ رہے تھے تو اب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس جنگ کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ یہ جنگ تو کسی اور کے درمیان ہے لیکن اس جنگ میں ایک ثالث کے طور پر پاکستان ایک فاتح کی حیثیت سے دنیا بھر میں اپنا نام روشن کرے گا ۔ کچھ بد خواہوں نے اس حوالے سے پاکستان اور پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے خلاف جی بھر کر اپنے بغض کا اظہار بھی کیا ۔ 11اور12اپریل کو جب مذاکرات کے پہلے راﺅنڈ میں بات نہیں بنی تو پاکستان مخالف قوتوں کے دل خوشی سے جھوم اٹھے ۔ سوچنے کی بات یہ تھی کہ یہ کوئی معمولی ثالثی نہیں تھی بلکہ یہ تو ایک قسم کی دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک طرح سے منی ورلڈ وار تھی کہ جس کو ثالثی کے ذریعے ختم کروانا اور مستقبل کے لئے ایک جامع اور پائیدار معاہدہ کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امن معاہدے کی تاریخ کے اعلان سے پہلے اور بعد میں خود ٹرمپ ایک سے زائد بار اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ اس معاہدے پر اتفاق رائے کے لئے سعودی عرب ، کویت ، متحدہ عرب امارات ، قطر ، بحرین ، اردن ، ترکیہ ، عمان اور اسرئیل سمیت دیگر کئی ممالک سے گفتگو ہوتی رہی اور جب تمام ممالک میں اتفاق رائے ہو گیا تو اس کے بعد جا کر کہیں معاہدے کا مسودہ تیار ہوا اور اب خدا نے چاہا تو 19جون کو اگر کوئی گڑ بڑ نہ ہوئی تو اس پر دستخط ہو جائیں گے ۔
کیا ایک درجن کے قریب متحارب فریقین میں کسی مسودے پر اتفاق رائے کروانا کوئی آسان کام تھا لیکن پاکستان کی قیادت جس میں خاص طور پر فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر صاحب کی انتھک محنت اور کاوشیں شامل ہیں اس مشکل کام کو کر دکھایا ۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو پوری دنیا نے کھلے دل سے خراج تحسین بھی پیش کیا ہے ۔ انسان نیک نیت ہو تو خدائے بزرگ و برتر کی ذات اسے اس کی محنت کا صلہ ضرور دیتی ہے ۔ فیلڈ مارشل صاحب نے جس طرح جانفشانی سے اس ثالثی کی کامیابی کے لئے دن رات ایک کیا اور اس خطے بلکہ پوری دنیا کو جنگ کے شعلوں سے نجات دلوائی ہے ۔ بد خواہوں کی خواہشات بد کے بر عکس خدائے پاک نے انھیں جو عزت عطا کی ہے اور جس طرح پاکستان کا نام روشن کیا ہے تو امن نوبل انعام کے حقیقی حق دار تو اب فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف اور محسن نقوی ہیں ۔
مرے چارہ گر کو نوید ہو ، صف دشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر ، وہ حساب آج چکا دیا